عالمی عدالت نے کس قانون کے تحت کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی؟ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 کیا ہے؟ آپ بھی جانئے

عالمی عدالت نے کس قانون کے تحت کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی؟ویانا کنونشن کا ...
عالمی عدالت نے کس قانون کے تحت کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی؟ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 کیا ہے؟ آپ بھی جانئے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی عدالت انصاف نے ویانا کنوشن کے آرٹیکل 36 کے تحت بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا حق دیا ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان کے بھانجے بیرسٹر حسن نیازی نے اپنے ایک آرٹیکل میں لکھا کہ انڈیا کے پاس عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کے دفاع میں پیش کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا اسی لیے انہوں نے ویانا کنونشن کے آرٹیکل 36 کے بل بوتے پر سارا کیس پیش کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے بتایا کہ ویانا کنونشن کا آرٹیکل 36 ہر اس غیر ملکی ’جس کو کسی ملک میں گرفتار کرلیا گیا ہو ‘کو قونصلر رسائی کا حق دیتا ہے۔ اس قانون میں واضح نہیں ہے کہ یہ کن لوگوں پر لاگو ہوگا اس لیے عمومی طور پر اسے سب کیلئے ہی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں اگر دو ممالک کے مابین کوئی معاہدہ موجود ہو تو عالمی عدالت انصاف اس معاہدے کو مد نظر رکھ کر فیصلہ سناتی ہے۔

پاکستان اور انڈیا نے 2008 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں آرٹیکل 36 کے استثنیٰ کی بات کی گئی تھی۔ اس معاہدے کے تحت جاسوسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں گرفتار ہونے والے شہری قونصلر رسائی کا حق کھودیتے ہیں۔

حسن نیازی کے مطابق پاکستان کے وکیل خاور قریشی نے اپنا کیس اس شاندار طریقے سے عالمی عدالت کے سامنے پیش کیا کہ بھارتی لیگل ٹیم کے چہروں سے مایوسی صاف عیاں تھی، کیس کی سماعت کے دوران بھارتیوں کی مایوسی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے پاکستانی لیگل ٹیم سے ہاتھ ملانے سے بھی انکار کردیا تھا۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -