ترکی میں کیا ہو رہا ہے؟

ترکی میں کیا ہو رہا ہے؟
ترکی میں کیا ہو رہا ہے؟

  

استنبول میں تقسیم اسکوائر کے قریب گیزی پارک کو ختم کرنے، درختوں کی کٹائی اور وہاں شاپنگ سنٹر کے قیام کے حکومتی منصوبے کے خلاف مئی2013ءکے آخر میں شروع ہونے والے مظاہرے تاحال جاری ہیں۔ حکومت اپنی جگہ ڈٹی ہوئی ہے اور مظاہرین اپنی جگہ۔ صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جا رہی ہے۔ دونوں طرف سے سخت موقف کی وجہ سے فی الحال کوئی اچھی پیش رفت اور بریک تھرو نہیں ہوا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آہستہ آہستہ صورت حال ”کول ڈاﺅن“ ہو جائے گی اور حالات معمول پر آ جائیں گے۔ ترکی میں ان مظاہروں کے بعد میڈیا خاص طور پر یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کے بین الاقوامی میڈیا نے ان مظاہروں کو خصوصی کوریج دی اور حالات کو نسبتاً بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ عرب ممالک کی طرح ترکی میں بھی کوئی انقلاب، تبدیلی یا حکومت کا تختہ دھڑن ہونے والا ہے۔

 ترکی کا پس منظر اور پیش منظر عرب ممالک سے خاصا مختلف ہے، اس لئے یہاں کسی منفی تبدیلی کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ یہاں دس سال سے ایک معتدل جمہوری حکومت قائم ہے جو تیسری بار لوگوں کے ووٹ اور انتخابات کے ذریعے وجود میں آئی ہے اور ہر بار اس حکومتی پارٹی اے کے پارٹی(جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی) کو پہلے سے زیادہ ووٹ ملے، اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ ترکی میں کوئی انقلاب نہیں آ رہا اور حالات آہستہ آہستہ معمول پر آ جائیں گے....جہاں تک موجودہ حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے، تو معاشی، اقتصادی، سفارتی، تعلیمی، صحت اور سیاحت کے شعبوں میں بجا طورپر مثبت تبدیلی آئی ہے اور کوئی بڑا سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ اپوزیشن بھی بہت کمزور ہے اور حکومت کا ”پاپولریٹی گراف“ ہمیشہ بہتر رہا ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی، ترکی کے اسرائیل سے تعلقات، تقسیم اسکوائر، گیزی پارک کے مقامات پر مظاہرے اور حکومتی رویے جیسے معاملات کے بعد وقتی طور پر موجودہ حکومت کا گراف کچھنیچے آیا ہے، جبکہ مغربی میڈیا اور مخالف جماعتوں نے ان ایشوز کو ”ہائی لائٹ“ کر کے اپنے رویے میں سختی پیدا کر لی ہے اور حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔

غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو گیزی پارک اور تقسیم اسکوائر پر ہونے والے مظاہروں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور ان کا کوئی پائیدار حل نکالنا ہو گا۔ ان مظاہرین کے مطالبات پر غور کر کے انہیں مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہو گا۔ ان مظاہروں سے غفلت بدامنی اور حالات کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گی۔ ترکی میں سول سوسائٹی، غیر جانبدار میڈیا، معتدل حلقے اور محب وطن لوگوں کا کہنا ہے کہ گیزی پارک کا معاملہ جلد از جلد حل ہونا چاہئے، جبکہ حکومت اور مظاہرین کو لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو بات چیت اور گفت و شنید سے حل کرنا ہو گا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پولیس کے بے جا ظلم اور سختی کو روکنا چاہئے اور نرم رویہ رکھ کر جائز مطالبات کو حل کرنا چاہئے۔ ان کا مظاہرین کو بھی کہنا ہے کہ وہ پُرتشدد مظاہروں سے باز رہیں اور پُرامن طور پر اپنے مطالبات حکومت کے سامنے پیش کریں۔

دراصل ترکی میں حالات اس وقت بے قابو ہوئے جب حکومت نے ان کی طرف کما حقہ توجہ نہیں دی اور پولیس نے مظاہرین کے خلاف سختیاں کیں۔ مظاہرین زخمی ہوئے، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور دھکم پیل جیسے واقعات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ مظاہرین کا بھی خیال تھا کہ حکومت فوری طور پر گھٹنے ٹیک دے گی۔ سوشل میڈیا، فیس بُک، ٹویٹر نے بھی مظاہروں کی خبروں کو دُنیا بھر میں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ترکوں کی اکثریت ملک میں امن چاہتی ہے اور مظاہرین اور حکومت سے توقع رکھتی ہے کہ وہ جلد ہی گیزی پارک کے مسئلے کا کوئی بہتر حل نکال لیں گے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ آئندہ چند ہفتوں میں یہ مظاہرے اپنے اختتام کو پہنچ جائیں گے اس حوالے سے حکومت اور مظاہرین کو لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔    ٭

مزید :

کالم -