سٹیل ملز تمام ملازمین کو نہیں نکا ل سکتی، منصوبہ صرف تباہی، ہوشیاری انتظامیہ کے گلے پڑ جائیگی؛ چیف جسٹس

  سٹیل ملز تمام ملازمین کو نہیں نکا ل سکتی، منصوبہ صرف تباہی، ہوشیاری ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ نے سٹیل ملز ملازمین کی ترقیوں سے متعلق کیس میں پاکستان سٹیل ملز انتظامیہ پر برہمی کا اظہا کرتے ہوئے کہا ہے کہ سٹیل ملز سے متعلق بنایا گیا منصوبہ صرف تباہی ہے، زیادہ ہوشیاری سٹیل ملز انتظامیہ کے گلے پڑ جائے گی،پاکستان سٹیل ملز تمام ملازمین کو نہیں نکال سکتی جبکہ عدالت عظمیٰ وفاقی حکومت سے سٹیل ملز سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ جمعرات کو کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے کی۔ دور ان سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہاکہ کابینہ نے سٹیل ملز کے تمام ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ بھی نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ملازمین کو اس طرح نکالا تو پانچ ہزار مقدمات بن جائیں گے، ایسا ہوا تو سٹیبل چت ہوکر رہ جائے گی۔وکیل سٹیل ملزنے کہاکہ ملازمین کی برطرفی کیلئے 40 ارب درکار ہونگے۔ نیئر رضوی نے کہاکہ سٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلایا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا نہ ہو سٹیل مل انتظامیہ کو برطرف کئے گئے ملازم ہی دوبارہ رکھنے پڑیں۔وکیل سٹیل ملز نے کہاکہ انڈسٹریل ریلیشن قانون کی شق گیارہ آڑے آئے گی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قانون آپ کے آڑے نہیں بلکہ پورا آئے گا۔ بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت سے سٹیل ملز سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -