طاقت اور قوت، صرف ریاست ہی کی ہوتی ہے!

طاقت اور قوت، صرف ریاست ہی کی ہوتی ہے!
طاقت اور قوت، صرف ریاست ہی کی ہوتی ہے!

  

سیاست تو شاہد یونہی چلتی رہے۔ہم اپنے وعدے کے مطابق ماضی کا ایک پرت کھول ہی لیتے ہیں۔ اس کی حالیہ دور میں کوئی مماثلت ہماری خواہش نہیں۔ اگر پھر بھی ایسا ہو تو یہ گردش زمانہ کا قصور ہو گا کہ زمین ابھی تک اپنے محور پر ہی گھوم رہی اور دن رات کا سلسلہ بھی وہی ہے جو اللہ نے متعین فرما دیا ہوا ہے۔ یہ بات اس دور کی ہے جب حالیہ پاکستان مغربی، پاکستان اور حکمران فیلڈ مارشل محمد ایوب خان تھے۔ ان دنوں اس کے گورنر موسیٰ خان تھے۔ وہ بھی ریٹائرد جنرل ہی تھے۔ اس سے پہلے ہم یہ عرض کر چکے ہیں کہ ملک امیر محمد خان کی گورنرشپ کے دوران محترم ہستی مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ بدتمیزی کی گئی اور جس شخصیت کے لوگوں نے کی اس کو سرپرستی حاصل تھی۔ اب جو دور جنرل موسیٰ والا ہے، تب لاہور میں ایس ایس پی الحاج حبیب الرحمن (مرحوم) تھے جو وفاقی سروس سے آئے اور امریکہ سے کریمنالوجی کا کورس بھی کئے ہوئے تھے، اسی لئے جب بھی جرائم کی بات ہوتی اور ان سے پوچھا جاتا کہ جرائم بڑھ گئے ہیں تو وہ ہمیں نیویارک (امریکہ) کی مثال دیا کرتے تھے۔ یہ اچھے افسر اور مہذب تھے۔ روشن خیال اور پرویز صاحب سے متاثر تھے جن کو علماء کرام نے منکران حدیث میں شمار کیا ہوا تھا۔

اسی دور کی بات ہے کہ جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا تو جنرل موسیٰ کی سطح پر ایک بڑا فیصلہ کر لیا گیا، اس کے مطابق عادی مجرموں کو پار کرنا ضروری جانا گیا کہ اس طرح جب مستند جرائم پیشہ اگلے جہان سدھار جائیں گے تو بچ رہنے والوں کو نصیحت ہو گی۔ چنانچہ یہ سلسلہ شروع ہوا ان دنوں ہمارے ایڈیٹر محترم ظہیر بابر (مرحوم) نے ہماری بیٹ میں تبدیلی کی ہوئی تھی اور ہم کرائم رپورٹنگ کا شعبہ سنبھالے ہوئے تھے، یہی اطلاع قصور سے موصول ہوئی (جب یہ ضلع نہیں، تحصیل تھی) کہ وہاں دہشت کی علامت ڈاکو مارے گئے ہیں، سید اکمل علیمی ہماری ٹیم کے سینئر رکن تھے۔ ان کے پاس تب سکوڈا کار تھی، یہ کار رپورٹنگ کے بہت کام آتی تھی۔ جب ہم نے شامکے بھٹیاں میں ”ڈبہ پیر“ دریافت کیا تو بھی اسی پر وہاں جاتے رہے اور اس روز قصور بھی اسی کار پر روانہ ہوئے کہ سید اکمل علیمی بھی ہمراہ تھے۔ یعقوب بھٹی (مرحوم) فوٹو گرافر ہمارے ہی ساتھ تھے۔ قصور میں تفصیلی کوریج کی۔ مردہ خانے سے جاء واردات اور متاثرین سے ملاقاتیں بھی کیں۔ پھر واپس آکر بھرپور رپورٹنگ کی گئی جو نمایاں تر شائع ہوئی۔ یہ غالباً پہلا ہی واقع تھا جو پولیس مقابلہ کہلایا اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا اور ہفتے میں دو تین مقابلے ہوتے اور مبینہ مجرم پار ہوتے رہے۔ آج کا جوہرٹاؤن جب گاؤں تھا، وہاں بھی مقابلہ ہوا،ہم بابا پرویز چشتی(مرحوم) کے ساتھ انہی کے سکوٹر پر کوریج کے لئے گئے تھے۔ پرویز چشتی ایسے بے خوف تھے کہ تصویر بنانے کے لئے انہوں نے دیہاتی ڈاکو کی نعش کو نہ صرف سیدھا کیا بلکہ اس کی لمبی مونچھ بھی درست کی تھی۔

اس حوالے سے جب رپورٹرز (صحافیوں) نے محترم حبیب الرحمن (ایس ایس پی) سے احتجاج کیا، تو وہ اس کے حق میں دلائل دینے لگے اور سرکاری طور پر انکار کیا کہ مارے جانے والے پہلے پکڑے جاتے اور پھر مبینہ پولیس مقابلے میں پار ہوتے ہیں، تاہم ”آف دی ریکارڈ“ (تب آف دی ریکارڈ کا احترام ہوتا تھا) انہوں نے تسلیم کیا کہ مستند جرائم پیشہ افراد سے معاشرے کو نجات کے لئے یہ اعلیٰ سطحی فیصلہ ہے، یہ پس منظر ہے، اس دور کا جب آبادی بھی کم تھی، لیکن جرائم بڑھ گئے تو سرکاری طور پر ان میں کمی لانے کے لئے یہ سلسلہ شروع ہوا اور پھر یہ ”مہان“ بڑے جرائم پیشہ جو شہریوں کا ناک میں دم کئے رکھتے تھے۔ چھپتے پھرتے تھے۔

عرض کرنا یہ ہے کہ جب ریاست کی رٹ ناٰفذ کرنے کا فیصلہ ہوا تو سب بدمعاشی اور اکڑ دھری کی دھری رہ گئی۔ اسی دوران گورنر صاحب کی ہدائت پر غنڈہ ایکٹ کے تحت بھی کارروائی شروع ہو گئی اور مشتبہ افراد پکڑ کر بند کئے جانے لگے۔ اکثر علاقہ پابند کئے گئے کہ وہ روزانہ متعلقہ تھانے / چوکی میں حاضری دیں گے اور پیشگی اجازت کے بغیر علاقے سے باہر نہیں جا سکیں گے۔ ان دنوں متعدد ”بدمعاش، شریف“ حضرات رضا کارانہ طور پر جیل میں بند ہو گئے تھے، انہی میں وہ صاحب بھی تھے، جن کے بندوں نے مولانا عبدالستار نیازی کی توہین کی تھی، یہ محمد اسلم عرف اچھا پہلوان تھے۔ جو فلمساز بھی بنے اور ان کے اڈے بھی تھے۔ ان کے والد کا نام شکر دین تھا اور روایت کے مطابق اچھا شکر والا کہلاتے تھے، انہوں نے خود رضاکارانہ طور پر غنڈہ ایکٹ کے تحت گرفتاری دی کہ پولیس مقابلے سے بچے رہیں، ان کے وکیل چودھری برکت علی سلیمی (مرحوم) تھے۔

ان کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات تھے اور وہ ہمیں چھوٹے بھائیوں کی طرح سمجھتے تھے۔ اسی حوالے سے اچھا پہلوان سے کچہری میں ملاقات ہو جاتی، جب وہ تاریخ پر آتے۔ انہوں نے جو بہت نامور تھے، خود تسلیم کیا کہ ریاست کی طاقت ہی بڑی ہے اور اس سے ٹکرایا نہیں جا سکتا، پھر وہ ہمیں مختلف واقعات بھی سناتے اور انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ مولانا عبدالستار خان نیازی کے ساتھ ”بدتمیزی“ انہی کے لوگوں نے کی اور اس کے لئے ملک صاحب نے اشارہ کیا تھا، اچھا پہلوان نے پھر معذرت بھی کر لی تھی۔ یہ ایک معروف اور تاریخی شخصیت ”شریف بدمعاش“ کی حقیقت ہے، خود انہوں نے ریاست کو تسلیم کیا تو مہر بانو! ہم نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ عزیر بلوچ ہو یا بانی اور ان کی جماعت اور افراد وہ سب ”ریاستی ذمہ دار“حضرات کی ”سرپرستی“ کے بغیر کچھ نہیں ہیں اور نہ کبھی ہوئے تھے، اس لئے ریاستی اداروں اور ذمہ دار حکمرانوں کو سوچنا ہو گا کہ اس معاشرتی بگاڑ کو درست کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے اور وہی حقیقت ہے، ہما شما کس شمار میں ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -