”نئی مسلم لیگ بنانے کا آئیڈیا ن لیگ کے ارکان کی طرف سے آیا ہے اور اس کے قائد یہ شخصیت ہوں گے“سینئر صحافی حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا

”نئی مسلم لیگ بنانے کا آئیڈیا ن لیگ کے ارکان کی طرف سے آیا ہے اور اس کے قائد ...
”نئی مسلم لیگ بنانے کا آئیڈیا ن لیگ کے ارکان کی طرف سے آیا ہے اور اس کے قائد یہ شخصیت ہوں گے“سینئر صحافی حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیاہے کہ تحریک انصاف ن لیگ میں فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تمام مسلم لیگ کو جمع کرکے نئی مسلم لیگ بنانے کا آئیڈیا ن لیگ کے ارکان کی طرف سے آیا۔

نجی ٹی وی جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار اور صحافی حامد میر نے کہا کہ مسلم لیگ نون صرف پنجاب میں ہے اسی طرح پیپلزپارٹی سندھ کی جماعت ہے۔ اگر چہ تحریک انصاف کی پنجاب میں کافی نشستیں ہیں لیکن پی ٹی آئی کو خیبر پختونخواہ کی جماعت سمجھا جاتا ہے گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں سندھ اور خیبرپختونخواکے کچھ مسلم لیگ نون کے ارکان پارلیمنٹ نے اپنی پارٹی میں گفتگو شروع کی ہے کہ قاف لیگ ،فنکشنل اور کچھ گروپس کے ساتھ اتحاد کرکے ایک قومی جماعت بن کر سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کو ق لیگ سے اتحاد کا فائدہ پنجاب جب کہ فنکشنل لیگ سے اتحاد کا فائدہ سندھ میں ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ نئی مسلم لیگ کے قائد نوازشریف ہی ہوں گے۔ اس نئی جماعت کو ایک نیاآپشن بنانے کی کوشش کی جائے گی۔حامد میر کے مطابق 2008سے 2013کے درمیان ق لیگ اورمسلم لیگ نون کے اتحاد کی باتیں ہوئی تھیں ،جس پر نوازشریف اور چوہدری شجاعت میں کافی حدتک اتفاق تھا لیکن شہبازشریف اور پرویزالہٰی کے تحفظات کی وجہ سے معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔

انہوں ںے کہا کہ مسلم لیگ نون ،ق لیگ اور فنکشنل لیگ بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے بنے ہیں یا مارشل لاادوار کی پیداوار ہیں۔ مسلم لیگ نون کاتاریخی پس منظریہ ہے کہ جونیجو گروپ کے مقابلے میں نوازشریف نے ضیاالحق کا ساتھ دیا ،مسلم لیگ نون اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے بنی ہے لیکن بعدمیں ان کی سیاست اینٹی ہوتی چلی گئی۔ق لیگ اور فنکشنل لیگ حلیف ہیں اگر یہ دونوں جماعتیں نون لیگ سے اتحاد کرتی ہیں تو انہیں نون لیگ کی سوچ کے ساتھ جانا پڑے گا۔

حامد میر کا کہناتھا کہ مسلم لیگ نون میں ایک تڑکا شہبازشریف کا بھی ہے جو درمیانے راستے پر چل رہے ہیں۔ یاد رہے تمام مسلم لیگ کو جمع کرکے نئی مسلم لیگ بنانے کا آئیڈیا مسلم لیگ نون کے ارکان کی طرف سے آیا ہے ابھی ق لیگ اور فنکشنل لیگ خاموش ہیں۔ مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ نون کے اتحاد کی بھی بات چل رہی ہے جس کے نتیجے میں پنجاب اورمرکزمیں تبدیلی آسکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ڈیڑھ سال میں شہبازشریف کو بہت سی باتیں سمجھ آگئی ہیں ،کچھ دوست انہیں اپنی ڈگر پر چلانا چاہ رہے تھے لیکن شہبازشریف صاحب نہیں چل سکے۔نون لیگ کو درمیانے راستے پر چلنا ہوگا نہ کسی سے ڈکٹیشن لینا ہوگی اور نہ کسی سے محاذ آرائی کرنا ہے۔ سیاسی جماعتوں کو مضبوط بنانے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کسی ادارے سے محاذ آرائی کریں ،مضبوط جماعت کسی شخصیت کی تابع نہیں ہوتی بلکہ شخصیات مضبوط پارٹی کے تابع ہوتی ہیں اسی طرح پاکستان آگے بڑھ سکتا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -