رائس سیکٹر کیلئے الگ وزارت قائم کی جائے، ایسوسی ایشن

رائس سیکٹر کیلئے الگ وزارت قائم کی جائے، ایسوسی ایشن

  

فیصل آباد (اے پی پی)آل پاکستان رائس گروئرز، پروڈیوسرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ دیگر زرعی اجناس کی طرح پاکستان میں بھی چند سالوں کے دوران چاول کی شاندار فصل حاصل ہوئی ہے جبکہ ملک کی ضروریات پوری کرنے کے بعد امریکہ، یورپ، مڈل ایسٹ سمیت عرب ریاستوں و دیگر ممالک میں پاکستانی چاول کی بین الاقوامی منڈیوں میں فروخت میں بھی بھر پور پذیرائی ملی ہے تاہم دنیا بھر میں پاکستانی چاول کے تاثر کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اسلئے حکومت چاول پیدا اور برآمد کرنے والوں کو تمام ممکن سہولیات کی فراہمی اور رائس سیکٹر پر خصوصی توجہ کیلئے الگ وزارت قائم کرے تاکہ رائس سیکٹر کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے نیز پاکستان میں ایکسپورٹ سیکٹر کیلئے قرضوں کی موجودہ شرح سود پر بھی نظر ثانی کر کے اس میں خاطر خواہ کمی یقینی بنائی جائے تاکہ رائس ایکسپورٹر ز کیلئے کاروباری ۱ٓسانیاں پیدا ہوسکیں۔رائس گروئرز، پروڈیوسرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ ان کی ایسوسی ایشن کی شبانہ روز جدو جہد سے نہ صرف چاول کی پیداوار بلکہ اس کی برآمدات میں بھی اضافہ ہو اہے جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ کے حصول کے باعث معاشی استحکام حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رائس ایکسپورٹرز اور رائس ملرزایسوسی ایشن اور ایکسپورٹ ڈیلرز کے اشتراک سے پہلے رائس ڈیٹا بینک کا آغاز کیا گیا ہے جس میں چاول سے متعلقہ تمام شعبوں کو یکجا کیا گیا ہے۔

اور یہ ڈیٹا یومیہ بنیاد پر دنیا بھر میں ایک لاکھ کے قریب چاول سے متعلق اہم لنکس، اداروں، امپورٹرز، چیمبر آف کامرس، بزنس ہاؤسز، رائس پرچیزرز کو ارسال کیا جا رہا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی چاول کی برآمد یقینی بنائی جا سکے۔

مزید :

کامرس -