وزیر اعظم کے مشیر رزاق داؤد سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر کے وفد کی ملاقات

وزیر اعظم کے مشیر رزاق داؤد سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر کے وفد کی ملاقات

  

 پشاور(سٹی رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر میاں انجم نثار کی قیادت میں تاجروں کے ایک وفد نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت و سرمایہ کاری رزاق داد، سیکرٹری کامرس صا لح فاروقی اور ڈی جی ٹریڈ سے ملاقات کی اور پاک افغان بارڈر ٹریڈ کے حوالے سے موجودہ صورتحال اور مسائل سے آگاہ کیا۔ میاں انجم نثار نے کہاکہ 2011 میں افغانستا ن کو ہماری ایکسپورٹ 2.7 بلین ڈالر تھی جوکہ کم ہو کر 2019 میں صر ف 1.1 بلین ڈالر رہ گئی ہے۔ اس کی بنیادری وجہ بارڈر پر ناقص نظام ہے۔ COVID - 19 سے پہلے 1500 کنٹینرز یومیہ بنیاد پر ٹرانز ٹ اور باہمی تجارت کی مد میں کلیئر ہوتے تھے جوکہ اب 250 کی تعداد میں رہ گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں 2 سے 3 روز میں مال کلیئر ہو جاتا تھااور کرایہ بھی تقریبا ایک لاکھ روپے تھا جبکہ اب موجودہ صورتحال میں ایک ٹرک 20 تا25 دونوں میں کلیئر ہوتا ہے اور کرایہ بھی 4 الاکھ تک پہنچ گیا ہے۔صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہاکہ ٹرکوں کی کلیئرنس میں تاخیر کی وجہ سے جلد خراب ہونے والی اشیا اور فوڈ آئٹم خراہب ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کر تاپڑتا ہے۔ میاں انجم نثار نے توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ افغانستان سے ہمیں ایڈوانس ادائیگی کے باوجود ان کامال ان کو ایک ماہ کی تاخیر سے ملتا ہے۔ جس کی وجہ سے عدم اعتمادی جنم لے رہی ہے اور اس کا پاک افغان باہمی تجارت پر بہت برااثر پڑ رہا ہے اور اس کا فائدہ دوسرے پڑوسی ممالک اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جلد خراب ہونے والی اشیا اور فوڈ آئٹم کو ترجحی بنیادوں پر کلیئر کروانے کے اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ کہ پاک افغان باہمی تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ دونوں سے متعلق ٹرکوں کی آمدو رفت اور کلیئر نس سے متعلق اعداد و شمار اور رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر وزارت تجارت میں بھی آنی چاہئے تاکہ وزارت تجارت پوری طرح سے معاملہ سے آگاہ رہے۔جس پر مشیر تجارت اور سیکرٹری تجارت نے یقین دلایا کہ پاک افغان بارڈر پر ٹرانزٹ ٹریڈ اور باہمی تجارت کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائینگے اور روزانہ کی بنیاد پر انفارمیشن لی جائیگی۔میاں انجم نثار نے مزیدکہاکہ افغانستان میں کیمکل کی ڈیمانڈ ہے لہذا پاکستان میں بننے والے کمیکلز کو بھی مثبت فہرست میں ڈالا جائے تاکہ وہ بھی افغانستان کو ایکسپورٹ کیاجاسکے۔ رزاق داد اور سیکرٹری کامرس نے تائید کرتے ہوئے کہاکہ اس پر غور کیا جایا گا اور مثبت فیصلہ کیا جائے گا۔صدر ایف پی سی سی آئی نے مشیرتجارت کی توجہ بجٹ کے شیڈرول 12 کی طرف سے بھی مبذول کراتے ہوئے کہاکہ شیڈول12 کے ٹیبل نمبر3 میں غلطی سے بیشتر آئیٹمز کوڈال دیا گیا جس کی وجہ سے ان پر انکم ٹیکس کی شرح 5 فیصد ہو گئی ہے جوکہ انڈسٹریل سیکٹر میں بطور خام مال استعمال ہوتے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر امپورٹ ہو رہی ہیں جبکہ ان پر اصل انکم ٹیکس کی شرح 2 فیصد لاگو ہوتی ہے۔حکومت صنعتی اور تجارتی حلقوں کی اس پریشانی کو دور کرئے اور ان آئٹمز کو شیڈول 12 کے ٹیبل نمبر3 سے نکالا جائے کیونکہ اگر5 فیصد انکم ٹیکس اداکرکے کلیئر کراتے ہیں تو ان کی مالیت بہت بڑھ جاتی ہے اور اگر کلیئر نہیں کراتے تو ڈیمرج اورڈیٹنشن پڑ تی ہے۔ چیئر مشیر تجارت رزاق دادنے یقین دلا یا کہ وزارت تجارت جلد اس مسئلہ کو حل کراوئے گی۔ اس کے علاوہ صدر ایف پی سی سی آئی کے کہنے پر DLTL کے حوالے سے ایکسپورٹ پر Time Condonation کے سلسلے میں بھی وزارت تجارت نے یقین دہانی کرائی کہ چونکہ ایکسپورٹ ہو چکی ہے لہذا اس مسئلہ کو جلد مثبت طور پر حل کر یا جائے گا۔میاں انجم نثار سست بارڈر پر پاک چائنہ باہمی تجارت کے حوالے سے کہاکہ COVID - 19 کے بعد سے دونوں ملکوں کی تجارت مکمل بند ہے لہذا سست بارڈر کو بھی کھولا جائے تاکہ پاک چائنہ تجارت شروع ہو سکے اس موقع پر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈانڈسٹری کے سابقہ نائب صدر قربان علی نے بھی مزید تفصیلات سے آگاہ کیا۔ جس مشیر تجارت رزاق داد نے کہاکہ وزارت تجارت نے اس سلسلہ پر چائنہ کے سفارتخانے سے بھی رابطہ میں ہیں اور جلد ہی عارضی بنیاد پر سست بارڈر کھولنے کا اعلان متوقع ہے؎

  

مزید :

پشاورصفحہ آخر -