چمن بارڈر کی بندش کے باعث سٹیک ہولڈرز اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات،سپیکر قومی اسمبلی نے بڑا حکم دے دیا

چمن بارڈر کی بندش کے باعث سٹیک ہولڈرز اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات،سپیکر ...
چمن بارڈر کی بندش کے باعث سٹیک ہولڈرز اور مقامی آبادی کو درپیش مشکلات،سپیکر قومی اسمبلی نے بڑا حکم دے دیا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چمن بارڈر کی بندش کے باعث سٹیک ہولڈرز اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل کے حل کے لئے بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سٹیک ہولڈرز اور مقامی آبادی کو درپیش مسائل کے حل کے لیئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں۔

چمن بارڈر اور اس کے گردونواح میں عوام کو درپیش مسائل پر غور کے لیئے بلایا گیا ہنگامی اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت سپیکرقومی اسمبلی اسدقیصر نےکی۔ اجلاس میں وزیراعظم کےمعاون خصوصی برائےاسٹیبلشمنٹ،پارلیمنٹیرینز، پاکستان کے افغانستان کے لئے خصوصی مندوب، پارلیمانی سیکرٹری برائے داخلہ،متعلقہ وفاقی سیکریٹریز اور متاثرہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔سپیکر قومی اسمبلی نے چمن بارڈر کی بندش کی وجہ سے مقامی آبادی اورسٹیک ہولڈرز کو درپیش مسائل کے فوری خاتمے کا اعادہ کیا۔انہوں نے کہا کہ چمن میں لوگوں کو درپیش مسائل بہت اہم نوعیت کے ہیں اور ترجیحی بنیادوں پر اس کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو ہدایت کی کہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر اس معاملے پر غور کریں اور جلد از جلد مسائل کو حل کریں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چمن بارڈر سے ملحقہ علاقوں کے لوگ سالوں سے روایتی انداز میں کاروبار کرتے رہے ہیں اور بہت سے لوگوں کے پاس اپنی دکانیں اور سرحد پار زمینیں ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا وبائی مرض سے وابستہ ایس او پیز کے جاری ہونے کے بعد چمن بارڈر اور اس کے گردونواح میں رہائش پزیر لوگوں کے کاروبار کے سلسلے میں مسائل میں اضافہ ہو گیا ہے۔ نئی پالیسیاں متعارف کروانے اور سخت جانچ پڑتال کے باعث لوگوں کے لئے مشکلات پیدا ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے متاثرہ افراد ان علاقوں میں احتجاج کر رہے ہیں۔چمن سے ممبر قومی اسمبلی صلاح الدین ایوبی نے اجلاس کو چمن بارڈر کی اصل صورت حال سے متعلق آگاہ کیا۔ وزارت داخلہ، نیشنل ہیلتھ سروسز، قواعد و ضوابط اور کوآرڈینیشن کے نمائندوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کا حل کریں۔ کمیٹی کا دوسرا اجلاس آئندہ ہفتے ہو گا۔

مزید :

قومی -