مندر میں اسلام آباد

مندر میں اسلام آباد
مندر میں اسلام آباد

  

نمسکار! سْنا ہے مندر میں اسلام آباد بن رہا ہے۔ وہ کیسے یہ بات بعد میں! اسلام آباد میں مندر بن رہا ہے زیادہ لوگ یہ کہہ رہے ہیں تو مان لیتے ہیں لیکن یہ بھی سنا ہے کہ بہت سے لوگ اس کیلئے کسی صورت مان نہیں رہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا سْن کر ہمارے تو تن بدن میں مسرت کی ایک لہر سی دوڑ گئی ہے۔ بھارتی فلموں کے وہ تمام سین یکے بعد دیگرے نظروں میں گھوم رہے ہیں جن میں ہیرو اور ہیروئن مندر کے پچھواڑے ملا کرتے تھے۔ جب سے سنا ہے یو ٹیوب پر ایسی ویڈیوز دیکھ دیکھ کرکبھی راجیش کھنہ، کبھی دھرمیندھر اور کبھی امیتابھ بچن کی جگہ اپنے آپ کو کاسٹ کرتے ہوئے اپنے پسندیدہ مون سونی گانے ہیما مالینی، زینت امان اور جیا پرادا کے ساتھ فلما رہے ہیں۔سہوِ ارادی کے باعث ایک ایک سین کئی کئی مرتبہ فلمانا پڑ رہا ہے۔مندر کی مخالفت کرنے والوں کو پرنام! مگر ہمیں تو پہلے بھی اسلام آباد ایک مندر ہی لگتا ہے جس میں طاقت کے پجاری دن رات اختیار کے دیوتاؤں کے سامنے متھا ٹیکتے ہیں اور اقتدار کی دیوی کے ساتھ سات پھیرے لے کر من کی مراد پاتے ہیں۔ہنی مون کیلئے بھی کہیں دور نہیں جانا پڑتا۔ مری، بھوربن یا نتھیا گلی، کسی بھی پہاڑی پر چڑھ جائیں اور جب تک چاہیں چِین یا امریکہ کی بانسری بجائیں۔ بس مندرکا گھنٹہ بجاتے اور دان پیٹی میں کچھ نہ کچھ ڈالتے رہیں۔

بھگوان کِرپا کرے گا۔ یقین کریں مجھے توآغاز میں بیان کردہ اپنے خودلذّتانہ مفاد سے ہٹ کے بھی مندر کی تعمیر میں فائدے ہی فائدے نظر آتے ہیں۔اگر یہ ہنو مان جی کامندر ہوا تو سمجھئے ملک ترقی کی راہ پر چل نکلا۔ ہنو مان جی ہندو دھرم میں وفاداری، ثابت قدمی، جدو جہد اور مزاحمت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔کسی بھی دور میں حکومتی پارٹی کیساتھ وشواس گھاٹ کرتے ہوئے ممبران اسمبلی کو ہنو مان جی کی بے لوث وفاداری کی مثالیں دے دے کر گرتی ہوئی حکومت کو مرتیو (موت)سے بچا یا جا سکتا ہے۔ اس طرح ہارس ٹریڈنگ کے رجحان میں واضع کمی واقع ہو گی۔ مشہور ہے کہ ہنو مان جی کو تعلیم، صحت اور کھیلوں سے خصوصی شغف تھا۔ اس سلسلے میں اگر رامائن سے ان کی خدمات کے حوالے سے چیپٹر نکال کر متعلقہ وزراء و افسران کو پڑھائے جائیں تو یہ شعبے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرنے لگیں گے۔ اپوزیشن بھی اگرسرکار کے ورودھ(مخالفت)میں ہنو مان جیسی ثابت قدمی دکھائے توسفل(کامیاب) ہو سکتی ہے۔

مندر کے فوائد صرف سیاست تک محدود نہیں رہیں گے، ہنو مان جی کی مزاحمت کی داستانیں عام ہونے کے باعث مزاحمتی ادب کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہو سکتا ہے۔یہی نہیں مندر کی تعمیر سیاحت کے شعبے کی ترقی کیلئے بھی ایک امید افزا پیغام ہو گی۔ایک طرف تو دور دور سے آنے والے یا تری اسلام آباد کے پہلو میں واقع حسین وادیوں کے حسن سے لطف اندوز ہونا چاہیں گے تو دوسری طرف بھوربن اور نتھیا گلی میں سیاحوں سے چپس اور جوس کے ڈبے چھیننے والے ڈارون کے چہیتے بندروں کی اصلاح کا بھی کوئی چارہ ہو سکے گا۔ ان علاقوں میں خوش اخلاقی اور مہمان نوازی سے متعلق ہنو مان جی کے اقوالِ زریں پر مشتمل بورڈزجگہ جگہ لگوا نے سے یقیناً ان کے اخلاق وکردار پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور وہ ہنو مان جی کی اِچھّاؤں (احکامات) کاپالن(تعمیل) کر کے پْنّے کا کام کرنے کو ترجیح دیں گے۔ پاکستان میں برادری ازم کے ماحول میں ان کے لئے ہنو مان جی کی بات کو ٹالنا ممکن نہیں ہو گا۔ ہنومان مندر بننے سے داخلی محاذپرتو بے شمار فائدے ہوں گے لیکن خارجہ پالیسی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔ مثلاً سری لنکا سے سفارتی تعلقات سخت کشیدہ ہو سکتے ہیں کیونکہ موصوف نے سیتا کو راون کی قید سے آزادکروانے کے چکروں میں اپنی دْم سے لنکا کو آگ لگا دی تھی جس کی تپش سے لنکا والوں کا دل ابھی تک سلگ رہا ہے جس کا دھواں سن 2009ء میں پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کانوں سے نکلتا ہوا بھی دیکھا گیا تھا۔

بہر حال اس سلسلے میں تمام سارک ممالک کو مل کر بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ لنکا سے اس زیادتی کے لیے معافی کا خواستگار ہو اور لنکا کو بھی چاہیے کہ وہ فراخدلی سے بھارت کو چھمع(معاف) کر دے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن کی فضا بحال ہو سکے۔ ایک اطلاع کے مطابق ہندو ناریاں ہنومان کی بجائے کالی ماتا کا مندر بنانے پر اصرار کر رہی ہیں۔ان کی اس مانگ کا ساتھ عورت حق کی علمبردارکچھ پاکستانی این جی اوز بھی دے رہی ہیں۔ اگر یہ خبر درست ہے تو آنے والے دور میں پاکستان میں عورتیّت (Feminism)کی تحریکوں کو بہت تقویت ملے گی۔ مردوں کو اس سلسلے میں پیش بندی کرنا ہوگی مبادا پانی سر سے گزر جائے۔ سنا ہے مردوں کے حقوق کی ایک تنظیم’Male Motivator‘ کے نام سے پہلے ہی اسلام آباد میں کام شروع کر چکی ہے جس کو غیر متوقع طور پر الماس بوبی کی حمایت بھی حاصل ہے۔ کالی مندر بننے سے کاسمیٹکس انڈسٹری کی بھی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ایک تخمینے کے مطابق صرف رنگ گورا کرنے والی کریموں کی پیداوار میں چار گنا بڑھوتری ہو گی جس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار ملے گا۔ مندر کسی دیوی دیوتا کا بھی ہو جہاں تمام ہندوؤں کیلئے روح پرور ہوگا وہیں باقی کے عوام کے دل کا محافظ! آپ جانتے ہیں کہ ابتلا اور نفسا نفسی کا دور چل رہا ہے، روحیں گھائل کی جا رہی ہیں اور دل ڈھائے جا رہے ہیں۔ بابا بلھے شاہ نے کہا تھا۔

مندر ڈھا دے، مسجد ڈھا دے، ڈھا دے جو کجھ ڈھیندا

پر بندے دا د ل نہ ڈھانویں رب دلاں وچ رہندا

امید ہے آپ مندر کے محافظْ القلوب ہونے کا مطلب سمجھ گئے ہوں گے۔ یعنی اب ہمارے پاس دل کے بدلے ڈھانے کیلئے مندر موجود ہوگا۔ جب بھی ضرورت پڑی فوراً مندر ڈھایا اور دل کو بچا کے ثواب دارین حاصل کیا۔ اپنے لیے نیکیاں سمیٹنے کے ساتھ ساتھ ہم کسی بھی وقت مندرتوڑ کر اپنے بزرگان مثلاً محمود غزنوی وغیرہ کی روح کے ایصالِ ثواب کا فوری بندوبست کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔ مندر کا نام سومنات رکھ دیا جائے تو کام اور بھی آسان ہو جائے گا۔ ایک اور نقصان جو دل ڈھا دینے کی وجہ سے ہمیں مسلسل ہوئے جا رہا تھا مندر کی وجہ سے ہم اس سے بھی بچ جائیں گے۔ دل ڈھا دینے سے رب جو وہاں قیام پذیر ہوتا ہے، ناراض ہو کر مغرب کی طرف نکل جاتا ہے اور اہل مغرب کو ترقی کرواتا رہتا ہے جس کی وجہ سے علامہ اقبال کو شکوہ اور جواب شکوہ وغیرہ لکھنا پڑتا ہے اور ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ علامہ صاحب عالمِ بالا سے مزید کوئی ایسی چیزیں لکھ کر بھیجیں کیونکہ علامہ صاحب کے اگلے اشعار کو عملی جامہ پہناناہی مشکل ہو رہا ہے۔

پہلے ہی ہم نے ایک ممولے کو شہباز سے لڑایاتھا جس کے ممولے کے حق میں کوئی اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح ایک بے تیغ سپاہی کو لڑنے کیلئے بھیجا تو کمبخت صورتحال کو بھانپ کر رستے سے ہی کھسک لیا۔مندر کے لاتعداد فوائد جاننے کے بعد امید ہے کہ مزاحمتی تحریک کی شدت میں واضح کمی واقع ہو جائے گی۔ لیکن اگر دل ابھی بھی مطمئن نہیں تو مخالفینِ مندر اتنا سمجھ لیں کہ یہ ہمارے دامن پہ لگے عدم برداشت اور انتہا پسندی جیسے داغ دھونے اور دنیا میں نیک نامی کمانے کا سنہری موقع ہے۔ جیسے کرتار پور بنا کے ہم نے سکھوں کو ہمیشہ کیلئے اپنا بنا لیا ہے۔ نفرت کو محبت سے کاٹ کے ایسی ہی ایک کوشش ہندوؤں کے ساتھ بھی کیوں نہ کر دیکھیں۔ اسلام آباد کے کسی کونے میں بنے چھوٹے سے مندر سے ہمارے یہاں تو کوئی انقلاب نہیں آنے والا لیکن یہ ممکن ہے کہ ہندو کے دل مندر میں ایک خوبصورت سا اسلام آباد تعمیر ہو جائے۔ اب مجھے آگیا(اجازت) دیجیے میری پوجا، سوری میری نماز کا وقت ہو گیاہے۔ دھنے واد

مزید :

رائے -کالم -