”12 کروڑ39 لاکھ 34 ہزار436 امیدیں باقی ہیں“

”12 کروڑ39 لاکھ 34 ہزار436 امیدیں باقی ہیں“
”12 کروڑ39 لاکھ 34 ہزار436 امیدیں باقی ہیں“

  

 ہر طرف کر پشن ہے، ہر طرف سکینڈلز ہیں، ہر طرف سازشیں ہیں اوراس کے نتیجے میں ہر طرف مایوسی ہے مگر مجھے ا س کے باوجود آج یہاں امیدوں کے چراغ تلاشنے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس وقت سب سے بڑی امید پاکستان کی سب سے بڑی عدلیہ کے سترہ ججوں سے ہے جو کرپشن اور بدانتظامی کے سامنے دیواربنے کھڑے ہیں، پاکستان میں یہ دیوار تو دیوار چین کی طرح بلند سے بلند ہوتی چلی جار ہی ہے، اس پر کمندیں ڈالنے، اس کو اپنے پاو¿ں تلے روندنے کی خواہشیں رکھنے والے منہ کے بل گر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جس طرح خلا میں جا کے زمین کی صرف ایک چیز دیوار چین ہی نظرآتی ہے، اس طرح پاکستان میں صرف عدلیہ ہی نظر آ رہی ہے، یہ ستر ہ جج سترہ چراغوں کی طرح ان اندھیروں سے لڑ رہے ہیں، کہنے والے اگرچہ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو سب سے پہلے ماتحت عدالتوں میں کرپشن اور بدانتظامی کا نوٹس لینا چاہئے اور یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے مگرا سکے باوجود جو کام ہو رہا ہے اسے نظرانداز کر دینا بھی دانش مندی نہیں ہو گی۔ تازہ ترین صورتحال میں کیا یہ امر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا نہیں رہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے خلاف سازش کا احساس ہوتے ہی قوم ایک مرتبہ پھر متحد ہو گئی اوراس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے وہ مٹھی بھر شرپسند بے نقاب ہو گئے جو عدلیہ کے گرد گھیراتنگ کرنا چاہتے تھے۔ سازشوں اور سکینڈلوں کے اس دور میں میں بھی قوم نے اپنے اجتماعی ضمیر کو بیدار رکھا اور وہ سیاستدان جن پرملک ریاض سے فنڈزلے کر تاریخ ساز جلسے کرنے اور اپنی حکومتوں کے زیر انتظام سکیموں میں کروڑوں روپے فنڈز حاصل کرنے کے الزامات تھے، وہ بھی ملک ریاض کے ساتھ کھڑے ہونے،اس کے لئے چودھری شجاعت حسین جیسی دلیل تراشنے کی جرات نہیں کر سکے کہ ملک ریاض کے فلاحی کام بھی بہت زیادہ ہیں اور ان کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ بائیس کروڑ روپے کے پیڈ اپ کیپیٹل کے ساتھ عوام کی جیب سے سوا سو ارب روپے صرف ایڈوانس کے نام پر نکال لینے والا چند مہینوں اور چند سالوں میں چند کروڑ روپے سے غریبوں کو دال روٹی کھلا بھی دیتا ہے توکیا اس سے ملک ریاض کو یہ لائسنس مل جاتا ہے کہ وہ اربوں روپے کا ٹیکس چوری کرے، میڈیاکے اہم ترین لوگوں کو کرپٹ کرے ، چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف سازش کرے اور ملک و قوم کو بحران کا شکار کر دے۔

چند لوگ ہیں جو عدلیہ کو دوبارہ شاہ دولہ صاحب کا چوہا بنا دینا چاہتے ہیں، وہ چوہا جو عہدے کے کشکول میں آمروں کو جائزیت کی کھیر ڈال کر کھلاتا رہامگر اللہ کا شکر ہے کہ اس کا بند دماغ کھل چکا ہے اور اب بہت سارے دوسروں کے دماغ کے کس بل نکالنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ان مٹھی بھر لوگوں کے دماغوں کے کس بل، جو جمہوریت کے نام پر حکمران بنے رہے، وہ چاہے سیاست میں تھے، عدلیہ میں تھے سول اور ملٹری بیوروکریسی میں، ایک دوسرے کے مفادات کے نگہبان اور مال کے پاسبان بنے رہے مگر پاکستان کے عوام کی اکثریت، اپنے آقا ، نبی آخرالزماں کے اس قول کی عملی تفسیر بنی رہی کہ یہ قوم کبھی بھی کفر پر اور ظلم پر مجتمع نہیں ہو سکتی۔ رسول اکرم کے فرمان کے مطابق ہی برائی کو ہاتھ سے روکنے والے بھی موجود رہے، زبان سے برا کہنے والے بھی اور دل میں برا جاننے والے بھی ۔اللہ تعالیٰ نے بھی اس قوم کو ہر طرح کے خزانوں سے نوازا، برف پوش پہاڑ بھی دئیے اورصحرا بھی، قدرتی وسائل کی بھی فراوانی رہی اور لوگوں میں قوت ایمانی کی بھی۔ اسی دنیا میں وہ ممالک جن کی ترقی ہماری آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے، نوجوانوںجیسی دولت سے محروم ہیں، گویا ان کے پاس ان کا آنے والا کل ہی نہیں اور وہ کبھی لاٹری ویزے شروع کرتے ہیں اور کبھی امیگریشن قوانین میں نرمی کر کے ہمارے جوان دماغوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں۔ ہم زرمبادلہ کے لالچ میں کہتے ہیںکہ ٹھیک ہے ہمارے ڈاکٹر، ہمارے انجینئر ان ممالک میں چلے جائیں۔ یہ نوجوان نسل بہت سارے نام نہاد ترقی یافتہ ملکوں کے پاس نہیں ہے جبکہ میرے وطن میں حالات کو درست کرنے کی 12 کروڑ39 لاکھ 34 ہزار 419امیدیں باقی ہیں، اعداد و شمار کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جن کی عمریں ابھی انتیس سال سے کم ہیں، یہ نوجوان پاکستان کی آبادی میں 65 فی صد سے بھی زائد ہیں۔ یہ ساڑھے بارہ کروڑ کے قریب دل ہیں جو پاکستان کی محبت سے سرشار کئے جا سکتے ہیں، یہ ساڑھے بارہ کروڑ دماغ ہیں جو پاکستان کے جسم کو لاحق امراض کے حل کے لئے علاج سوچ سکتے ہیں، یہ 24کروڑ 78 لاکھ 68 ہزار838 ہاتھ ہیں جو کام کرنے پر آئیں گے تو ملک کے ایک ایک انچ کا نقشہ تبدیل کردیں گے اور اگر میں صرف پنجاب کی ہی بات کروں تو یہاں کی نو کروڑ 39 لاکھ 60 ہزار آبادی میں سے5 کروڑ 78 لاکھ62 ہزار590 نوجوان پندرہ سے انتیس سال کی عمر کے ہیں۔ یہ عمر جوش اور ولولے سے بھری ہوتی ہے، جو کسی ظلم کو برداشت نہیںکرتی تو ہمیں اپنے ملک کے مستقبل سے مایوس ہونے کی کیا ضرورت ہے ، ضرورت تو صرف اس امر کی ہے کہ ہم بار ہ کروڑ سے بھی زائد امیدوں کو ملک ریاض بننے سے روکیں۔ وہ جس جوش اور جذبے کے ساتھ اب ظلم، کرپشن اور بدانتظامی کے خلاف ہیں کل جب وہ اپنے اپنے شعبے میں بااختیار ہوں تو وہاںنمک کی کان میں نمک ہونے، اس ظلم، کرپشن اور بدانتظامی کا حصہ بننے کی بجائے اس کے سامنے دیوار چین بن جائیں۔ نام اور مال پر عزت اورکردار کو ترجیح دیں اور یہ سب ہم اسی صورت کر سکتے ہیں اگر ہم اپنی نوجوان نسل کو اہمیت دیں، ان کے کل کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ پیدا ہونے والا ہر بچہ یہ بتا رہا ہے کہ میرا خدا ، ہم لوگوں سے ابھی مایوس نہیں ہوا اور ہم اگر آج اچھے نہیں تو آنے والے کل میں اچھے لوگوں کی بہتات کر سکتے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر رانا مشہود احمد خان بتا رہے تھے کہ انہوں نے غیر سرکاری تنظیم ” برگد“ کے ساتھ مل کر جو یوتھ پالیسی تشکیل دی ہے اس کے تحت سوا لاکھ طلباو طالبات کو مزید لیپ ٹاپ ملیں گے۔ ڈیڑھ لاکھ نوجوانوںکو تین ارب مالیت کے فنڈ سے 50ہزار فی کس قرضہ دیا جائے گا، 50ہزار طلباءکو انٹرن شپ آفر کی جائے گی،د وارب سے ویمن انڈوومنٹ فنڈ قائم ہو رہا ہے، ملازمتوں میں خواتین کا کوٹہ 15فیصد کیا جا رہا ہے ، لوکل گورنمنٹ میں نوجوانوں کا شئیر پانچ فیصد ہو گا ، زرعی گریجوایٹس اور دیہی نوجوانوں کو سب سڈائزڈ ٹریکٹر ملیں گے۔ رمضان المبارک کے بعد اگست میں یوتھ فیسٹیول ہوگا اوراس سے پہلے پنجاب کی تین ہزار 454 یونین کونسلوں میں تیرہ لڑکوں اور سات لڑکیوں پر مشتمل یوتھ ڈویلپمنٹ کونسلیں بنیں گی۔ یہ کونسلیں اپنے ساتھ آٹھ لاکھ نوجوانوں کو شامل کرتے ہوئے اتنا بڑا یوتھ فیسٹیول کریں گی کہ اس کا ذکر گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں آسکتا ہے اور پاکستان کو دیکھتے ہوئے ہندوستان اور آسٹریلیا نے بھی ایسے یوتھ فیسٹیول کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔ پیدا ہونے والا ہر بچہ معصوم ہے، تعلیم و تربیت کے ذریعے اس کی معصومیت، اس کی اچھائی کا تحفظ کریں، یہ ہمارا شاندار مستقبل بن جائیں گے۔ سپریم کورٹ کے سترہ ججوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے انتیس سال سے کم عمر 12 کروڑ39 لاکھ 34 ہزار 419نوجوان ہمارے چراغ، ہمارے سورج اور ہمارے آنے والے اچھے کل کی امید ہیں ۔۔۔جہاں 12 کروڑ39 لاکھ 34 ہزار 436 امیدیں باقی ہوں وہاں مایوس ہونے کی کیا ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -