ٹیکسی ڈرائیور کا اہلخانہ کے ہمراہ پولیس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

ٹیکسی ڈرائیور کا اہلخانہ کے ہمراہ پولیس کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)چمکنی کے رہائشی ٹیکسی ڈائیور نے اہلخانہ کے ہمراہ سابق پولیس اہلکار کی ایماء پر مران پولیس کی جانب سے اغوا برائے تاوان اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کیخلاف پشاور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر مرددان پولیس اور سابق پولیس اہلکار اختر محمد کے خلاف نعرے درج تھے چمکنی حاجی آباد کے رہائشی زیارت گل نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل نحقی کے رہاشی سابق پولیس اہلکار اختر محمد نے اپنے ساتھی مردان کے ایک ایس ایچ او کے ہمراہ میرے گھر پر ددھاوا بولتے ہوئے نہ صرف چار دیواری کا تقدس پامال کیا بلکہ ہم گھر والوں کو زد و کوب بھی کیا،پولیس کی وردی میں ملبوس ملزمان نے میری بیوی کے کانوں کی بالیاں اور چار چوڑیاں زبردستی اتار وائیں جبکہ میرے چہرے کو ڈھانپ کر مردان میں نا معلوم مقام لے گئے جہاں ایس ایچ او نے رہائی کے بددلے مجھ سے دس لاکھ روپے اور میری ٹیکسی ددینے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر صوابی میں شہید ایک ڈی ایس پی کے قتل کے کیس میں ملوث کرنے کی دھمکیاں دیں،اس دوران مجھے بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور مجبور کر ددیا گیا کہ میں ملزمان کے مطالبات پورے کرنے کیلئے سب کچھ بیچ ددو بعدازاں اختر محمد کو میرے کہنے پر بھائی نے تین لاکھ 65ہزار روپے ددئے تو رہائی نصٰب ہوئی،متاثرہ شخص نے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور آئی جی خیبر پختونخوا سے واقع کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انصاف اور ملزمان سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -