عدالتوں میں بچوں کی حوالگی اور طلاق کے کیسز میں 40فیصد اضافہ

  عدالتوں میں بچوں کی حوالگی اور طلاق کے کیسز میں 40فیصد اضافہ

  

 لاہور(نامہ نگار)مہنگائی،عدم برداشت اوربے روز گاری کے سبب گھریلو جھگڑوں بڑھنے سے گارڈین کورٹس میں دائر مقدمات کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے،ہرسال عدالتوں میں دائر کئے جانے والے دعووں میں تقریباً35سے 40فیصد اضافہ ہورہا ہے۔وکلاء نے بڑھتے ہوئے مقدمات کی تعداد کے پیش نظر مزید عدالتیں بنانا وقت کی اہم ضرور ت قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق فیملی و گارڈین کورٹس میں اس وقت ہزاروں مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن عدالتوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے سائلین کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے،فیملی دعویٰ جات میں خواتین کی جانب سے اپنے مجازی خداوں پرملے جلے الزامات عائد کرکے طلاق اور بچوں کی حوالگی کے دعویٰ جات دائر کئے گئے جس میں شوہرنکھٹوہے،نشئی ہے،غیرعورتوں سے تعلقات،تشددکرنا،جہیز کم لانے کے طعنے وغیرہ شامل ہیں۔ اس حوالے سے سابق سیکرٹری کامران بشیر مغل،سینئر ایڈووکیٹ مدثر چودھری اورمرزا حسیب اسامہ،چودھری ارشاد گجر، ساغر علی ڈھلوں،سابق سیکرٹری لاہور بار سید فرحاد علی شا ہ اورمشفق احمد خان نے نمائندہ "پاکستان "سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہر سال فیملی دعوی جات کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے جو کہ بہت افسوس ناک ہے جس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مقدمات کو نمٹانے کے لئے عدالتیں تو موجود ہیں لیکن ان کی تعدا بہت کم ہے اورموجودہ زیر سماعت مقدمات کے پیش نظر مزید عدالتیں وقت کی اہم ضرور بن چکی ہیں تاکہ زیرالتوا دعویٰ جات کوفی الفور نمٹایاجاسکے،اس وقت عدالتوں کے باہر تنازعات کے حل کے اس نظام کو دوبارہ فعال بنانے کی بھی اشدضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلاق سے قبل عدالتوں کو چاہیے کہ وہ ان جوڑوں اور ان کے بزرگوں کو منانے کی ہر ممکن کوشش کریں تاکہ وہ مصالحت پر مجبور ہوجائیں،وگرنہ لڑائی جھگڑے کے شکار یہ خاندان صلح صفائی کی بجائے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہوجاتے ہیں۔

حالانکہ اگر اسلامی عقائد کے مطابق لوگوں کو قائل کیا جائے تو کوئی بھی شخص اپنا ہنستا بستا گھرانا اجاڑنے کی بات ہرگزنہ کرے۔

مزید :

علاقائی -