وزیراعلیٰ محمودخان سیاحتی مقامات کی سٹرکوں کا آج سنگ بنیادرکھیں گے

  وزیراعلیٰ محمودخان سیاحتی مقامات کی سٹرکوں کا آج سنگ بنیادرکھیں گے

  

پشاور(سٹی رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان آج ضلع مانسہرہ کا دورہ کرینگے جہاں وہ وزیراعظم عمران خان کے سیاحت کے وژن کے مطابق وادی کاغان کے سیاحتی مقامات کو جانے والی تین رابطہ سڑکوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان آج 17 جولائی کوضلع مانسہرہ کی کاغان وادی کا دورہ کرینگے جہاں وہ سیاحتی مقامات کو جانے والی تین اہم سڑکوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے مالی سال 2019-20 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں ہزارہ ڈویژن میں سڑکوں کے منصوبے کیلئے 2400 ملین روپے کی منظوری دی ہے، اس منصوبے کے تحت محکمہ سیاحت خیبرپختونخوا کے ذریعہ ضلع مانسہرہ میں تین اہم سڑکیں تعمیر کریگی جس میں وادی ماہ نورروڈ، جس کی کل پیمائش 15 کلومیٹرہے اور اس کی لاگت 686.00 ملین روپے ہے، وادی پاپرنگ روڈ، جس کی کل پیمائش 9 کلومیٹر ہے اور اس کی لاگت382.00 ملین روپے ہے جبکہ تیسراوادی شوگران روڈ، جس کی کل پیمائش 11 کلومیٹرہے اور اس کی لاگت 353.00 ملین روپے ہے، ان تینوں سڑکوں کی کل لمبائی 35 کلومیٹر ہے اور ان پر لاگت 1421.00 ملین روپے ہے، اس کے علاوہ خیبرپختونخوا حکومت صوبے کے سیاحتی مقامات کی رابطہ سڑکوں کا 370 کلومیٹر کا انفراسٹرکچر بھی تیار کررہی ہے، ان سڑکوں کی تعمیر کے ساتھ ہی ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژنزمیں 10 انٹیگریٹڈ ٹورازم زون کے لئے فزیبلیٹی سٹڈیز بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ان پراجیکٹس کے ساتھ ساتھ صوبے کے سیاحتی مقامات میں سیاحوں کیلئے آرام گاہیں، سیاحت سے متعلق معلومات اور سہولت کے مراکز، نیز کیمپنگ پاڈز سائٹ پراجیکٹس کامیابی سے جاری ہیں، ان تمام اقدامات سے صوبے کی سیاحت کی صنعت کو بے حد فروغ ملے گااور اس سے روزگار کے مواقع ملنے سمیت چھوٹے پیمانے پر کاروبارکرنے میں بھی مدد ملے، اس طرح مقامی معیشت کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمات کی فراہمی میں بھی مدد ملے گی۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعرات کے روز اسلام آباد میں ا سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات کی اور صوبے میں سی پیک اور فیڈرل پی ایس ڈی پی کے تحت ترقیاتی منصوبوں، پاک افغان تجارت، کورونا صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا۔ کورونا وباء کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے صوبائی حکومت کی موثر حکمت عملی اور اقدامات کو سراہتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ اس وباء کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کو روکنے کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وباء کی وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دُنیا کی معیشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ موجودہ وفاقی حکومت کو رونا وباء اور ملکی معیشت پراس کے منفی اثرات سے موثر انداز میں نمٹنے کیلئے موثر اقدامات اُٹھار ہی ہے اور اس سلسلے میں تمام وفاقی اکائیوں کو ساتھ لے کر چل رہی ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہا کہ صوبائی حکومت کی بروقت اور موثر اقدامات کی وجہ سے صوبے میں کورونا کے کیسز میں واضح کمی آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی مشکل صورتحال کے باوجود صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور عوامی فلاح و بہبودکے منصوبوں کیلئے نئے بجٹ میں خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبے میں سی پیک کے تحت صنعتی زونز کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ دیگر چھوٹے صنعتی زونز کے علاوہ رشکئی اکنامک زون کے فلیگ شپ منصوبے کا عنقریب افتتاح کیا جائے گا۔

پشاور(سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے سلسلے میں بجلی کی پیداواربڑھانے کے لئے نیشنل الیکٹرک ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) کے مجوزہ 27سالہGeneration Capacity Expansion Plan 2020-47 Indicative )آئی جی سی ای پی) میں صوبے کے اپنے وسائل سے شروع کردہ پن بجلی کے منصوبوں کو نظر انداز کئے جانے پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے نیپرا کواس پلان پر نظر ثانی کرکے صوبے کے آبی وسائل سے پیدا ہونے والی سستی بجلی کے منصوبوں کو اس مجوزہ 27 سالہ پلان میں شامل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ موجودہ صورتحال میں پن بجلی کا شعبہ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے،صوبے میں 30 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے جن سے استفادہ کرکے نہ صرف ملک میں توانائی کے موجودہ بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ وہ گزشتہ روزبذریعہ ویڈیو لنک وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کی پیداوار اور ضروریات کے لئے نیپرا کے مجوزہٰ Generation Capacity Expansion Plan 2020-47 Indicative کے بارے میں چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی کی زیر صدارت منعقدہ سماعت میں خصوصی طور پر شرکت کررہے تھے۔ مشیر توانائی حمایت اللہ خان، سیکرٹری توانائی محمد زبیر خان، چیف ایگزیکٹیو پیڈو نعیم خان کے علاوہ بیرسٹر اصغر خان اور دیگر اعلیٰ افسران نے بھی بذریعہ ویڈیو لنک سماعت میں شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی حکومت کی ٹیم نے نکتہ اُٹھا یا کہ نیپرا کی طرف سے پہلی دفعہ آئی جی سی ای پی فروری 2019 میں شائع کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے پن بجلی کے منصوبوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا۔ پیڈو نے آئی جی سی ای پی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے نیپرا کو رپورٹ کی جو کہ پلان کو منظوری دینے کا مجاز ادارہ ہے۔ اس کے بعد نیپرا نے این ٹی ڈی سی کو ہدایت جاری کی کہ پلان کی نظر ثانی شدہ اشاعت میں خیبرپختونخوا کے منصوبوں کو شامل کیا جائے۔ اس سلسلے میں پیڈو نے جلد ہی اجلاس منعقد کرکے صوبے میں توانائی کے جاری اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ تاہم اپریل 2020کو ایک بار پھر خیبرپختونخوا کے توانائی منصوبوں کے بارے میں دی گئی معلومات کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کے بعد پیڈو کی طرف سے مجوزہ پلان کو مسترد کرتے ہوئے نیپرا کو نظر ثانی کے لئے جامع comments بھیجے گئے تاکہ ان کو زیر غور لایا جاسکے۔ صوبائی حکومت کی ٹیم نے مجوزہ پلان میں صوبے کے منصوبوں کو شامل نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سستی بجلی کی پیداوار کے ان منصوبوں کو شامل نہ کرنا صوبے کے ساتھ نا انصافی کے مترادف ہے جسے کسی صورت قابل قبول نہیں۔ وزیراعلیٰ محمودخان جو کہ پہلی مرتبہ صوبے کی قیادت کرتے ہوئے نیپرا کی سماعت میں شریک ہوئے نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام پن بجلی کے منصوبے خواہ وہ حکومتی شعبہ یا نجی شعبہ میں چلائے جارہے ہیں کو مجوزہ پلان میں شامل کرنے کا پر زور مطالبہ کیا۔ چیئرمین نیپرا توصیف ایچ فاروقی نے صوبائی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کے حوالے سے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ پلان میں صوبے کے پن بجلی منصوبوں کو شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -