وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کیلئے مزید موثر اور جامع حکمت عملی پر مبنی پلان طلب کر لیا

  وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے کیلئے مزید موثر اور جامع حکمت عملی پر مبنی پلان ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، نیوز ایجنسیاں)وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے سے متعلق حکومتی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید موثراور جامع حکمت عملی کیلئے روڈ میپ پرمبنی پلان طلب کر لیا،جبکہ کے الیکٹرک معاملہ پر اہل کراچی کو اعتماد میں لینے،بجلی نرخ مرحلہ وار بڑھانے،ایل پی جی صارفین کو ریلیف فراہمی کیلئے منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا گیا کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت بھی کر دی۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کوآرڈنیشن کمیٹی ہاؤسنگ تعمیرات کااجلاس ہوا، جس میں 13رکنی نیشنل کورآرڈی نیشن کمیٹی نے شرکت کی جبکہ معاشی ماہرین، گورنرسٹیٹ بینک اورصوبوں کے اعلی حکام کی بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں کم لاگت والے گھروں سے متعلق رابطہ کاری اورسہولت کاری پر غور کیا گیا، ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں میں پیشرفت پروزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے تعمیراتی شعبے سے متعلق حکومتی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مزید موثراور جامع حکمت عملی کے لئے روڈ میپ پرمبنی پلان طلب کرلیا۔بعدازاں وزیراعظم نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کی جس میں انہیں کے الیکٹرک سے متعلق تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے نیشنل گرڈ سے اضافی بجلی کی پیشکش کی ہے، کے الیکٹرک کا سسٹم 720 میگا واٹ سے زائد بجلی نہیں لے سکتا جبکہ کے الیکٹرک کو 4500 ٹن فرنس آئل فراہم کیا اور مزید 500 ٹن کی پیشکش کی ہے۔اجلاس میں کے ا لیکٹرک اور حکومت کے درمیان معاہدے پر نظرثانی پر بھی غور کیا گیا جبکہ وزیراعظم نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ہنگامی اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کے ا لیکٹرک کے مسائل حل ہونے تک کراچی کو نیشنل گرڈ سے بجلی دی جائے۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کراچی کے صارفین کیلئے بجلی مہنگی کرنے کا فیصلہ موخر کرنے کی ہدایت کی جس پر وفاقی وزیر امین الحق نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اجلاس میں کے الیکٹرک ٹیرف اور گیس کی قیمتوں کے تعین کے نظام سے متعلقہ امور پر غورکیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ روا ں سال جنوری میں نیپرا کی سفارشات کے مطابق ملک بھر میں ٹیرف میں اضافہ کیا گیا تھا،لیکن کے الیکٹرک کے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وفاقی حکو مت کو اوسطاً تین سے چار ارب روپے ماہانہ کی سبسڈی دینا پڑ رہی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کے الیکٹرک ٹیرف کے حوالے سے تمام حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں اور کے الیکٹرک کے ٹیرف کو ملک کے دیگر حصوں کے مطابق یکساں سطح پر لانے کیلئے مرحلہ وار اضافہ کیا جائے گا تاکہ عوام پر یکدم اضافی بوجھ نہ پڑے۔ گیس کی قیمتوں کے تعین کے معاملے پر غور کرتے ہوئے اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی سطح پر گیس کی پیداوار ملکی ضروریات کے مطابق ناکافی ہے جس کو پورا کرنے کیلئے گیس درآمد کی جا رہی ہے،تاہم مقامی گیس اور درآمد شدہ گیس کی قیمتوں میں واضح فرق موجود ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا ملک میں محض 27فیصد آبادی کو پائپ لائن کے ذریعے ارزاں نرخوں پر گیس فراہم کی جا رہی ہے جبکہ ملک کی دیگر آبادی ایل پی جی سلنڈرز استعمال کر رہی ہے جس کی قیمت پائپ لائن سے فراہم کی جانیوالی گیس سے کہیں زیادہ ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی کہ ایل پی جی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے جامع منصو بہ بندی کی جائے تاکہ آبادی کے بڑے حصے کو کہ جو اپنی ضروریات کیلئے ایل پی جی استعمال کرنے پر مجبور ہیں ان کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کیا جا سکے، گیس کی قیمتوں میں تعین کے مسئلے کو پائیدار بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اس اہم ایشو پر مشاور ت کی جائے تاکہ اجتماعی حکمت سے اس مسئلے کا مستقل بنیادوں پر حل تلاش کیا جا سکے۔بعدازاں سے وزیرِ داخلہ اعجاز احمد شاہ نے ملاقات کی جس میں عید الاضحی پر ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے انتظامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا عیدالضحیٰ پر ایس او پیز پر عملدرآمد کے تمام انتظامی اقدامات کو یقینی بنایا جائے،محرم کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کیلئے بھی ایس او پیز مرتب کی جائیں۔ وزیرِ داخلہ نے وزیرِ اعظم کو ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے چاروں صوبوں کے دوروں اور حکام سے ہونیوالی ملاقاتوں پر بھی بریفنگ دی۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان سے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے ملاقات کی جس میں پاک ایڈ (PakAid) تنظیم کے نمائندے نجم الہدی خان بھی شریک تھے۔گورنر پنجاب اور نمائندہ پاک ایڈ نے وزیراعظم کو پاک ایڈ کی جانب سے 36 ملین روپے کا چیک وزیراعظم اور چیف جسٹس فنڈ برائے دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیم کیلئے پیش کیا۔

مزید :

صفحہ اول -