توہینِ عدالت، کمشنر کراچی نے غیر مشروط معافی مانگ لی

  توہینِ عدالت، کمشنر کراچی نے غیر مشروط معافی مانگ لی

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ میں کمشنر کراچی، ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی و دیگر کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی جس کے دوران کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔کمشنر کراچی افتخار علی شالوانی اور دیگر کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کرا دیا گیا۔کمشنر کراچی افتخار علی شالوانی نے اپنے جواب میں استدعا کی ہے کہ توہینِ عدالت کی درخواست جھوٹی ہے، مسترد کی جائے، عدالتوں کا احترام ہے، کسی قسم کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔اپنی درخواست میں کمشنر کراچی نے کہا کہ میں نے کسی عدالتی احکام کی خلاف ورزی نہیں کی، اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو غیرمشروط معافی مانگتا ہوں۔توہینِ عدالت کی درخواست کراچی جیم خانہ کی انتظامیہ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔درخواست گزار کے وکیل خواجہ شمس السلام نے موقف اختیار کیاکہ جیم خانہ ثقافتی ورثے میں نہیں آتا، ایک سرکاری لیٹر جاری کر کے جیم خانے کو ثقافتی ورثے میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔جیم خانے کے وکیل نے کہا کہ ثقافتی ورثے میں شامل کرنے کے لیے گزٹ نوٹیفکیشن جاری ہوتا ہے، ایس بی سی اے اور کمشنر کراچی کو اختیار نہیں کہ نجی عمارت میں کام رکوائیں۔وکیل خواجہ شمس السلام نے کہا کہ کتنی عمارتیں غیر قانونی تعمیر کی گئی ہیں، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو ان کا خیال نہیں۔جیم خانے کے وکیل نے کہا کہ لیاری میں چند ہفتے قبل عمارت گرنے سے لوگ ہلاک ہو گئے، اس وقت بلڈنگ کنٹرول والے کہاں تھے؟سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے وکیل نے کہا کہ جیم خانہ انتظامیہ نے تعمیراتی کام شروع کر رکھا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت کی جانب سے انتظامیہ کو کام جاری رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔عدالتِ عالیہ نے کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔اس سے قبل کمشنر کراچی افتخار علی شالوانی سندھ ہائی کورٹ پہنچیتو انہوں نے اس موقع پر صحافیوں سے دودھ کی قیمتوں میں اضافے پر گفتگو کرنے سے گریز کیا۔جب ان سے صحافیوں نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق سوال کیا تو کمشنر کراچی نے اس حوالے سے گفتگو کرنے سے گریز کیا۔صحافی نے سوال کیا کہ دودھ کی قیمت سرکاری طور پر 94 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ سرکاری نرخوں سے کہیں زیادہ قیمت پر شہر میں دودھ فروخت ہو رہا ہے۔صحافی کے سوال کا جواب دینے کے بجائے کمشنر کراچی افتخار علی شالوانی وہاں سے چل دیئے۔

مزید :

صفحہ آخر -