تبدیلی سرکار کی حکومت میں تعلیمی دہشتگردی کا سامنا ہے: ایمل ولی

  تبدیلی سرکار کی حکومت میں تعلیمی دہشتگردی کا سامنا ہے: ایمل ولی

  

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے خیبرپختونخوا کے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے مالی، انتظامی اور تدریسی مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مستقبل کو تبدیلی سرکار کی حکومت میں تعلیمی دہشتگردی کا سامنا ہے۔ دہشتگرد سکول، کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے تھے لیکن تحریک انصاف کی حکومت فنڈز کی عدم فراہمی کے ذریعے نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک بنارہی ہے۔ باچاخان مرکز پشاور سے جاری بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ صوبے کے سات یونیورسٹیوں میں مستقل وائس چانسلرز نہیں جسکی وجہ سے جامعات میں انتظامی، مالی اور تدریسی مسائل مزید گھمبیر ہوگئے ہیں۔ انتظامی، مالی اور تدریسی شعبوں کو انتہائی درجے تک غیریقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ کئی جامعات میں ملازمین کو صرف اسلئے برطرف کیا گیا کیونکہ تنخواہیں دینے کیلئے پیسے نہیں، حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے طلبہ و طالبات کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہا ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ ملک بھر بالخصوص خیبرپختونخوا کے کونے کونے میں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں لیکن غیرسنجیدہ رویے کی وجہ سے صوبے کے تمام محکمے دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔گذشتہ روڈ واپڈا کے ملازمین نے صوبائی اسمبلی کے ساسمنے احتجاج کیا لیکن پوچھنے کوئی نہیں آیا۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ یہاں ہر معاملے کا حل نجکاری ہی سمجھی جاتی ہے، سٹیل ملز چلانے کے دعویداروں نے نجکاری کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔ حکومت اگر کچھ نہیں کرسکتی تو انکے گھروں کا راستہ کسی نے بند نہیں کیا، گھر جائیں اور آرام کرے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -