آج دنیا کی سب سے بڑی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ جاسوسوں پر بھی ویانا کنونشن کا اطلاق ہوتا ہے:سلمان اکرم راجہ

آج دنیا کی سب سے بڑی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ جاسوسوں پر بھی ویانا کنونشن کا ...
 آج دنیا کی سب سے بڑی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ جاسوسوں پر بھی ویانا کنونشن کا اطلاق ہوتا ہے:سلمان اکرم راجہ

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف ماہر قانون سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ  آج دنیا کی سب سے بڑی عدالت نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ جاسوسوں پر بھی ویانا کنونشن کا اطلاق ہوتا ہے،اب کلبھوشن پر ویانا کنونشن کا اطلاق ہوگا اور پاک بھارت کے درمیان 2008 میں ہونے والے معاہدہ ویانا قوانین میں اضافہ کر سکتا ہے لیکن کمی نہیں،وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے حافظ سعید کی گرفتاری ضروری تھی لیکن ریاست کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ثبوت کیا ہیں؟۔

نجی ٹی وی چینل ’’ہم نیوز‘‘ کے پروگرام میں گفتگو  کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ  نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستانی قوانین کے تحت ہی ریویو  ہو گا اور پاکستانی عدالتوں میں ہی ریویو ہو گا ،عالمی عدالت نے یہ کہا ہے کہ  ریویو کس طرح کرنا ہے یہ ہم پاکستانی عدالتوں پر چھوڑتے ہیں ؟لیکن جب تک یہ ریویو نہیں ہو جاتا سزا پر عملدرآمد نہ کرنا ضروری ہے،ہم نے انٹرنیشنل کورٹ میں موقف اختیار کیا کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے ہائی کورٹ میں ریویو ہو سکتے ہیں اور ہم نے وہاں حوالہ دیا تھا پشاور ہائی کورٹ کا جہاں ایک فیصلے میں ملٹری کورٹس کی  ستر ، 74  سزاؤں کو کالعدم قرار دیا تھا،عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پشاور ہائی کورٹ کے اُس فیصلے کا ذکر کیا ہے اور اس کی بنیاد پر ہمارے موقف کو بظاہر قبول کیا ہے  کہ پاکستانی عدالتیں ملٹری کورٹس کے  فیصلوں کے خلاف موثر کردار ادا کر سکتی ہیں ،دوسرا اُنہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ضرورت سمجھے کہ ملٹری کورٹس کے حوالے کوئی کوئی قانون سازی کی جائے تو یہ بھی پاکستان کی صوابدید ہے ،وہ کرے یا نہ کرے ۔

سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف کا یہ کہنا تھا کہ جب جوڈیشل ریویو ہو گا تو  اس ریویو میں اس بات کو مد نظر رکھا جائے گا کہ کلبھوشن کو ویانا کنونشن کے تحت جو حقوق حاصل تھے وہ اس کو نہیں دیئے گئے ،اس کی روشنی میں دیکھا جائے گا کہ یہ ٹرائل جو ہوئی ہے وہ قائم رہ سکتی ہے یا نہیں ؟ان حقوق میں شامل تھا کہ نائب کمیشن کے ذریعے کلبھوشن کی مرضی سے ایک وکیل کھڑا کیا جاتا ،یہ اہم نکتہ ہو گا ہماری عدالت کے سامنے خواہ وہ ہائی کورٹ ہو یا کوئی خصوصی عدالت قائم کی جائے ریویو کے لئے ؟جو ویانا کنونشن کے حقوق ہیں ان کے نہ دینے سے ٹرائل قائم رہ سکتی ہے کہ نہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا کی سب سے بڑی عدالت نے یہ فیصلہ دے دیا ہے کہ جاسوسوں پر بھی ویانا کنونشن کا اطلاق ہوتا ہے ،کلبھوشن پر ویانا کنونشن کا اطلاق ہوگا اور پاک بھارت کے درمیان 2008 میں ہونے والے معاہدہ ویانا قوانین میں اضافہ کر سکتا ہے کمی نہیں،اس فیصلے کا تمام دنیا پر اثڑ ہو گا ۔

ایک سوال کے جواب میں ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف اب ہمارے سامنے کھڑا ہے اور یہ گرفتاری ضروری ہو گئی تھی،وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے حافظ سعید کی گرفتاری ضروری تھی لیکن ریاست کو یہ بھی بتانا ہوگا کہ ثبوت کیا ہیں؟ریاست کو ثابت کرنا ہوگا کہ آٹھ سال میں جو گرفتاری نہیں ہوئی تو آج کن شواہد کی بنیاد پر ہوئی ہے ؟اگر ریاست کے پاس  حافظ سعید کے خلاف نئے شواہد نہ ہوئے تو جیسے ماضی میں حافظ سعید کی ہر دفعہ ضمانت ہوتی رہی ہے، اس کیس میں بھی انہیں ضمانت مل جائےگی۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -