منی لانڈرنگ اثاثہ کیس، شہباز شریف عدالت پیش، عبوری ضمانت میں 23جولائی تک توسیع

منی لانڈرنگ اثاثہ کیس، شہباز شریف عدالت پیش، عبوری ضمانت میں 23جولائی تک ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس مسعود عابد نقوی اور مسٹر جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل ڈویژن بنچ نے منی لانڈرنگ اور ور آمدنی سے زائد اثاثوں کے نیب کیس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کی عبوری ضمانت میں 23 جولائی تک توسیع کر دی ہے،میاں شہبازشریف کورونا کو شکست دینے کے بعد گزشتہ روز پہلی مرتبہ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ نیب والے اپنے دفتر میں کچھ کہتے ہیں اور عدالت میں کچھ بیان کرتے ہیں،میں نے نیب سے مکمل تعاون کیاہے اور آئندہ بھی جب وہ بلائیں گے تو پیش ہونے کے لئے تیارہوں،میں نے اپنا معاملہ اللہ کے بعد عدالت پر چھوڑ رکھا ہے،اس سے قبل عدالت سے استدعا کی گئی کہ میاں شہباز شریف کے دونوں وکلاء اعظم نذیرتارڑ اور امجد پرویز اسلام آباد میں مصروف ہیں،آئندہ ہفتے قومی اسمبلی کا بجٹ سیشن بھی ہے اس لئے درخواست گزار کی عبوری ضمانت میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے،نیب کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس پاکستان نے نیب کیسز جلد نمٹانے کا کہا ہے اور اس سلسلے میں از خودنوٹس بھی لے رکھاہے،میاں شہباز شریف خود روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میں ڈاکٹروں کے مشورے کے خلاف عدالت کے احترام کی خاطر پیش ہوا ہوں،مختلف فورمز پر میری بیماری کو سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے جس پر جسٹس مسعود عابد نقوی نے کہاکہ عدالت کے آخری آرڈر کے مطابق آپ کوحاضری سے استثنیٰ بھی دیا گیا تھامیاں شہباز شریف نے بنچ کو بتایا کہ نیب حکام نے آخری بار پیشی میں تسلیم کیا ان کی تفتیش مکمل ہو گئی ہے، حلفاً کہتا ہوں کہ نیب کے دفتر میں 7 لوگ بیٹھے تھے جنہوں نے کہا کہ تفتیش مکمل ہوگئی ہے،اب یہ عدالت میں کہہ رہے ہیں میں تفتیش میں تعاون نہیں کررہا،میاں شہباز شریف نے کہا کہ اب میری ضمانت کی درخواست پر اللہ نے یا اس عدالت نے فیصلہ کرنا ہے۔میاں شہباز شریف نے کہا کہ نیب ایسے کیس میں اپنے اختیار کا استعمال نہیں کرسکتاجس میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو،لاہور ہائیکورٹ میں شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر ان سے اظہاریکجہتی کے لئے رانا ثناء اللہ،شائستہ پرویز ملک اورعطا تارڑ سمیت متعدد لیگی وکلاء اور کارکن بھی موجود تھے جبکہ ہائیکورٹ کے مین گیٹ پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی۔

شہباز شریف

لاہور (جنرل رپورٹر) صدرپاکستان مسلم لیگ (ن) اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان سے استعفیٰ د ینے کا مطا لبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیر ہوابازی کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے،وزیر نے جھوٹا بیان دیکر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور انکی ساکھ کو نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟،پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟۔جمعرا ت کو میڈیا سے گفتگو اور جاری کر دہ ایک بیان میں انکامزید کہنا تھا عالمی سطح پر ملک کی بدنامی، قومی ادارے کو اربوں کا نقصان پہنچانے پر وزیراعظم مستعفی ہو ں۔ ڈی جی سول ایوی ایشن کے خط کے بعد وزیراعظم اور وزیرہوابازی کیخلاف کارروائی ہونی چاہئے،ملک کے اربوں روپے کے نقصان کا ذمہ دار وزیراعظم ہے،سرکاری خزانے کو نقصان پہنچا، یہ ہوتا ہے اختیارات کا ناجائز استعمال، یہ ہوتی ہے کرپشن۔سی اے اے کے سربراہ کے خط نے وزیراعظم، کابینہ اور متعلقہ وزیر کو جھوٹا ثابت کردیا۔ دنیا سوال پوچھے گی کہ جس رپورٹ کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیاگیا، اس کی ساکھ کیا ہے؟،دنیا سوال پوچھے گی کہ جب وزیراعظم کی اجازت سے وزیر ایوان میں بیان دے تو وہ کس پر اعتبار کرے؟،وزیر نے جھوٹا بیان دے کر پارلیمان میں غلط بیانی کی تو اس کی سزا کسے ملنی چاہئے؟،وزیراعظم اور ان کے وزیر کی حماقت سے پی آئی اے کو پہنچنے والے ما لی نقصانات کا ازالہ کون کرے گا؟۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے روزگار اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ازالہ کون کرے گا؟۔پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی، اس کی بھی تو کسی کو سزا ملنی چاہئے؟،جعلی پائلٹ نہیں یہ حکومت، وزیراعظم اور وزیر جعلی ہیں،معیشت کریش کرنیوالوں نے پی آئی اے اور اس کی ساکھ بھی کریش کردی۔ملک کا نام بدنام کرنیوالے جعلی حکمرانوں نے قوم کا سکون چھینا، جعلساز حکمران سزا کے مستحق ہیں۔

شہباز شریف

مزید :

صفحہ اول -