2014میں اسلام آباد دھرنے سے سرکاری املاک کو 75کروڑ کا نقصان ہوا، حکومت کا قومی اسمبلی میں اعتراف

  2014میں اسلام آباد دھرنے سے سرکاری املاک کو 75کروڑ کا نقصان ہوا، حکومت کا ...

  

اسلام آباد(آئی این پی)حکومت نے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا ہے کہ سیف سٹی اسلام آباد کے2ہزار میں سے1700کیمرے خراب تھے جن کو ٹھیک کر دیا گیا ہے،جلد ناکوں پرتمام پولیس اہلکاروں کی وردیوں میں کیمرے لگاکر انہیں سیف سٹی کیمروں سے منسلک کردیا جائے گا، 2013سے2018کے دوران ملک کواحتجاج اور دھرنوں سے ڈیڑھ ارب کے نقصانات ہوئے۔ ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری نے سی ڈی اے کو پارلیمنٹ لاجز اور دیگر رہائشی علاقوں میں پانی کی کوالٹی چیک کرنے کی رولنگ دیدی۔جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر کی زیر صدارت ہوا۔وقفہ سوالات کے دوران رکن رانا ثناء اللہ کے سوال کے جواب میں وزارت داخلہ نہ اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ 2013سے2018کے دوران ملک بھر میں احتجاج اور دھرنوں سے مجموعی طور پر 1ارب50کروڑ71لاکھ97ہزار263روپے کے نقصانات ہوئے۔2014میں اسلام آباد میں دھرنے کی وجہ سے 75 کروڑ 59 لاکھ 79 ہزار کے نقصانات ہوئے۔ وزارت داخلہ نے اپنے تحریری جواب میں ایوان کو آگاہ کیا کہ سکھ یاتریوں کو ویزہ کے بغیر کرتارپوآنے کی اجازت ہے، سکھ یاتری بھارتی پاسپورٹ کیساتھ صبح سے شام تک کرتارپور رہ سکتے ہیں۔بھارتی حکام کی جانب سے یاتریوں کی فہرست10دن قبل فراہم کی جاتی ہے۔آئی ایس آئی،آئی بی اور نادرہ کی منظوری کے بعد سکھ یاتریوں کو آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری داخلہ شوکت علی نے بتایا کہ اسلام آباد میں 116 گیسٹ ہاوئسز رہائشی علاقوں میں قائم تھے جنہیں بند کردیا گیا۔تمام صوبوں میں جرائم کی شرح بتدریج نیچے جارہی ہے۔عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی سیکیورٹی میں 70درجے بہتری ہوئی ہے۔اسلام آباد میں دو سال میں کرائم ریٹ میں 29 فیصد کمی آئی۔اسلام آباد میں 90 فیصد نو گو ایریاز ختم کردئیے گئے ہیں اور 80 فیصد ناکے ختم کردئیے۔اسلام آباد میں میرٹ پر نئی بھرتیاں کرکے پولیس فورس کی کمی پوری کردی ہے۔قومی اسمبلی میں ملکی زراعت پر بحث دوسرے دن بھی جاری رہی۔حکومتی و اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا کہ ملک میں ہنگامی بنیادوں پر متفقہ زرعی پالیسی بنائی جائے،زراعت اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے،ابھی بھی دو پاکستان کیوں ہیں،صنعت، دودھ اور شوگر والوں کے قرضے معاف ہوسکتے ہیں تو کسانوں کے قرضے معاف کیوں نہیں ہوسکتے،مڈل مین کمائی کر رہے ہیں جبکہ کسان پس رہے ہیں،ملک میں زراعت کی بہتری کیلئے ٹیکنالوجی کی طرف جانا ہو گا، وزارت فوڈ سیکیورٹی کا نام تبدیل کرکے ایگریکلچر ڈویلپمنٹ رکھا جائے، زراعت اور صحت پر وفاق اور صوبوں کو سیاست نہیں کرنی چاہیے،ایوان میں بحث کے نتیجے میں زراعت پالیسی بنائی جائے۔ جمعرات کو قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ہوا۔ تحریک انصاف کے ثنا ء اللہ مستی خیل نے کہا کہ کسان آخری بار پارلیمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔زراعت اس وقت وینٹی لیٹر پر ہے،زراعت کو صنعت کا درجہ دیا جائے،یہاں کچھ شوگر کی وکالت کرتے ہیں کچھ کپاس کی بات کرتے ہیں۔زرعی قرضوں پر اٹھارہ سے کم کرکے دو فیصد سود کیا جائے،کالا باغ ڈیم بنانا وقت کی ضرورت ہے،کالا باغ ڈیم پر تکنیکی بنیادوں پر سیاسی جماعتیں غور کریں،اگر پی پی پی اور ن لیگ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے میثاق جمہوریت کرسکتی ہیں تو ماضی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے کالاباغ ڈیم پر بھی بات ہوسکتی ہے۔مسلم لیگ (ن)کے چوہدری محمد اشرف نے کہا کہ مڈل مین کمائی کر رہے ہیں جبکہ کسان پس رہے ہیں۔شیر اکبر خان نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت پیٹرول کی قیمت سے کم کی جائے۔نکتہ اعتراض پرمسلم لیگ (ن) کے رکن مرتضی جاوید عباسی نے وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان کیخلاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ڈی جی سول ایوی ایشن نے 13 جولائی کو اومان سول ایوی ایشن کو لکھا کہ کسی پائلٹس کا لائسنس جعلی نہیں، میڈیا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے کنفیوژن پیدا ہوئی، وفاقی وزیر کے بیان سے دنیا بھر میں پاکستانی پائلٹ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا،ہمارے پائلٹس اور انجینئر جعلی نہیں انکو بدنام کرنے کی کوشش اس جعلی وزیر اور حکومت نے کی،ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔اسکی تحقیقات کی جائیں اور ایوان میں رپورٹ پیش کی جائے۔ میں ڈی جی سول ایوی ایشن کا خط اس ایوان کے ریکارڈ کا حصہ بنانا چاہتا ہوں،اس ایوان کی کمیٹی بنائی جائے جو وزیر ہوا بازی کے بیان کی تحقیقات کرے،وفاقی وزیر کے بیان سے اس ایوان کا ستحقاق مجروح ہوا،یہ معمولی بات نہیں ہے۔ وفقہ سوالات میں حکومت نے ایوان کو بتایا کہ کرپشن میں ملوث ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف انکوائریزہو رہی ہیں پایہ تکمیل ہوتے ہی انکے کیس نیب کو بھیج دیں گے،جموں و کشمیر ہاؤسنگ سوسائٹی کا کیس نیب کو بھیج دیا گیا ہے،رہائشی علاقوں میں گیسٹ ہاؤسز کے مالکان سپریم کورٹ چلے گئے کیس ختم ہوتے ہی انکے خلا ف مزید کارروائی بھی کی جائے گی،پی ایم پورٹل پر آنیوالی شکایات کا فوری ازالہ کیا جاتا ہے اور اس رپورٹ میں شکایت کند ہ کو بھی آگاہ رکھا جاتا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری وزارت داخلہ شوکت علی نے بتایا کہ متعدد شہروں میں پاسپورٹ دفاتر کھول دیے گئے ہیں جبکہ اور شہروں کو بھی یہ سہولت دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

قومی اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -