روسی انٹیلی جنس کے ہیکرز کورونا ویکسین کاریسرچ مواد چوری کرنے کیلئے سرگرم

  روسی انٹیلی جنس کے ہیکرز کورونا ویکسین کاریسرچ مواد چوری کرنے کیلئے سرگرم

  

واشنگٹن(اظہر زمان، بیورو چیف) روس کی انٹیلی جنس سروسز کے ہیکرز مبینہ طور پر امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں کرونا وائرس کیلئے ویکسین کی تیاری پر ہونے والی ریسرچ کا مواد چوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امریکی ٹی وی چینل”این بی سی“ نے ایک تازہ نشریے میں سرکاری حکام کے حوالے سے یہ خبر دی ہے۔ انٹیلی جنس ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ حملے”اے پی ٹی 29“ نامی ایک گروپ کے ذریعے ہو رہے ہیں جو ”مل ویئر“ نامی انٹرنیٹ وائرس کو اس مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔اس دوران امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کے انٹیلی جنس حکام کی طرف سے جاری ہونے ایک مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان تین ممالک کے تحقیقی اداروں کو نشانہ بنانے کی روسی کوشش ان کے لئے انتہائی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک ریسرچ کو اپنے لالچی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے یں جبکہ امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ کا مقصدا یسی ویکسین تیار کرنا ہے جس سے عالمی صحت کو تحفظ حاصل ہو سکے جس کام پر سخت محنت کی جا رہی ہے ٹی وی چینل نے اپنے نشریئے میں مزید بتایا ہے کہ روس نے پہلے کی طرح اس دفعہ پھر ہیکنگ کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔”این بی سی“ نے روسی سرکاری ایجنسی تاس کے ذریعے روسی ترجمان پیسکوف کے بیان کا حوالہ دیا ہے کہ روس کا ایسے کسی معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔امریکی انٹیلی جنس حکام ”اے پی ٹی29“ کو حال ہی میں امریکہ کے سرکاری اور نجی اداروں سے ڈیٹا چرانے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

ویکسین چوری

مزید :

صفحہ اول -