ایران نے صوبے خوزستان میں انٹرنیٹ بند کرتے ہوئے فوج کو تعینات کر دیا

ایران نے صوبے خوزستان میں انٹرنیٹ بند کرتے ہوئے فوج کو تعینات کر دیا
ایران نے صوبے خوزستان میں انٹرنیٹ بند کرتے ہوئے فوج کو تعینات کر دیا

  

تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن )ایران نے حکومت مخالف مظاہروں کے پیش نظر ملک کے جنوب مشرقی صوبے خوزستان میں انٹرنیٹ سروس بند کر کے فوج کو تعینات کر دیا ہے ۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔ عینی شاہدین کا یہ بھی بتانا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خوزستان کے شہر بہبہان سے متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ تازہ ترین مظاہروں کی وجہ کیا ہے۔انٹرنیٹ مانیٹرینگ گروپ نیٹ بلاکس کے مطابق خوزستان صوبے میں جمعرات کی صبح 10 بجے سے انٹرنیٹ سروس بند ہے جس کی وجہ سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک ایرا نی شہری نے رائٹرز کو بتایا کہ عوام بہت غصے میں ہے کیونکہ ملکی معیشت کا برا حال ہے اور ہم اس طرح سے نہیں رہ سکتے۔ایران کی سپریم کورٹ نے رواں ہفتے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کے دوران گزشتہ برس نومبر میں گرفتار ہونے والے تین افراد کی سزائے موت کو برقرار رکھا جس کے حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے گروپ کی جانب سے بھی ایران سے سزائے موت کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -