صرف اثاثوں کی فہرست سے جرم ثابت نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے منشیات فروشی کے مجرم کے اثاثے قرقی کی نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی اپیل مستردکردی

صرف اثاثوں کی فہرست سے جرم ثابت نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے منشیات فروشی کے مجرم ...
صرف اثاثوں کی فہرست سے جرم ثابت نہیں ہوتا،سپریم کورٹ نے منشیات فروشی کے مجرم کے اثاثے قرقی کی نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی اپیل مستردکردی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے منشیات فروشی کے مجرم کے اثاثے قرقی کیلئے نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ کی اپیل مسترد کردی،چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہائیکورٹ نے درست فیصلہ دیا ہے،صرف اثاثوں کی فہرست سے جرم ثابت نہیں ہوتا،بتاناہوتا ہے ملزم نے منشیات فروخت کرکے زمین یا اثاثے بنائے ۔تفصیلات کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے منشیات فروشی کے مجرم قادرکے اثاثے قرقی کیلئے نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ کی اپیل پرسماعت کی ،دوران سماعت ہائیکورٹ نے درست فیصلہ دیا ہے،صرف اثاثوں کی فہرست سے جرم ثابت نہیں ہوتا،بتاناہوتا ہے ملزم نے منشیات فروخت کرکے زمین یا اثاثے بنائے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی کی جائیدادکاپتہ چلاناہی ضروری نہیں،ممکن ہے یہ حلال کی کمائی سے پیسہ بنایا ہو،نیب نارکوٹکس نے کہا کہ ملزم نے حلال کمائی سے پیسہ بنانے کاکوئی ثبوت نہیں دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ بارثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے ،عدالت نے منشیات فروشی کے مجرم کے اثاثے قرقی کیلئے نارکوٹکس کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ کی اپیل مسترد کردی۔واضح رہے کہ مجرم کونائن سی کے تحت سزاسنائی گئی تھی ،ٹرائل کورٹ نے مجرم کے 7 بینک اکاؤنٹس ضبط کرنے کاحکم دیاتھا۔

مزید :

قومی -علاقائی -اسلام آباد -