ایران میں 400ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری

ایران میں 400ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری
ایران میں 400ارب ڈالر کی چینی سرمایہ کاری

  

ہندوستان کے اخبار ”دی ہندو“ اور ایران کے ایک ٹی وی چینل (پریس ٹی وی) کی خبر یہ ہے کہ ایران نے انڈیا کو بندر چا بہار کی ڈویلپمنٹ کے منصوبے سے الگ کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے دو اہم مرحلے تھے۔ ایک یہ کہ خلیج عمان کی اس واحد ایرانی بندرگاہ (چا بہار) کو گوادر کی طرز پر ڈویلپ کرنا تھا اور دوسرے چا بہار سے زاہدا ن تک اور پھر زاہدان سے لے کر زرنج (افغانستان) تک ریلوے لائن تعمیر کرنی تھی۔ ان دونوں مراحل کی تکمیل کے لئے سرمایہ اور ساز و سامان انڈیا نے فراہم کرنا تھا یہ کوئی چھوٹا موٹا منصوبہ نہ تھا۔ انڈیا کو امریکہ اور اس کے حواریوں کی شہ حاصل تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اگر یہ ریلوے لائن مکمل ہو گئی تو اس کا سب سے بڑا فائدہ بردار افغانستان ہو گا۔ وہ چونکہ وابستہ بہ زمین ملک ہے اس لئے پاکستان کی کراچی اور طورخم کا محتاج ہے۔ چا بہار اور زرنج گویا کراچی اور طورخم کا متبادل بننے جا رہے تھے۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!……

امریکہ، افغانستان سے نکل رہا ہے اور اس کے ساتھ انڈیا بھی نکل جانے پر مجبور ہو گا۔ افغان طالبان کے دل میں پاکستان کے لئے (بوجوہ) نرم گوشہ موجود ہے۔ وہ آج نہیں تو کل انڈیا کو فارغ خطی دے دیں گے۔ ہم فی الحال انڈیا۔ امریکہ۔ افغانستان کی مثلث کے مستقبل کی بات نہیں کریں گے۔

اس مثلث کی الجھنوں کا جو مداوا ہونے جا رہا ہے وہ نوشتہ ء دیوار معلوم ہو رہا تھا۔ اور اسی نوشتہ ء دیوار کو پڑھ کر ایران نے انڈیا کو چا بہار منصوبے سے باقاعدہ الگ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور یہ اعلان اس وقت کیا ہے جب چین نے یہ حامی بھر لی ہے کہ وہ چا بہار کی ڈویلپمنٹ اور وہاں سے زاہدان تک اور پھر زاہدان سے افغانستان تک ریلوے لائن کی تعمیر کے لئے سرمایہ بھی فراہم کرے گا، تکنیکی ماہرین بھی اور ساز و سامان بھی۔ ایران اس کے بدلے میں چین کی تیل کی ضروریات پوری کرے گا۔ایران دیکھ چکا ہے کہ چین ایسا کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ انڈیا تو امریکہ کی طرف دیکھتا رہا کہ اس نے اگر چا بہار پراجیکٹ کو آگے بڑھایا تو امریکہ اس کے کئی اہم تر منصوبوں سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ سب سے اہم منصوبہ تو چین اور پاکستان کے خلاف اپنی افواج کو امریکی اسلحہ وغیرہ سے لیس کرنا تھا۔ C-17، C-130J اور چنوک ہیلی کاپٹر سارے کے سارے امریکہ دے رہا تھا۔ رافیل طیارے بھی پیرس کی بجائے واشنگٹن کے اشارۂ ابرو کے محتاج ہیں اور اسرائیل تو گویا ایک منی امریکہ ہے۔ چنانچہ انڈیا نے امریکہ کی ’محبت‘ میں ایران سے آنکھیں پھیر لیں۔ تیل کی ایرانی برآمدات امریکہ کا بڑا ٹارگٹ ہیں لیکن انڈیا کو باقاعدہ امریکی پابندیوں کے باوجود ایک کے بعد دوسرا ویور (Waiver) دیا جاتا رہا۔ ایران نے آخر تنگ آ کر چین سے رابطہ کیا۔ چین سے دوستی کا مطلب امریکہ سے ڈبل دشمنی تھا اس لئے ایران کافی عرصہ تک متذبذب رہا۔ لیکن آخر تنگ آکر بجنگ آنا پڑا!……

کہا جا رہا ہے کہ چین نے آنے والے 25برسوں میں ایران کو 400ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی ہے اور ایران میں چین کی طرف سے بننے والا پہلا منصوبہ وہی چا بہار کی ڈویلپمنٹ اور چا بہار۔ زاہدان ریل کی پٹڑی کی 628کلومیٹر طویل تعمیر ہو گی۔ لیکن میرے لئے اہم تر سوال یہ ہے کہ اس کے بعد انرجی، مواصلات اور دوسرے کون سے ایرانی شعبے ہوں گے جن پر 400ارب ڈالر لاگت آئے گی…… جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں۔ چین کی یہ مدد صرف ریل کی پٹڑیاں بچھانے اور بندرگاہی تنصیبات قائم کرنے کے لئے نہیں ہو گی۔ آپ کو یاد ہوگا CPEC کا منصوبہ 46ارب ڈالر کا تھا جو بڑھ کر 60ارب ڈالر تک چلا گیا۔ اس منصوبے میں گوادر بھی ڈویلپ ہو رہی ہے اور گوادر سے خنجراب تک سڑکیں اور ریل (ایم ایل۔ون) کی پٹڑیاں بھی بچھ رہی ہیں ……60ارب ڈالر اور 400ارب ڈالر میں ایک اور سات کی نسبت ہے۔ یعنی دوسرے لفظوں میں چین، ایران میں سات CPEC بنانے کا پروگرام رکھتا ہے!

لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ چین ایران میں صرف بندرگاہ اور ریل ہی نہیں بچھا رہا بلکہ اور بھی بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے…… آیئے ذرا قیاس کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔

عین ممکن ہے میرا یہ خیال بالکل ایک قیاسی مفروضہ ہو۔ لیکن پھر بھی اس مفروضے کی کچھ نہ کچھ اساس تو ہو گی۔ اور میرے نزدیک اساس یہ ہے کہ چین آنے والے 25برسوں میں چا بہار کو ایک بحری مستقر بنانا چاہتا ہے۔ پاکستان کی گوادر پورٹ تو ایک نیول بیس بننے جا ہی رہی ہے لیکن چین یہ بھی جانتا ہے کہ اگر جنوبی چین سمندر اور آبنائے ملاکا آنے والے کل میں بند کر دی جائے تو چین کی تجارت کا گویا گلا گھونٹ دیا جائے گا۔ فی الوقت چین کی 70 فیصد تجارت آبنائے ملاکا کے آبی راستے سے ہوتی ہے۔ وادی ء گلوان کی جھڑپ ہمارے سامنے ہے۔ اگر یہ جھڑپ بڑھ کر کسی بڑی لڑائی (Big Battle) یا چھوٹی جنگ (Little War)میں تبدیل ہو جاتی تو انڈیا (اور امریکہ) کا پہلا وار ساؤتھ چائنا سمندر اور آبنائے ملاکا پر ہوتا۔ چین کو اپنی اس سٹرٹیجک محدودیت کا شدید احساس ہے۔ اس لئے وہ اس وقت تک انڈیا سے کوئی بڑا حربی معرکہ نہیں لڑے گا جب تک متبادل تجارتی آبی اور زمینی راستوں کا انتظام نہیں کر لیتا۔ بہت کم قارئین کو معلوم ہو گا کہ چین بیجنگ سے شمالی قطب کے راستے بحر اوقیانوس (یورپ) میں جانے کے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ اس راہ کو کھولنے کے لئے کافی پیشرفت ہو چکی ہے…… دوسرا راستہ خنجراب سے براستہ پاکستان / گوادر بحیرۂ عرب میں آنے کا ہے…… اگر ایران سے کیا جانے والا یہ حالیہ معاہدۂ سرمایہ کاری آگے بڑھتا ہے تو چا بہار سے آبنائے ہرمز کے راستے بحیرۂ عرب کی آبی شاہرگ کھل جائے گی…… چین ان بندرگاہوں کو باقاعدہ بحری مستقروں (Naval Bases) میں تبدیل کر رہا ہے۔ آنے والے برسوں میں گوادر، چا بہار اور کولمبو (سری لنکا) کی بندرگاہیں، چین کے لئے کھلی ہوں گی۔ افریقہ کے سینگ پر ایک اور بندگاہ جیبوتی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ یوں معلوم ہو رہا ہے کہ چین کے بحری جنگی جہاز، آبدوزیں اور دوسرا متعلقہ آرمیڈا ان بحری مستقروں (کولمبو، گوادر، چا بہار، جیبوتی) میں لا کر سٹیشن کر دیا جائے گا۔

یورپ اور افریقہ سے آنے والے بحری جہاز اور ایران کے آئل ٹینکرز دو بحری اور زمینی راستوں سے مغربی چین پہنچ سکیں گے۔ ایک راستہ تو چا بہار۔ زاہدان۔ افغانستان ہو گا اور دوسرا گوادر۔ بلوچستان۔حسن ابدال۔ حویلیاں۔ گلگت۔ خنجراب ہوگا…… پاکستان میں CPEC کی تین شاہراہیں پہلے سے موجود ہیں۔ ان کو پوری طرح مکمل کرنے پر دن رات کام ہو رہا ہے۔ ایک کومغربی راستہ، دوسرے کو وسطی راستہ اور تیسرے کو مشرقی راستہ کہا جاتا ہے۔ اگر پشاور سے کراچی تک مین لائن ون (ML-1) پر اسی برس اگست میں کام شروع ہوتا ہے تو دو تین برسوں میں مکمل ہو جائے گا۔چین، تیل اور خام معدنیات کی بڑی مقدار ان راستوں سے چین میں لا سکے گا اور اسے بحرہند میں داخل ہو کر آبنائے ملاکا کو استعمال کی ضروریات باقی نہیں رہے گی۔ یہ راستے ویسے بھی بحرہند سے کم خرچ ہیں۔

میں چین کی طرف سے ایران میں آنے والے 25برسوں میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں قیاس کا گھوڑا دوڑا رہا تھا…… میرے خیال مین چین، ایران کو جوہری شعبے میں بھی کئی طرح کی امداد دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جوہری آبدوزیں بنانے میں، جوہری بم بنانے مین، جوہری ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں ایرانی میزائل پروگرام کو تقویت (Re-inforce) دینے میں، ایرانی فضائیہ کو ڈویلپ کرنے میں اور ایرانی بحریہ کو اسرائیلی بحریہ کے برابر لانے میں وغیرہ وغیرہ…… یہ نہیں ہو سکتا کہ چین یہ 400ارب ڈالر صرف ایران کی سڑکیں اور بندرگاہ کی سویلین ترویج و ترقی ہی میں صرف کر دے۔

اگر کل کلاں افغانستان سے امریکہ ”واقعی“ نکل جاتا ہے تو یہ خلا دو بڑی طاقتیں پُر کر سکتی ہیں۔ میری مراد روس اور چین سے ہے۔ چین کی نگاہیں بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو (BRI) پر مرکوز ہیں۔ لیکن یہ تمام انی شی ایٹو جدید وار ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر ہوگا۔ مثال کے طور پر ہم لداخ میں حالیہ انڈو۔چائنا سٹینڈ آف کا ذکر سنتے اور پڑھتے رہے ہیں۔ دنیا بھر کا میڈیا بتا رہا ہے کہ انڈیا نے لیح (Leh) سے لے کر مشرقی لداخ اور شمالی لداخ (وادی ء گلوان اور دولت بیگ اولدی) تک سڑکوں اور ائر فیلڈز کا جال بچھا دیا ہے۔ انڈیا کے ہیوی لفٹ ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا بیڑا دن رات چندی گڑھ سے لداخ تک جنگی ساز و سامان اور بھاری اسلحہ جات کی ایک بڑی کھیپ لداخ میں منتقل کر چکا ہے تاکہ آنے والے دنوں یا مہینوں میں اگر ضرورت پڑے تو انڈیا کا یہ خطہ روڈ اینڈ ائر موبلٹی سے محروم نہ رہے…… لیکن اگر واقعی کل کلاں اس علاقے میں انڈیا اور چین کی کوئی شدید جھڑپ ہوتی ہے تو چینی توپخانہ جو تبت میں بڑی تعداد میں موجود ہے وہ لداخ کی بیشتر سڑکوں اور ہوائی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دولت بیگ اولدی کی ائر فیلڈ کا بڑا شہرہ ہے لیکن اس کے رن وے پر اگر 8،10توپ کے گولے داغ دیئے جائیں تو وہ ناکارہ ہو جائے گا اور اس کی مرمت وقت طلب ہو گی اور یہی حال لداخ کی باقی ان سڑکوں کا بھی ہے جو گزشتہ 5،7برسوں میں انڈیا نے وہاں بنا لی ہیں …… چین کو اپنے بیلٹ اینڈ روڈ انی شی ایٹو کے تحفظ کا از بس احساس ہے اور ایران کے 400ارب ڈالر میں شائد اسی احساس کی مزید تقویت بھی شامل ہو!!!

مزید :

رائے -کالم -