کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا گیا

کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا گیا
کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا گیا

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن )کالعدم جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کو سی ٹی ڈی نے گجرانوالہ جاتے ہوئے گرفتار کر لیاہے،ترجمان پنجاب حکومت نے حافظ سعید کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم جماعت الدعوٰۃ کے سربراہ کو چندہ اکٹھا کرنے اور داخلی معاملات پر گرفتار کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی ’’جیونیوز‘‘کے مطابق حافظ سعید کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں جس میں ضمانت قبل اَز گرفتاری کے لیے وہ لاہور سے انسداد دہشت گردی گوجرانوالہ کی عدالت جارہے تھے جہاں انہیں سی ٹی ڈی پنجاب نے گوجرانوالہ کی حدود میں داخل ہونے پر گرفتار کرلیا۔دوسری طرف نجی ٹی وی چینل ‘‘ہم نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ حافظ سعید کو گرفتاری کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ حافظ سعید نے  گزشتہ روز ایک مقدمے میں ضمانت قبل ازگرفتاری بھی کرائی  تھی۔حافظ سعید کو گرفتاری کے بعد انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا ، جہاں ان کا سات روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظورکرلیا گیا۔

جماعت الدعوۃ کے سربراہ کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئےسینئر صحافی اور اینکر پرسن محمد مالک نے کہا کہ ریاست کی جانب سے حافظ سعید کی گرفتاری ایک اچھا فیصلہ ہے، اداروں کے پاس ایک لمبی فہرست موجود ہے امید کرتا ہوں کہ یہ اچھا آغاز ثابت ہو۔انہوں نے کہا کہ اب ہم دنیا کو دھوکہ نہیں دے سکتے،ماضی میں ایسا ہوتا آیا ہے کہ ہم مفادات کی بنیاد پر لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے آئے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے احکامات کی روشنی میں اقدامات کیے ہیں جس کے تحت جماعت الدعوۃ کی تمام ذیلی شاخوں کو بھی کالعدم قرار دیا گیا ہے اور سی ٹی ڈی نے حال ہی میں دہشت گردوں کی مالی معاونت پر پانچ کالعدم تنظیموں کیخلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج کیے تھے،ان افراد پر ٹرسٹ کے نام پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے کیلئے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں جبکہ وزارت داخلہ نے جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کو 21 فروری 2019 کو کالعدم قرار دیا تھا۔ دونوں تنظیمیوں کے زیر انتظام  پنجاب ،سندھ  اور خیبر پختونخوا میں چلنے والے مدارس اور فلاحی ادارے بھی صوبائی حکومتوں  نے اپنی تحویل میں لے لیے تھے۔

مزید :

قومی -