6فٹ لمبا،داڑھی والا شخص آدمی ہے یا عورت ؟برطانوی ڈاکٹر آدمی بول کے بری طرح پھنس گیا

6فٹ لمبا،داڑھی والا شخص آدمی ہے یا عورت ؟برطانوی ڈاکٹر آدمی بول کے بری طرح ...
6فٹ لمبا،داڑھی والا شخص آدمی ہے یا عورت ؟برطانوی ڈاکٹر آدمی بول کے بری طرح پھنس گیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ایک ڈاکٹر کو دوران انٹرویو سوال پوچھا گیا کہ اگر آپ کے پاس ایک مرد آئے جس کا قد 6فٹ ہو اور اس کی لمبی داڑھی بھی ہو اور وہ آپ سے کہے کہ آپ اسے عورت سمجھیں اور مونث الفاظ سے ہی پکاریں تو کیا آپ ایسا کریں گے؟ اس سوال کا اس ڈاکٹر نے ایسا جواب دیا کہ اسے نوکری سے ہی نکال دیا گیا۔ میل آن لائن کے مطابق یہ ڈاکٹر ڈیوڈ میکریتھ تھے جو 22سال سے ڈاکٹری کے پیشے سے وابستہ تھے اور اب برطانیہ کے ڈیپارٹمنٹ فار ورک اینڈ پینشنز میں نوکری کے لیے گئے تھے۔ انہیں اس ڈیپارٹمنٹ میں ’بینیفٹس اسیسر‘ (Benefits assessor)کے عہدے پر رکھا گیا تھا۔ یہ نوکری حاصل کرنے کے بعد ان کی 2ہفتے کی ٹریننگ شروع ہوئی اور چوتھے روز ان سے یہ فرضی سا سوال پوچھ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ڈیوڈ نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ”میں 6فٹ کے لمبے تڑنگے داڑھی والے مرد کو کبھی عورت کہہ کر نہیں پکاروں گا، خواہ وہ اسی شناخت سے پکارے جانے کا خواہش مند ہو، کیونکہ میں ایک مذہبی عقائد کو اولین رکھتا ہوں اور مسیحی ہونے کے ناتے میں مرد ہو کر عورت کہلوانے کے خلاف ہوں۔“ ڈاکٹر ڈیوڈ کی طرف سے یہ جواب پا کر ڈیپارٹمنٹ کے حکام نے ان پر صنفی امتیاز کا الزام عائد کر دیا اور انہیں 4دن بعد ہی نوکری سے فارغ کر دیا۔

اس معاملے پر ڈاکٹر ڈیوڈ کا کہنا تھا کہ ”میں نے 22سال این ایچ ایس میں بطور ڈاکٹر کام کیا ہے اور اس دوران 1لاکھ 20ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا ہے۔ ان میں ہر نسل اور ہر مذہب کے لوگ شامل تھے، ان میں اپنی جنس تبدیل کرانے والے بھی تھے اور ہم جنس پرست بھی، میں نے کبھی کسی کا علاج کرنے سے انکار نہیں کیا۔ مگر یہ ایک فرضی سوال تھا اور یہاں میں اپنے مذہبی عقائد کو سامنے رکھ کر جواب دینے کا حق رکھتا تھا مگر اس فرضی سوال کے جواب پر ہی مجھے نوکری سے نکال دیا گیا اور اب مجھے خدشہ ہے کہ باقی زندگی میں بطور ڈاکٹر کہیں بھی ملازمت نہیں کر سکوں گا۔“

واضح رہے کہ ڈاکٹر ڈیوڈ کو یہ جواب دینے پر صرف نوکری سے ہی نہیں نکالا گیا بلکہ ان کے خلاف برمنگھم کے ایک امپلائمنٹ ٹربیونل میں مقدمہ بھی چل رہا ہے، جس کا فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔ اگر ان پر صنفی امتیاز کا الزام ثابت ہو گیا تو ان کے پریکٹس کرنے پر پابندی بھی عائد ہو سکتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -