وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات1434ھ اورحکومتی زعماء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سالانہ امتحانات1434ھ اورحکومتی زعماء

  



”وفاق المدارس العربیہ پاکستان“دنیامیں دینی مدارس کاسب سے بڑا تعلیمی نیٹ ورک ہے، صرف پاکستان کے 18ہزار مدارس ”وفاق “ کے ساتھ ملحق ہیں،جبکہ ماضی قریب کے ایک اجلاس میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ دنیابھرمیں موجود مدارس کے وفاق سے الحاق کافیصلہ کرچکی ہے۔ وفاق المدار س کاقیام 1959ءمیں عمل میں آیا،جبکہ پہلاامتحان 1960ءمیںمنعقد ہوا جو اب تک بحمداللہ تعالیٰ تسلسل سے پُرامن اور شفافیت کے ساتھ منعقد ہورہاہے۔ قیام کے وقت سے اب تک 8لاکھ مکمل حافظ قرآن، جبکہ تین لاکھ سے زائد علماءوعالمات آخری امتحان ”الشہادة العالمیہ “میں شرکت کرکے کامیابی حاصل کرچکے ہیں ۔اس سال 28شعبان 1434ھ بمطابق 8جون 2013ءکے امتحان میں دو لاکھ 37ہزارایک سو چھیاسٹھ طلباءوطالبات نے امتحان میں شرکت کی،جبکہ اس امتحان کے لئے ملک بھرمیں 1459امتحانی مراکز قائم کئے گئے اور دس ہزار کے لگ بھگ علمائے کرام اور عالمات نے اس امتحانی عمل کی مشنری جذبے کے ساتھ نگرانی کی۔

ملک کے طول وعرض میں نہ تو نگران عملے اور طلباءوطالبات میں کوئی بدمزگی پیداہوئی اورنہ ہی بوٹی مافیاکاکوئی تصورابھرا۔نہ پرچے آﺅٹ ہوئے ،نہ بکنے کاکوئی واقعہ رونما ہوا۔ وفاق کی امتحانی کمیٹی کی طرف سے ملک بھرمیں دینی مدارس کے اس قابل رشک نظام امتحان اورنظام ترتیب سے آگاہ اورباخبرکرنے کے لئے ماہرین تعلیم ، حکومتی زعماءاور سول سوسائٹی کے ممتاز افرادکو اچانک معائنے کی دعوت بھی دی گئی تھی،جنہوںنے معائنے اور مشاہدے کے بعد کچھ یوں تبصرے کئے.... ”یہ توفرشتوں کی جماعت ہے جو پُرسکون پرچے دے رہی ہے“....”وفاق المدارس کانظام تعلیم وتربیت اورنظام امتحان مثالی ہے“....”بدامنی کے دورمیں امن وامان کاکوئی مسئلہ پیدانہ ہوناایک معجزہ ہے“....”مڈل سطح کے بچوں کی استعداداورانداز تحریر وتحقیق عصری اداروں کے ایم اے سے بہترہے“....امتحانی عمل کو دیکھ کر رشک آتاہے ،کاش ہمارے عصری ادارے بھی ایسے ہی ہوتے“

اس طرح کے ملے جلے جذبات ملک کے طول وعرض میںمعائنہ کرنے والوں کی طرف سے موصول ہوئے ۔بطورنمونہ چند حضرات کے تاثرات ملاحظہ ہوں.... سیکرٹری مذہبی امورآزادحکومت ریاست جموں وکشمیر یوں رقم طرازہیں....جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ چھتر مظفرآبادمیںراقم نے آج امتحانی سنٹرکاجائزہ لیا۔یہ امتحان وفاق المدارس کے زیرانتظام منعقد ہورہاہے۔معائنے کے دوران حضرت مولاناقاضی محمودالحسن اشرف مہتمم جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ چھتربھی راقم کے ہمراہ تھے۔راقم نے بچوں کوامتحان دیتے ہوئے نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ مصروف دیکھااورکچھ پرچے بھی ملاحظہ کئے۔بچوں کے امتحانی پرچوں کامعیاردیکھ کر مَیں حیران رہ گیاکہ سائنس، منطق وغیرہ کے مضامین میں درج اصطلاحات اوران کی تشریح دیکھ کرحیرت ہوتی ہے ۔ بقول شاعر....”ایسی چنگاری بھی یارب میرے خاکسترمیں تھی“۔

دارالعلوم میں بچے اوربچیاں جن کی مجموعی تعداد چارسوکے قریب ہے، ان کی رہائش ،خوراک اورقیام کاانتظام یقیناایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ جہاں انہیں نہ صرف بہترکھانااوررہائش میسرہے، بلکہ حقیقی علم کی دولت سے بھی مالامال کیاجارہاہے۔ مَیں اس موقع پر دارالعلوم کے سربراہ محترم جناب مولاناقاضی محمودالحسن اشرف اوران کے دیگرساتھیوں /اساتذہ کواس پر مبارکباد دیتے ہوئے دعاکرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کارخیرمیں ان کودن دگنی اوررات چگنی ترقی دے۔آمین“....راجہ محمدعباس خان سیکرٹری سماجی بہبود ،ترقی نسواںوزکوٰة وعشرآزادحکومت ریاست جموں وکشمیرامتحانی ہال کامعائنہ کرتے ہوے اپنے ریمارکس میں یوں رقم طرازہیں”مجموعی طورپرآپ کے مدرسے میں ہونے والے امتحانات تسلی بخش تھے،جن کابہت اچھاانتظام کیاگیاتھا۔راقم جتنی دیرپرچہ حل کرنے والے طلباءکے درمیان رہا،اس عرصے میں مَیں نے مشاہدہ کیاکہ طلباءانتہائی نظم ونسق کے ساتھ پرچہ حل کرتے رہے،ان میں سے کسی نے بھی نہ تودوسرے سے مددلینے کی کوشش کی، نہ ہی ان طلباءکانقالی کی طرف رجحان پایاگیا،جیساکہ ہمارے سرکاری سکولوں میں یہ عادت بد پائی جاتی ہے،جس کی وجہ سے ان غلط طریقوں کواختیارکرنے والے طلباءکانہ صرف مستقبل مخدوش ہوتاہے ،بلکہ ایسے طلباءنہ صر ف والدین کی شرمندگی کاباعث بنتے ہیں بلکہ قوم وملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔آپ سے آئندہ ان معاملات کی بہتری کے لئے گفت وشنیدہوتی رہے گی۔ راقم کوآپ کے سنٹرمیں آکردلی طورپرخوشی ہوئی،کیونکہ آپ کسی واضح حکومتی سپورٹ کے بغیرمدرسے کااچھاانتظام وانصرام کررہے ہیں،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ساتھیوں سمیت جزائے خیرعطافرمائے،آمین“۔

 وفاق المدارس یقینااس دورمیں امت کی اجتماعیت کااہم مرکز ہے۔جس کے صدر حضرت اقدس شیخ الحدیث مولاناسلیم اللہ خان دامت برکاتہم اپنی پیرانہ سالی کے باوجود جہاں اپنی دعاﺅں سے ”وفاق “کونوازتے ہیں،بلکہ جوانوںسے بڑھ کر اس کی ترقی کے لئے عملی طورپرکوشاں رہتے ہیں،جبکہ ترجمانی کاحق ادا کرنے والے ناظم اعلیٰ ،حضرت مولاناقاری محمدحنیف جالندھری مدظلہ اورملک کے موقرو محترم اوربیدارمغز علماءاورارباب مدارس کی مشترکہ کاوشوں سے وفاق ”شجر سایہ دار “بن گیاہے۔ اس حال میں مذکورہ بالا تبصرے وہ حقائق ہیں، جن کی تردید ممکن نہیں۔وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی طرف سے امتحانی امورکوبطریق احسن انجام دینے کے لئے اکابرعلماءپر مشتمل ایک امتحانی کمیٹی ہمہ وقت مستعد رہتی ہے۔اس کمیٹی کااہم اجلاس 17جون کوجامعہ خیرالمدار س ملتان میں ہوگا۔جس کے بعد پرچوں کی جانچ پڑتال کاعمل ایک ہی چھت تلے منظم اور شفاف اندازمیں شروع ہوگا۔تین ہفتوںمیں اڑھائی لاکھ طلباءوطالبات کے نتائج تیارکرلئے جائیںگے۔اس صاف وشفاف نظام میں دفتر وفاق کے عملے کاکردار بھی قابل رشک ہے،جوناظم امتحان حضرت مولاناعبدالمجید کے زیرنگرانی مشنری جذبے سے سرشارہوکر اس قومی امانت کی حفاظت اور دینی مدارس کوہر طرح کے شرور سے محفوظ فرمارہے ہیں۔

وفاق المدارس کویہ اعزازحاصل ہے کہ وفاق کے ڈگری ہولڈر اس وقت دنیاکے ہر کونے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات کے ذریعے اشاعت اسلام ،دعوت وتبلیغ ،تعلیم وتربیت اور تزکیہ نفس کے لئے گرانقدر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کویہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ مختلف ممالک سے طلباءوطالبات دینی تعلیم کے حصول کے لئے پاکستان کے دینی مدارس کارخ کرنے کی تمناکرتے ہیں اور شدید ترین پابندیوں کے باوجود اجازت ملنے کی صورت میںپاکستان کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وفاق المدارس کے زیرانتظام امتحانات میں شرکت کرکے اپنے علاقوں کی جانب واپس چلے جاتے ہیں۔بجاطورپریہ کہاجاسکتاہے کہ اگر وفاق المدارس العربیہ پاکستان اورپاکستان کے دینی مدارس اور جامعات نہ ہوتے توعلم دین کی تڑپ لے کر کوئی شخص بھی پاکستان کا رخ نہ کرتا۔اللہ وحدہ لاشریک وفاق المدارس کودن دگنی اور رات چگنی ترقی عطافرمائے،حضرت صدر وفاق اوران کے معاونین کی عمروںمیں برکت عطافرمائے۔     ٭

مزید : کالم