کام نہیں آتا تو ہم سے سیکھیں، اپوزیشن، ہمیں عقل اور بھاشن کی ضرورت نہیں

 کام نہیں آتا تو ہم سے سیکھیں، اپوزیشن، ہمیں عقل اور بھاشن کی ضرورت نہیں

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)صوبائی وزراء نے کہا ہے کہ ہمیں کسی کے تجربے،مشورے اور عقل کی ضرورت نہیں ہے نہ ہمیں ایسے بھاشن دئیے جائیں ہم اپنی عقل کے مطابق مہنگائی اورعوامی مسائل پر کنٹرول کر لیں گے جبکہ اپوزیشن ارکان نے کہا ہے کہ بحرانوں کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومت کی مدد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 18 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین میاں شفیع محمد کی صدارت میں ہوا۔سوالات کے جوابات دیتے ہوئے متعلقہ وزیر یاسر ہمایوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کالجز اور یونیورسٹیوں سے سیکیورٹی گارڈز کو نوکریوں سے فارغ کیا جارہا ہے کیونکہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی کچھ معاشی مشکلات ہیں۔صوبے میں اساتذہ کی آسامیاں خالی ہیں جیسے ہی حکومت کی جانب سے اجازت ملے گی خالی آسامیاں پر کر لی جائیں گی۔فنڈز کی عدم موجودگی کے باعث صوبے میں اساتذہ کی خالی آسامیاں پر نہیں کی جا سکیں۔کورونا وائرس کے باعث پروگرامز تاخیر کا شکار ہوئے ہیں۔پنجاب اسمبلی میں مہنگائی پر عام بحث کا آغازن لیگی رکن اسمبلی صبا صادق نے کیا اور کہا کہ حکومت کے زیر انتظام یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی،دال،گھی کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ ہوا۔آٹا،چینی،پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا پھر بھی مارکیٹ سے غائب ہیں۔دوسال قبل جو ادویات عوام کو فری ملتی تھی آج وہ نایاب ہیں۔وزیر اعلی پنجاب عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے تو مستعفی ہو جائیں۔پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضی نے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے جس چیز کی قمیت بڑھتی ہے۔وزیر اعظم کے نوٹس کے بعد اس کی قیمت مزید بڑھ جاتی ہے۔ چینی 45 سے 90 روپے کلو ہو گئی۔ادویات کی قیمتوں میں اضافہ پر نوٹس پر 500 فیصداضافہ ہو گیا۔ آٹا 700سے 1100روپے میں بھی نہیں مل رہا۔پیٹرول پر نوٹس لیا تو 12گھنٹے میں 25 روپے فی لٹرکا ٹیکہ لگا یاگیا تو پیٹرول عام ہو گیا اور عوام کو 3ہزار ارب کا ٹیکہ لگا کر مافیا کو فائدہ پہنچایا گیا۔ایک نیا بحران پیدا کرکے سہولت کاروں کو مالی فائدہ پہنچاتے ہیں۔لاہور میں انجینئرنگ یونیورسٹی کے اساتذہ کی تنخواہوں میں کٹوتی کرکے تعلیم سے کونسی سے دوستی ہے۔وفاق نے 483 ارب روپے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب کے حق پر ڈاکہ ڈالا، اگر وہ ڈاکہ نہ ہوتا تو عوام کا فائدہ ہوتا۔سندھ کا انفراسٹرکچر پنجاب سے بہتر ہے۔بازگشت سن رہا ہوں کے سرکاری ملازمین کو پانچ سال قبل ریٹائرڈ منٹ دے رہے ہیں۔پنجاب کے مظلوم سیکرٹری کے بھی پانچ سال کم کیے جا رہے ہیں، انہوں نے ابھی اور عیاشیاں کرنی تھی۔ جہانگیر ترین کو 5سال استعمال کیا بعد میں اسے بھگا دیا۔رکن اسمبلی بلال یاسین نے کہا کہ عقل والے تجربہ والوں سے سیکھتے ہیں جبکہ بے وقوف نہیں سیکھتا۔آٹا چینی کے حوالے سے ہم سے ہی مشورہ کر لیتے،ان سے زیادہ ہمارا تجربہ ہے۔وزیر اعظم کہتے ہیں شوگر مافیاز کے ساتھ لڑ رہے چینی کی قیمت 50 سے 90 روپے ہو گئی۔آٹا مافیاز کے ساتھ لڑ رہے ہیں قیمت 700 سے 1100 روپے ہو گئی،سو کا ڈالر170کا ہو گیا ہے۔پرائس کنٹرول کے دوران صوبے کے ڈی پی اوز ہمارے ساتھ وزٹ کرتے تھے۔ایکسپوز سینٹر گیا وہاں 30 لوگ ٹوٹل مختلف اضلاع سے تھے۔اللہ ہو والے کھانا دے رہے تھے پانی کوک والے دے رہے تھے۔خدا کیلئے عوام کو بے وقوف نہ بنائیں اور نہ دھوکہ دیں۔ صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے سابق حکومت کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی کے مشورے کسی کے تجربے اور کسی کی عقل کی ضرورت نہیں ہے، مہنگائی کے اعشاریے سابق حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے بڑھے۔ جب آپ قرضے لے کر عیاشیوں میں اڑائیں گے تو مہنگائی ہوگی۔ اپوزیشن نے اپنے لیڈروں کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی کیوں کے یہ ذہنی غلام ہیں۔ان کے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں یہ نہیں بولیں گے۔مافیاز کے ساتھ مل کر ہمیشہ انہوں نے کھایا ہے۔ہم نے آٹے کی قیمت جو مقرر کی ہے اسی ریٹ پر عوام کو آٹا ملے گا۔پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈے مکمل ہونے پر اجلاس آج جمعہ کی صبح نو بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ آخر -