” پی ٹی آئی نے کلبھوشن کوسہولت فراہم کرنے کے لیے یہ کام کیا ۔۔۔“بلاول بھٹو نے حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

” پی ٹی آئی نے کلبھوشن کوسہولت فراہم کرنے کے لیے یہ کام کیا ۔۔۔“بلاول بھٹو ...
” پی ٹی آئی نے کلبھوشن کوسہولت فراہم کرنے کے لیے یہ کام کیا ۔۔۔“بلاول بھٹو نے حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

  

سکھر(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان پیپلزپارٹی کےچیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےکہاہےکہ پی ٹی آئی حکومت نےخفیہ آرڈی ننس کا اجرا کرکے کلبھوشن یادو کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی،اگر پیپلزپارٹی کےدورمیں اس طرز کا آرڈیننس لایا گیا ہوتا تو اب تک دفاعِ پاکستان کونسل کادھرنااسلام آباد میں جاری ہوتا،کلبھوشن یادو کےحوالےسےآرڈیننس کا اجرااگر کوئی مجبوری تھی تو اس پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن، پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟حکومت کو چاہئیے تھا کہ وہ آرڈیننس کے حوالے سے اپوزیشن کی جماعتوں سے بات کرتی،عمران خان نے ملک کے عوام کو لاوارث سمجھ کر چھوڑ دیا ہے، نائن زیرو کے گینگسٹرز آج تک عمران خان کے ہمراہ حکومت میں شریک ہیں،وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم بننے کو تیار ہی نہیں ہے، لیاری کے ایک گینگسٹر اور احسان اللہ احسان میں تو کوئی برابری نہیں ہے جسے حکومت نے خود فرار کرایا اور اب اگر آپ عمران خان کے خلاف پریس کانفرنس کریں گے تو جواب میں احسان اللہ احسان دھمکی دیتا ہے، خورشید شاہ نے جمہوریت اور اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی پوری زندگی گزاردی،ضمانت ملنا سید خورشید شاہ کا بنیادی حق ہے۔

سکھر میں سید خورشید شاہ کی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے ہمیشہ آزاد عدلیہ کے حق میں بات کی ہے، خورشید شاہ نے جمہوریت اور اس ملک کی ترقی کے لئے اپنی پوری زندگی گزاردی اور وہ ابھی تک مسلسل قید میں ہیں،ضمانت ملنا سید خورشید شاہ کا بنیادی حق ہے جبکہ ابھی تک ان کو کسی کیس میں convicted بھی قرار نہیں دیا گیا، اگر خورشید شاہ کو ان کے آئینی حقوق بھی نہ ملے تو بظاہر یہ تاثر آئے گا کہ سلیکٹڈ حکومت کو سپورٹ کرنے کے لئے اپوزیشن کی جماعتوں پر دبا ڈالا جارہا ہے اور ان سے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رانا ثنااللہ نے اسمبلی میں سلیکٹڈ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ نیب چیئرمین کو بلیک میل کررہے ہیں، بلیک میل کرنا ایک جرم ہے، سیاسی مخالفین اور میڈیا مالکان جیسے میرشکیل الرحمان کے ساتھ جو ہورہا ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کلبھوشن یادو کے حوالے سے پی ٹی آئی حکومت کے خفیہ آرڈیننس کا معاملہ بھی اٹھایا اور آرڈیننس کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بتائے کہ اس آرڈیننس کے اجرا کا آخر ملک کو کیا فائدہ ہوا ہے؟کلبھوشن یادو کے حوالے سے آرڈیننس کا اجرا اگر کوئی مجبوری تھی تو اس پر دیگر سیاسی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن، پارلیمان اور عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟حکومت کو چاہئیے تھا کہ وہ آرڈیننس کے حوالے سے اپوزیشن کی جماعتوں سے بات کرتی مگر آرڈیننس کا اجرا ہوا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آرڈیننس کے اجرا کے حوالے سے اٹھائے گئے ہمارے سوالات کے جواب دے، عوام کی اجازت کے بغیر حکومت یہ آرڈیننس نہیں لاسکتی تھی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے تسلیم شدہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو سہولت کاری مہیا کرنے کے لئے آرڈیننس کا اجرا کیا جبکہ عام انتخابات سے قبل کلبھوشن کے حوالے سے پی ٹی آئی کی پالیسی الگ تھی، اگر پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں اس طرز کا آرڈیننس لایا گیا ہوتا تو اب تک ہمارا جینا حرام کردیا گیا ہوتا،اگر پی پی دورِ حکومت میں یہ سب ہوا ہوتا تو دفاعِ پاکستان کونسل کا دھرنا اسلام آباد میں جاری ہوتا۔ بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ میاں رضا ربانی نے سینیٹ میں یہ معاملہ اٹھایا ہے،قومی اسمبلی میں ہمارے اراکین اس معاملےکواٹھائیں گےاور میں آپ کے توسط سے مطالبہ کرتا ہوں کہ حکومت وضاحت کرے کہ وہ کیوں کلبھوشن یادو کو ریلیف پہنچانے کے لئے اس آرڈیننس کو لے کر آئی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آرڈیننس لایا جاتا ہے تو وہ مخصوص ٹائم فریم کے اندر پارلیمان میں پیش ہوتا ہے مگر پی ٹی آئی حکومت نے ایسا نہیں کیا، پی ٹی آئی حکومت کو وضاحت دینا ہوگی کہ اس آرڈیننس سے بھارت نے کیا فائدے اٹھائے ہیں؟کلبھوشن یادو کو سہولتکاری دینے والے آرڈیننس کے اجرا میں ہم حکومت کو کوئی معافی نہیں دے سکتے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا ٹاک کے دوران وزیراعظم پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان اس بات پر خوش ہے کہ وہ پی ٹی آئی، ٹویٹر اور فیس بک کا وزیراعظم بنارہے، وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم بننے کو تیار ہی نہیں ہے، بحران کے وقت تو کم از کم کسی ایک جماعت کے بجائے عمران خان کو پورے پاکستان کے لئے وزیراعظم کا کردار ادا کرنا چاہئیے تھا، عمران خان نے ملک کے عوام کو لاوارث سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان ملکی تاریخ کا پہلا وزیراعظم ہےکہ وہ قوم کوکشمیرکےمعاملےپراکھٹا نہ کرسکا،عمران خان حالات کوون یونٹ کی جانب لےجاناچاہ رہاہےجس سے ملک کوماضی میں بہت نقصان ہوا،عمران خان اپنےہی ملک کےوزرائےاعلی کو ڈکٹیٹرز کہتے ہیں،عمران خان کورونا وائرس کے حوالے سے ہسپتال بنانے اور ٹیسٹ کروانے کو ایک روپیہ عوام کو دینے کو تیار نہیں اور اس وبا کی آڑ میں وہ آئین پر حملے کررہا ہے، انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے وزیراعظم کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کو دیکھنا ہو تو وہ کلبھوشن یادو کے حوالے سے آرڈی ننس دیکھ لے، این ایف سی ایوارڈ اور آئین پر حملوں سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ سلیکٹڈ لوگ ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ وفاق کی جانب سے سندھ کو اس کے حصے کے 229 ارب روپے کم دئیے گئے، وبا کی اس صورت حال میں سندھ کو اس کے حصے کے اربوں روپوں سے محروم کرنا افسوس ناک عمل ہے، اگر سندھ کو اپنے حصے کے اربوں روپے سے وفاقی حکومت محروم نہ کرتی تو سندھ حکومت صحت کی مزید سہولیات عوام کو مہیا کرسکتی تھی،وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت ٹیکس ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہوئی اور وبا کے ان دنوں میں اس کا نقصان اربوں روپوں کی صورت میں پنجاب کو بھی ہوا، صورت حال یہ ہے کہ وبا کے دنوں میں بھی سندھ حکومت نے زیادہ ٹیکس جمع کئے ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ 18ویں آئینی ترمیم کامیاب ہوئی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس وقت حکومت کی توجہ ملک میں موجودہ بحرانوں کے حل پر ہونا چاہئیے تھی مگر الٹا حکومت ہماری پیٹھ پیچھے کلبھوشن یادو کی سہولت کار بنی ہوئی ہے،حکومت کرونا وائرس کے حوالے سے کوئی کام کرنا ہی نہیں چاہ رہی، پوری دنیا کی حکومتیں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔

مزید :

قومی -