ون پارٹی رول آمریت کا دوسرانام،ملک میں ایک جماعت کی بالادستی کی کوشش ملکی استحکام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو گی:سینیٹر ساجد میر

ون پارٹی رول آمریت کا دوسرانام،ملک میں ایک جماعت کی بالادستی کی کوشش ملکی ...
ون پارٹی رول آمریت کا دوسرانام،ملک میں ایک جماعت کی بالادستی کی کوشش ملکی استحکام کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو گی:سینیٹر ساجد میر

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ ملک میں ون پارٹی رول قائم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں،رانا ثنا اللہ کی گرفتاری، شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں پر الزامات کا مقصد ون پارٹی رول کا قائم کرنا ہے،ملک میں ایک جماعت کی بالادستی کی کوشش آمریت قائم کرنے کے مترادف ہے،عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جیت بڑی کامیابی ،بھارتی جاسوس کو قانون کے مطابق پھانسی ملنی چاہیے ۔

دورہ کینیڈا سے واپسی پر علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بالاد ستی کے لیے ضروری ہے کہ تمام بڑی جماعتوں کا وجود خوش دلانہ طور پر تسلیم کیا جائے، پاکستان کے وفاق اور اسکے استحکام کے لیے تمام جماعتوں اور اکائیوں کا وجود ناگزیر ہے،اگر اس سوچ کو پروان چڑھایا گیا تو تو ملک کے استحکام کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ،ون پارٹی رول آمریت کا دوسرانام ہے، یہ سوچ قومی اتحاد اور اس کے وجود کے لیے ہرگز فائدہ مند نہیں،وفاق اور مختلف الخیال جماعتوں اور اکائیوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا، اس میں سب جماعتوں کی خوش دلانہ شرکت ضروری ہے۔

حافظ سعید کی گرفتاری کے متعلق ان کا کہنا تھاکہ پہلے تو انکی بڑی سرپرستی کی جاتی تھی،اب انہیں بیرونی دباؤ میں گرفتار کیا گیا ہے،یہ ایف اے ٹی ایف کی شرائط پوری کی جارہی ہیں، پاکستان کی کوشش ہے کہ ہم دہشت گردی کے حوالے سے گرے لسٹ سے بلیک لسٹ میں نہ چلے جائیں،حافظ سعید کی گرفتاری اسی سلسلے میں کی گئی ہے۔ پروفیسر ساجد میر نے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیوز کے متعلق کہا کہ اب معاملہ عدالت میں ہے مگر میرے نزدیک جج ارشد ملک کا بیان حلفی اعتراف جرم کے متراد ف ہے،سوال یہ ہے کہ وہ رائیونڈ میاں نوازشریف کے پاس کیا لینے گئے؟ کیا وہاں سودا طے نہیں ہوا؟ساری کہانی کو یہی بات مشکوک بنا دیتی ہے ایک حاضر سروس جج نام نہاد ملزم کے گھر کیسے چلا گیا؟ اکیلی یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ دال میں کالا ضرور ہے ۔انہوں نے عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کی طرف سے رہائی کی درخواست کے مسترد ہونے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جیت بڑی کامیابی ہے ،بھارت کو عالمی عدالت میں منہ کی کھانا پڑی،بھارتی جاسوس کو قانون کے مطابق پھانسی ملنی چاہیے ۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -