ایک خوبصورت تقریب کا احوال!

ایک خوبصورت تقریب کا احوال!
ایک خوبصورت تقریب کا احوال!

  



شاعر نے تو کہا ہے کہ ”یاد ماضی عذاب ہے یارب“.... لیکن ہم نے ہمیشہ ماضی کو حال کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کی اور یہ کوئی خوشگوار نہیں۔آج کا انسان شدید تر دباﺅ میں ہے۔ اس کی تشریح بھی کوئی کارنامہ نہیں ہوگا، کیونکہ وہ کون سا ایسا مسئلہ ہے،جس کے اثرات محسوس نہ کئے جارہے ہوں۔ ایسے میں ہمیں یاد ہے کہ اس شہرلاہور کے جانثاروں کو سلام، یہاں کے نوجوانوں کو زندہ دل اور اس شہر کو زندہ دلوں کا شہر کہا جاتا ہے جو آج اس صورت میں برقرار نہیں ہے۔یہاں شعر و ادب کی محافل منعقد ہوتیں۔کشتی اورکبڈی سے کرکٹ اور فٹ بال کے کھیل تک ہوتے، میلے ٹھیلے یوں بھی مشہور تھے۔

لاہور اپنے دور کی بہت بڑی مادر علمی تھا، پنجاب یونیورسٹی ، اسلامیہ کالج اور گورنمنٹ کالج اس کی بہت بڑی شہادت ہیں، یہاں گورنمنٹ سکول تھے تو انجمن حمایت اسلام کے سکولوں کا بھی ایک سلسلہ تھا۔ہمیں یاد ہے ” وہ ذرا ذرا“ کے مطابق یہ تعلیمی ادارے علم و عمل کے گہوارے تھے۔کھیل تو اپنی جگہ یہاں تقریری، تحریری اور فنون لطیفہ کے مقابلے ہوتے تھے اور پھر کسی کی ایسی نظر لگی، تعلیمی اداروں میں تو اضافہ ہوا، لیکن ان سرگرمیوں میں بتدریج کمی ہوتی چلی گئی، ادھر ادبی محافل، مشاعرے اور تقریبات کی قلت ہوئی تو اس سے تعلیم کے شعبے میں تحریری،تقریری،فنون لطیفہ اور کھیلوں کے مقابلے کم سے کم ہوتے چلے گئے۔

ایسے ماحول میں جب کبھی تعلیم سے متعلق کوئی اچھی، خوبصورت اور بامقصد تقریب کا سندیسہ ملے تو دل وہاں جانے کو چاہتا ہے۔یہی خواہش ہمیں 90شاہراہ قائداعظم کے ہال میں لے گئی،جہاں ایسی ہی ایک اچھی اور خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔یہ سلسلہ مضمون نگاری، تقریری اور فنون لطیفہ کے مقابلوں میں حصہ لے کر اول آنے والوں کا تھاجو گزشتہ چار سال سے جاری ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہبازشریف سیاست کے حوالے سے تو شعلہ بیاں مشہور ہوہی گئے ہیں، تاہم شعبہ تعلیم میں ان کی دلچسپی بعض پرانی روایات کو بھی واپس لے آئی ہے۔ انہوں نے امتحانات میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباءاور طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے انعامات اور معلوماتی سفر کا سلسلہ شروع کیا،جسے پنجاب سے شروع کرکے دوسرے صوبوں تک بھی بڑھادیا گیا۔ اس حوالے سے انہوں نے چار سال قبل غیر نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی شروع کی۔مقامی سطح سے قصبہ، تحصیل، شہر، ضلع اور پھر صوبے کی سطح تک تحریری، تقریری اور فنون لطیفہ سے متعلقہ مقابلوں کا سلسلہ شروع کرایا اور یہ مقابلے نچلی سطح سے اوپر تک ہونے سے تعلیمی شعبے میں بڑی سرگرمیاں نظر آئیں اور آخری مقابلہ صوبائی سطح پر کرایا جاتا ہے ،پھر ایک تقریب منعقد کرکے انعامات دیئے جاتے ہیں۔

اس سال اپنی نوعیت کا یہ چوتھا سلسلہ تھا اور نچلی سطح سے صوبے کی حد تک اول آنے والے طلباءو طالبات کے نام طے پا گئے تھے، چنانچہ ہفتے کی صبح (دوپہر کہنا بہتر ہوگا)90شاہراہ پر انعامات کے حق دار طلباءاور طالبات کو مدعو کیا گیا،یہاں ایک رنگا رنگ پروگرام بھی ہوا، وزیراعلیٰ کی طرف سے صوبے کی سطح پر بارہ کروڑ روپے کے انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کی گئیں، ہمارے لئے یہ یاد ماضی والی بات تھی کہ ایک سے بڑھ کر ایک اہل طالب علم اور طالبات سامنے آ رہی تھیں۔

متعلقہ حضرات کی طرف سے مدعو کرتے وقت بتایا گیا کہ فنکشن دس بجے شروع ہوگا، اس لئے ہم ساڑھے نو بجے پہنچ جائیں۔ہم ٹھہرے پرانے لوگ ،اس لئے وقت کی پابندی کر ڈالی۔پہنچے تو ہال بھرا ہوا تھا، طلباءاور طالبات کے علاوہ والدین، اساتذہ، پروفیسر،وائس چانسلر، دانشور اور ماہرین تعلیم موجود تھے۔ ہال میں نوجوان طلباءاور طالبات کو گھومتے پھرتے دیکھا۔ان کے چہروں پر خوشی اور شادابی نظر آئی تو دل کو تسکین ہوئی۔تھوڑی دیر میں ہمارے محترم بھائی سپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال آئے، خلوص سے ملے۔پھر رانا ثناءاللہ، مجتبیٰ شجاع الرحمن، زعیم قادری اور پرویز رشید بھی پہنچ گئے۔وزیراعلیٰ میاں محمد شہبازشریف گیارہ بجے پہنچے،شاید آغاز کا یہی وقت تھا ہمیں احتیاطی اطلاع دس بجے کی تھی۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیاکہ اس شدید دباﺅ کے دور میں یہ تقریب دل و دماغ کو ٹھنڈک پہنچانے کے مترادف تھی،جسے ایک منظم انداز میں ترتیب دیاگیا۔ تلاوت کلام الٰہی کے بعد حضوراکرم کی بارگاہ میں نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے بعد شروع ہوا۔اس میں قومی ترانہ (جو طلباءنے پڑھا)اور آسمان کو چھونے والا نغمہ اضافی تھا،جس نے اپنا رنگ جمایا، یوں تو پورا فنکشن ہی اچھا تھا، لیکن ابتداءہی میں ایک ننھی مقررہ زنیرہ مصطفےٰ اور ساتویں جماعت کے طالب علم شاہ زمان نے نہ صرف سماں باندھ دیا ،بلکہ شاہ زمان کے بارے میں یہ سن کر کہ وہ یتیم ہے اور اپنی محنت اور اہلیت سے یہ مقام حاصل کرپایا،فخر کااحساس ہوا۔زنیرہ مصطفےٰ نے تو استعارتی تقریر کی اور خود سیاست دان بننے کا اعلان کردیا ۔اس نے جو خواب بیان کئے، وہ تقریباً وہی تھی جو خود وزیراعلیٰ دیکھتے ہیں۔ننھی زنیرہ کا انداز بیان بھی خوبصورت تھا اور اس نے داد بھی خوب سمیٹی۔جہاں تک شاہ زمان کا تعلق ہے تو وہ دانش سکول حاصل پور میں ساتویں جماعت کا طالب علم ہے، اس ہونہار بچے کے مطابق وہ دو ماہ کا تھا کہ والدہ کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔دانش سکول میں داخلے سے قبل والد کا بھی انتقال ہوگیا، وہ دھرتی پر بوجھ سا بن گیا، لیکن اپنی محنت ، ذہانت اور اہلیت کی بنیاد پر دانش سکول میں داخلے کا حق دار ٹھہرا،جہاں اب اس کے تمام تعلیمی اخراجات سرکار برداشت کررہی ہے ، یوں ثابت ہوا کہ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے۔

اس ہال میں اس مرتبہ پنجاب یونیورسٹی کے تعاون سے پارلیمانی بحث کا ایک پروگرام بھی متعارف کرایا گیا، اسے کہا تو ”پارلیمانی بحث“ ہی گیا ،تاہم اس کا انداز تقریری مقابلے والا ہی تھا، اس میں اصلاح کی بہت گنجائش ہے،چونکہ پنجاب یونیورسٹی کے تعاون ہی سے یہ مسئلہ درسگاہوں تک لے جایا جائے گا،اس لئے ہم توقع رکھتے ہیں کہ اسے بہتر سے بہتر کرلیا جائے۔ بہرحال موضوع تھا،اس ایوان کی رائے میں ”ملک میں تعلیمی نظام یکساں ہونا چاہیے“....قائدایوان اور قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے کی گئی اچھی تقریریں تھیں ، اس کے بعد دونوں طرف سے ایک ایک طالب علم نے حصہ لیا۔دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ہال کو ایوان قرار دیتے ہوئے قرار داد کے لئے رائے لی گئی تو حمایت اور مخالفت میں یکساں آوازیں آئیں، ماڈریٹرنے ہاتھ بلند کرائے تو پھر بھی فیصلہ نہ ہوا، اسے یہاں چھوڑ کر کارروائی آگے بڑھانے کی کوشش کی گئی تو ایک دانشور نے پوچھا فیصلہ کیا ہوا؟سپیکر رانا اقبال سے رجوع کیا گیا، انہوں نے فیصلہ سنایا:”قرارداد منظور ہوگئی“۔دوسرے معنوں میں ایوان نے رائے دی کہ ”نظام تعلیم یکساں ہونا چاہیے“۔

اس رنگا رنگ تقریب کے اور بھی کئی خوبصورت پہلو ہیں۔ وزیراعلیٰ کا انداز جذباتی تھا کہ وہ اس شعبے میں محنت کررہے ہیں۔ہم اس سے یوں مستفید ہوئے کہ ہمارے اندر کوئی کمی نہیں، کمی صرف مواقع کی ہے، اگر اہلیت کو بنیاد بنا لیا جائے،اسباب مہیا کئے جائیں تو ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اللہ کرے ان اہل طلباءکو عملی زندگی میں بھی کامیابیاں نصیب ہوں۔ ٭

مزید : کالم