دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر، خوش آئند آغاز

دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر، خوش آئند آغاز

  

وزیراعظم عمران خان نے دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے مُلک کابہت بڑا ڈیم ہو گا،جو عوام کی تقدیر بدل دے گا، ڈیم کی تعمیر گلگت بلتستان بالخصوص چلاس میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا، چلاس کے لوگوں کو بجلی مفت دی جائے گی۔یہ منصوبہ پچاس سال قبل بنایا گیا، مگر پراجیکٹ پر کام اب شروع ہوا ہے، نوے کی دہائی میں تیل سے بجلی بنانے کے غلط فیصلے کئے گئے،ان غلط فیصلوں نے مُلک کو کمزور کیا، مشکل فیصلے کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، درآمدی ایندھن سے بجلی پیداوار متاثر ہوئی،صنعتیں تباہ ہوئیں ہم نے ماضی میں ڈیم تعمیر نہ کر کے بڑی غلطی کی،ہم نے مستقبل میں ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی ہے،پن بجلی کی پیداوار سے نہ صرف ماحول پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے،بلکہ سستی بجلی پیدا ہو گی،پاکستان اُن دس ممالک میں شامل ہے،جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں،ہم نے اس سے بچنے کے لئے دس ارب درخت لگائے ہیں،ماضی میں صرف الیکشن کے منصوبے بنے۔

دیامر بھاشا ڈیم کا منصوبہ2028-29ء میں مکمل ہو گا، منصوبے سے12لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہو گی،4500میگاواٹ سستی بجلی بنے گی، یہ کثیر المقاصد ڈیم ہے، جس سے آبپاشی کے لئے پانی کے ساتھ ساتھ بجلی بھی دستیاب ہو گی اور سیلاب سے بچاؤ میں بھی مدد ملے گی۔اس ڈیم کی تعمیر سے زیریں جانب واقع تربیلا ڈیم کی عمر میں مزید35سال کا اضافہ ہو جائے گا،غازی بروتھا ڈیم سمیت پن بجلی گھروں کی سالانہ پیداوار پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، ڈیم کی تعمیر کے عرصے میں 16ہزار نوکریاں پیدا ہوں گی، سیمنٹ، سٹیل اور دوسری تعمیراتی صنعتوں کی پیداوار کی کھپت میں اضافہ ہو گا۔ڈیم کی مجموعی لاگت14 ارب ڈالر ہے،ڈیم حصہ ساڑھے آٹھ سال میں مکمل ہو جائے گا اور اگلے سال دو ہائیڈرو پاور جنریشن پلانٹس کی تعمیر کے لئے بین الاقوامی بولیوں کا انتظام کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ بھاشا ڈیم کا افتتاح ماضی میں پانچ بار کیا گیا، پہلی بار کام ہمارے دور میں شروع ہو رہا ہے،80فیصد فنڈز ہم نے فراہم کرنے ہیں، سپریم کورٹ کے پاس ڈیم کے11ارب روپے جمع ہوئے تھے۔

وفاقی وزیر نے بالکل درست کہا کہ ماضی میں ڈیم کی تعمیر کے افتتاح ہوتے رہے،لیکن عملی کام کا آغاز نہ کیا جا سکا، تاہم جو زمینیں ڈیم کی تعمیر سے متاثر ہو رہی تھیں اُن کے مالکان کو زمینوں سے اٹھانا اور معاوضے کی ادائیگی جیسے پیچیدہ امور نپٹانا بھی اگر ڈیم کی تعمیر ہی کا حصہ تصور کئے جائیں تو یہ کام ماضی میں تدریجاً ہوتے رہے۔مالکان اراضی کو ادائیگیوں کے لئے بجٹوں میں رقوم بھی رکھی گئیں، اگر یہ سب امور اب تک نپٹائے نہ گئے ہوتے تو اب ڈیم کی تعمیر کے باقاعدہ افتتاح کی شاید نوبت نہ آتی۔ جنرل پرویز مشرف نے جب وہ ہمہ مقتدر صدر تھے، اعلان کیا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم دونوں بنائیں گے انہوں نے دونوں ڈیموں کی تکمیل کی تاریخیں بھی دی تھیں، لیکن جونہی انہوں نے کالا باغ ڈیم کا اعلان کیا اُن کی کابینہ کے ایک رُکن نے جن کا تعلق سندھ سے تھا،اس کے خلاف خفیہ مہم شروع کر دی۔کابینہ کے رُکن کی مخالفت کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ دو ڈیم تو کیا بناتے، دیامر بھاشا ڈیم کے افتتاح تک ہی محدود رہ گئے۔یوسف رضا گیلانی نے بھی اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں دو بار افتتاح کیا، نواز شریف دور میں بھی ایسا ہوا۔ فیصل واوڈا کے حساب کتاب میں یہ پانچ افتتاح بنتے ہیں، سپریم کورٹ کے اپنے زمانے میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے تو باقاعدہ فنڈ ریزنگ کا آغاز کر دیا تھا، وہ تو اس سلسلے میں اتنے پُرجوش تھے کہ ایک بار کہا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم کی نگرانی کریں گے اور اس کے قریب ہی جھگی ڈال کر رہیں گے،لیکن یہ سب تمثیلاتی گفتگو تھی،کیونکہ جب سے وہ رخصت ہوئے ہیں ڈیم کے متعلق اُن کے خیالات سے مستفید ہونے کا قوم کو موقع نہیں ملا، اب افتتاحی تقریب میں بھی وہ کہیں نظر نہیں آئے اور نہ کوئی ذکر اذکار ہوا۔ بہرحال اُن کا جمع کردہ فنڈ جس میں نصف سے زائد عطیات سرکاری اداروں ہی نے فراہم کئے تھے اب ڈیم کی تعمیر پر صرف ہو گا، جس کی کل رقم گیارہ ارب روپے ہے یعنی اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے

اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ہائیڈل بجلی اب بھی سستی ترین ہے اور دیامر بھاشا ڈیم سے جو بجلی بنے گی اس کی لاگت تین روپے فی یونٹ کے لگ بھگ ہو گی اس حساب سے تو ترجیحی طور پر بجلی پانی ہی سے بننی چاہئے،لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں تربیلا ڈیم کے بعد کوئی بڑا ڈیم ایسا نہیں بن سکا، جس سے زرعی مقاصد کے لئے پانی اور بجلی بیک وقت حاصل ہو،غازی بروتھا ڈیم ضرور بنا، لیکن یہ صرف پاور پراجیکٹ ہے، جس سے سستی بجلی حاصل ہوتی ہے اس کی پیداواری لاگت بھی یہی کوئی تین روپے یونٹ ہو گی،لیکن گھریلو صارفین جو بجلی خرچ کرتے ہیں اس کی ادائیگی بعض صورتوں میں 20روپے فی یونٹ سے بھی زیادہ ہے، کمرشل اور صنعتی صارفین کو اس سے بھی زیادہ مہنگی بجلی خریدنا پڑتی ہے، وجہ اس کی یہ ہے کہ مہنگے درآمدی ایندھن سے مہنگی تھرمل بجلی بنتی ہے،جو بالآخر صارفین کو گراں نرخوں پر خریدنی پڑتی ہے۔انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کے ساتھ مہنگی بجلی کے جو معاہدے کئے گئے اور جن کی جانب وزیراعظم نے اپنی تقریر میں بھی اشارہ کیا وہ پاکستانی معیشت کا مستقل روگ بن چکے ہیں ان معاہدوں پر نظرثانی کی جو کوششیں ہوئیں وہ ناکام ثابت ہوئیں، اس سلسلے میں تازہ ترین اقدام خود موجودہ حکومت کرنا چاہتی تھی اور چند دن تک اس سلسلے میں خاصی شو اِشوری رہی،لیکن پھر اچانک یہ معاملہ پُراسرار طور پر دب گیا۔ اِس دوران البتہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کی جانب سے چند اشتہارات سامنے آئے،جن میں یہ سوالات اٹھائے گئے کہ وہ اگلے اشتہارات میں یہ بتائیں گے کہ پاکستان میں بجلی مہنگی کیوں ہے؟ بس ان اشتہارات کی تحریروں میں کوئی ایسی جادوئی تاثیر تھی کہ پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی، انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز کی ”لوٹ مار“ کے تذکرے بھی اچانک بند ہو گئے، اور”لُٹ کے کھا گئے“ کی جو فضا بنائی جا رہی تھی اس کے غبارے سے بھی ہوا نکل گئی،اب فریقین اپنے اپنے مقام پر خوش ہیں،بجلی بدستور مہنگی بیچ رہے ہیں اور خریدنے والے خرید رہے ہیں،صارفین کی مثال تو ”قہر درویش، برجانِ درویش“ سے مختلف نہیں۔ اب اللہ کرے ڈیم کی تکمیل کا سال چھلانگیں مارتے ہوئے جلد آ جائے اور دیامر بھاشا ڈیم سستی بجلی پیدا کرنا شروع کر دے جس کا بقدرِ اشک بُلبل فائدہ غریب عوام تک بھی منتقل ہو ہی جائے گا۔ دُنیا بہ امید قائم۔ ویسے عوام سے تو ابھی تک نیلم جہلم سرچارج بھی وصول کیا جا رہا ہے، حالانکہ یہ پروجیکٹ بھی پیداوار شروع کر چکا ہے۔

بجلی کی پیداوار کے سلسلے میں ہماری ترجیحات کی سمت ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہی، جب انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز سے معاہدے کئے جا رہے تھے اُس وقت بھی بہت شور مچا تھا،لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز نہ سنی گئی۔ یہ معاہدے ہو کر رہے اور اب تک نافذ ہیں ان معاہدوں کے باوجود سالہا سال تک کئی کئی گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی رہی، یہاں تک کہ ہماری سوچ کی کجی نے ہمیں پھر رینٹل پاور پلانٹس کا راستہ دکھایا جن کی بجلی اگر پیدا ہوتی تو چالیس بیالیس روپے فی یونٹ سے کم نہ پڑتی،لیکن درمیان میں سپریم کورٹ حائل ہو گئی،جس نے یہ مہنگا تجربہ روک دیا اور رینٹل پاور والے اور ان کے مقامی سرپرست مفت کی دیہاڑیاں لگا کر غفرلہ‘ ہو گئے اور یہ غریب قوم لکیر ہی پیٹتی رہ گئی، بعد میں سی پیک کے منصوبوں کے تحت دو بڑے تھرمل یونٹ نہ لگتے، تو شاید اب تک طویل لوڈشیڈنگ ہو رہی ہوتی۔ یہ پس منظر بتانے کا مقصد ان تلخیوں کی ایک جھلک دکھانا ہے جن کے کڑوے گھونٹ یہ قوم اب تک پی رہی ہے، اب دیامر بھاشا ڈیم کا سنگ ِ بنیاد نئی امیدوں کے ساتھ رکھا گیا ہے تو امید کرنی چاہئے کہ یہ بروقت مکمل ہو کر پیداوار دینے لگے تو شاید اس قوم کی مہنگی بجلی سے جان چھوٹ جائے، اگر پیرانِ تسمہ پا نے ہماری گردن پر سواری کے نئے طریقے دریافت نہ کر لئے۔

مزید :

رائے -اداریہ -