40 سال پہلے کراچی یونیورسٹی پریمیم یونیورسٹی سمجھی جاتی تھی ،اب تو لگتا ہے جامعہ کراچی کے ٹھیک ہونے کی کوئی گنجائش نہیں،سپریم کورٹ

40 سال پہلے کراچی یونیورسٹی پریمیم یونیورسٹی سمجھی جاتی تھی ،اب تو لگتا ہے ...
40 سال پہلے کراچی یونیورسٹی پریمیم یونیورسٹی سمجھی جاتی تھی ،اب تو لگتا ہے جامعہ کراچی کے ٹھیک ہونے کی کوئی گنجائش نہیں،سپریم کورٹ

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسرکی بطور ڈائریکٹر شیخ زید اسلامک سینٹرتعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت کے دورا ن جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ40 سال پہلے کراچی یونیورسٹی پریمیم یونیورسٹی سمجھی جاتی تھی ،اب تو لگتا ہے جامعہ کراچی کے ٹھیک ہونے کی کوئی گنجائش نہیں۔تفصیلات کے مطابق جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بنچ نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں خاتون ایسوسی ایٹ پروفیسرکی بطور ڈائریکٹر شیخ زید اسلامک سینٹرتعیناتی کیخلاف درخواست کی سماعت کی،درخواست گزار نے عدالت کے رو بروموقف اختیارکیا کہ ایسوسی ایٹ پروفیسرکوغیرقانونی طور پر جون 2016 میں ڈائریکٹر تعینات کیا گیا،وکیل جامعہ کراچی نے کہا کہ خاتون قائم مقام ڈائریکٹر ہیں نئے ڈائریکٹر کی تعیناتی کیلئے اشتہار دیا ہے،عدالت نے وکیل جامعہ کراچی کی طرف سے دی گئی ،جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں کی وجہ سے جامعہ کراچی کا نام پورے ملک میں بدنام ہے،اسی طرح کے اقدامات کی وجہ سے اب جامعہ کراچی کو پورے ملک میں اچھا نہیں سمجھا جاتا، یہ ساری گڑبڑ کسی نہ کسی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی جاتی ہے، جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ 40 سال پہلے کراچی یونیورسٹی پریمیم یونیورسٹی سمجھی جاتی تھی ،اب تو لگتا ہے جامعہ کراچی کے ٹھیک ہونے کی کوئی گنجائش نہیں،عدالت نے وکیل جامعہ کراچی کی طرف سے دی گئی دستاویزات درخواست گزار کودینے کی ہدایت کردی عدالت نے فریقین کے وکلا کو22 جولائی کو دلائل کے لیے تیاری کرکے آنے کی ہدایت کردی۔

مزید :

قومی -علاقائی -سندھ -کراچی -