پشتون اور بلوچ قوم پرست پارٹیوں کا ہنی مون؟

پشتون اور بلوچ قوم پرست پارٹیوں کا ہنی مون؟
پشتون اور بلوچ قوم پرست پارٹیوں کا ہنی مون؟

  


بلوچستان کی سیاست بڑے نشیب وفراز سے گزر رہی ہے اور اس میں بہت کم ٹھہراﺅ نظر آتا ہے۔ سیاست میں اضطراب کا پہلو زیادہ غالب ہے ۔محرومیوں اور نظرانداز کئے جانے کا احساس بہت زیادہ ہے ۔احساس محرومی بڑھ کراحساس محکومی میں تبدیل ہوچکاہے اور ایک طرح سے غلامی سی محسوس ہوتی ہے۔ صوبے کی سیاست ہمیشہ ہچکولے کھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک بے چینی سی نظر آتی ہے۔ بلوچستان ایک بھٹکتی ہوئی روح کی مانند ہے۔ سکون کی تلاش میں ہے اور سکون محال دکھائی دیتا ہے۔ صوبہ دو طرح کی کشمکش کاشکار رہا ہے۔ ایک پہلو وفاق اور بلوچستان کی کشمکش کا ہے تو دوسرا پہلو صوبہ میں پشتون اور بلوچ تضاد کا ہے اور ان دونوں قوموں کے درمیان غیر محسوس طور پر تناﺅ موجود نظر آتا ہے۔ اس پہلو سے بلوچستان کی سیاست کا مطالعہ بڑا دلچسپ ہے۔ بعض دفعہ قوموں کو ظلم وجبر متحد کرتا ہے اور کئی دفعہ معاشی اور سیاسی مفادات تقسیم کی زد میں لاکھڑا کردیتے ہیں۔ یہ دونوں پہلو بلوچستان کی سیاست میں بہت واضح ملتے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بلوچستان 1954ءمیں اتنا باشعور نہیں تھا، جتنا آج ہے ۔تعلیم نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ سیاسی شعور تھا ،اس کا انکارنہیں کیا جاسکتا ، مگر قبائلی نظام کی گرفت بہت زیادہ تھی۔ ون ےونٹ کی تشکیل نے چھوٹے صوبوں میں بےزاری اور احساس محرومی کو تقویت دی۔ ایک طرح سے چھوٹے صوبے اور چھوٹی قومیتوں کو بیدار کرنے میں ون یونٹ کا بہت بڑا کردار رہا ہے۔ چھوٹے صوبوں کے اتحاد کو ہم نیشنل پارٹی کے روپ میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس پارٹی نے مشرقی پاکستان ،صوبہ سندھ اور صوبہ سرحد( موجودہ خیبرپختونخوا) کے عوام کو بیدار کیا اور اس صوبے کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں کو نیپ میں تبدیل کردیا۔

قارئین محترم! یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ون یونٹ نے ان سب کومتحد کردیا تھا اور جب جنرل یحییٰ خان نے ون یونٹ ختم کردیا تو نیپ میں تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوگیا۔تقسیم در تقسیم کاعمل اس تیزی سے شروع ہوا کہ حیرت ہوتی ہے۔ ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ جنرل یحییٰ کے انتظامی فیصلہ نے تقسیم کی بنیاد رکھ دی ۔ان کے فیصلہ کا ردعمل دو طرح سامنے آیا۔ ایک طرف پارٹی میں تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوا تو دوسری جانب ون مین ون ووٹ نے ملک کی تقسیم کی بنیاد رکھ دی۔ مشرقی پاکستان نے 1970ءکے انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشستیں آبادی کی بنیاد پر حاصل کرلیں اور پاکستان کی قومی اسمبلی کی کل 313نشستوں میں سے 160 عام نشستیں اور 7 خواتین نشستیںجیت لیں۔ یہ شیخ مجیب الرحمان کی پارٹی عوامی لیگ نے حاصل کیں اور دو نشستیں نور الامین اور راجہ تری دیو رائے کے حصہ میں آئیں اور پیپلزپارٹی نے 80 نشستیں حاصل کیں۔ توازن کا پلڑا مشرقی پاکستان کا بھاری ہوگیا ۔بھٹو نے اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کھیلا اور اکثریت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور ملک تقسیم ہوگیا۔ مغربی پاکستان پاکستان میں تبدیل ہوگیا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش میں ڈھل گیا اور ایک نیا ملک نقشے پر وجود میں آگیا ۔جنرل یحییٰ خان کے فیصلہ نے نیپ کو بھی تقسیم کے عمل سے گزار دیا اور خان عبدالصمد خان شہید نے نیپ سے علیحدگی اختیار کرلی۔ ان کا موقف تاریخی طور درست تھا کہ جو صوبہ جنرل یحییٰ خان نے بنادیاہے،اس میں پشتون قوم کو شامل نہ کیا جائے، کیونکہ تاریخی طور پر پشتون قوم بلوچ ریاست کے ماتحت نہ تھی نہ اس کی باجگزار تھی، اس لئے یہ بلوچستان قبول نہیں ہے ،چنانچہ پشتون خوا پارٹی وجود میں آگئی۔ خان شہید کے راستے بلوچ قائدین اور خان ولی خان سے علیحدہ ہوگئے اور یہ دوری پھیلتی چلی گئی اور صوبہ بلوچستان میں ایک نئی کشمکش کو جنرل یحییٰ خان کے غلط فیصلے نے پروان چڑھا دیا ۔ اب یہ کشمکش ذہنوں میں موجود ہے۔ خان شہید کا مطالبہ پشتونستان تھا، جو وقت گزرنے کے ساتھ اب محمود خان اچکزئی کے دور میں جنوبی پشتون خوا میں ڈھل گیا ہے۔

قارئین محترم! سیاسی تقسیم کا عمل شروع ہوا تو وہ صرف خان شہید تک نہیں ٹھہرا، بلکہ اس عمل نے ولی خان اور بلوچ قائدین کو تقسیم کیا اور پھر سردار مینگل اور بزنجو میں دوری پیدا ہوئی۔ اس کے بعد نواب بگٹی اور مینگل کشمکش نظر آئی، اس کے بعد نواب خیر بخش خان مری ،مینگل اور بزنجو سے دور ہوگئے ،پھر مینگل اور بزنجو علیحدہ ہوگئے۔

قارئین محترم!بعض دفعہ جبر متحد رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے اور جب جبر کا دائرہ ٹوٹتا ہے تومتحدہ شکل کو انتشار اور تقسیم کے عمل سے گزارتا ہے ۔ہم اس کو بلوچستان کی سیاست میں بہت واضح دیکھتے ہیں۔ جنرل یحییٰ خان کے زوال کے بعد ضیاءالحق کی حادثاتی موت نے پاکستان کے قوم پرستوں کو پھر پونم کی شکل میں اکٹھا کردیا۔ یہ اتحاد زیادہ دیرپا نہ رہا ،اس اتحاد میں دو بڑی قومیتیں پشتون اور بلوچ شامل تھیں۔ پنجاب اور سندھ سے قوم پرستوں کی ٹانگہ پارٹیاں شامل تھیں ،جن کی حیثیت سیاست میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ موجودہ انتخابات نے ان سب کا بھرم کھول کر رکھ دیا اور انتخابات میں ان سب کا صفایا ہوگیا ہے۔ عوام نے ان کو مسترد کردیا ہے۔ 2013ءکے انتخابات نے بلوچستان میں حیرت انگیز عمل پیدا کیا ہے۔ اس کے دوپہلو ہیں۔ ایک یہ کہ بلوچ رجحانات کی نیشنل پارٹی اور پشتون سوچ کی پارٹی پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کو اقتدار کی کشش نے ایک لائن میں لاکھڑا کیا ہے۔ ایک اور اہم پہلو کی طرف قارئین کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کہ بی ایل اے اور بی آر پی نے 2013ءکے انتخابات میں بڑا زبردست کردار ادا کیا ہے۔ ایک طرف ان مسلح مزاحمتی گروہوں نے بلوچ حصہ میں ووٹروں کے تناسب کو کم کیا ہے، لیکن پارلیمانی سیاسی پارٹیوں نے سر ہتھیلی پر رکھ کر پولنگ اسٹیشنوں پر اپنے ووٹروں کو پہنچایا ہے اورمنتخب لوگ ایوانوں میں پہنچ گئے ہیں۔

 مجھے اچھی طرح یاد ہے ،جب میری ملاقات اچانک لالہ غلام محمد سے پریس کلب میں ہوئی۔ ان سے میری پہلی ملاقات تھی ۔تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ میرے ساتھ میرا نوجوان ساتھی فاروق لہڑی تھا۔ لالا غلام محمد نے کہاکہ آپ جتنی زیادہ جدوجہد کریں گے، آپ کی وہ جدوجہد پارلیمانی سیاست کرنے والوں کو تقویت پہنچائے گی ۔انہوں نے کہا کہ بلوچوں کی ہر مسلح جدوجہد کا نتیجہ انتخابی سیاست کرنے والوں کو زبردست فائدہ دے گا۔ لالہ غلام محمد شہید نے کہاکہ شادیزئی صاحب انتخابات ہوئے تو پولنگ اسٹیشن کوئی نہیں جائے گا اور بوتھ خالی ہوں گے۔ نواب خیر بخش مری کی سوچ اور ان کے طرز عمل نے بھی سب سے زیادہ فائدہ نیشنل پارٹی کو پہنچایا ، اس لئے کہ نیشنل پارٹی وفاق گزیر پارٹی نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور وفاق کومعلوم تھا کہ پاکستانی قوم پرست بلوچوں پر ہاتھ رکھنا ہوگا ،ابھی پاکستانی پشتون قوم پرست بن گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے نام کے بعد پنجاب اور ان کے مفادات مشترکہ بن گئے ہیں،اس لئے کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ میں ان کے بڑے حجم نے انہیں یکجا کردیا ہے۔ اب وہ پنجابی سے بڑھ کر پاکستانی بن گئے ہیں۔ سوات اور فاٹا میں اے این پی نے کھل کر پاکستانی فوج اور امریکن پالیسی کی حمایت کی ہے اور طالبان سے جنگ میں وہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ کے ہم رکاب تھے ۔اس معاملہ میں وہ پنجاب کو بھی پیچھے چھوڑ گئے تھے ۔ اب سب قوم پرست پاکستانی بن گئے ہیں۔ لالہ غلام محمد شہید نے کہاتھاکہ تم لوگ جتنی زیادہ مسلح جدوجہد کروگے،پارلیمانی سیاست کرنے والی پارٹیاں اتنی تیزی سے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گی اور تمہاری جدوجہد کا ثمر ان کوملے گا ،تم اس کو روک نہ پاﺅگے۔

لالہ غلام محمد نے ایک بات اور بھی کہی کہ بلوچوں کی ہر مسلح جدوجہد کا نتیجہ انتخاب کی صورت میں نکلا ہے۔ 1958ءکی مسلح جدوجہد کا نتیجہ جنرل ایوب خان کے دور میں انتخاب کی صورت میں نکلا۔ نواب خیربخش مری قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے، سردار مینگل مغربی پاکستان اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے اور عبدالباقی بلوچ بھی مغربی پاکستان اسمبلی کے ممبر بنے ،وہ شعلہ بیان مقرر تھے اور بہترین پارلیمنٹرین تھے۔ اس کے بعد ایوب خان کے خلاف جدوجہد کی ۔اس کا تختہ جنرل یحییٰ خان نے الٹ دیا اور انتخابات کا اعلان ہوا تو نواب خیر بخش مری نے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کی نشست جیتی۔ سردار مینگل اور نیپ کے تمام ساتھی انتخاب جیت گئے۔ حکومت بنائی ۔پھر بھٹو کے خلاف مسلح جدوجہد ہوئی ۔جنرل ضیاءالحق نے تختہ الٹ دیا۔ حیدرآباد ٹربیونل توڑد یا۔ ولی خان ،خیر بخش مری، سردار مینگل، بزنجو (مرحوم) شیرو مری اور دیگر سب آزاد ہوگئے۔

جنرل یحییٰ خان اور جنرل ضیاءالحق کا ابتدائی دور بلوچ قوم پرست لیڈروں کے لئے ہنی مون دور تھا ،جو زیادہ دیر نہ چل سکا۔ اس کی وجوہات پر پھر کبھی تفصیل سے تجزیہ کرنا چاہتا ہوں ۔1988ءمیں ضیاءالحق حادثاتی موت کا شکار ہوگئے تو 1974کے بعد سے بلوچ پھرمسلح جدوجہد کی طرف چلے گئے اور یہ جدوجہد اس وقت ختم ہوگئی، جب اسحاق خان نے انتخابات کا اعلان کیا۔

نواب خیر بخش مری اس مرحلہ تک پہنچتے پہنچتے پارلیمانی سیاست سے نالاں نظر آنے لگے ،لیکن انتخابات سے دلچسپی برقرار تھی۔ ان کے دونوں بڑے صاحبزادے چنگیز مری اور گزین مری انتخابات میں کامیاب ہوئے اور وزیر بنے۔ یہ 1993ءکا دور تھا۔ یہ افغانستان سے لوٹنے کے بعد کاواقعہ ہے۔ 1997ءمیں نوابزادہ حیر بیار مری نے انتخابات میں حصہ لیا اور جیت گئے اور وزیر بنے۔ نواب مری ان کی وزارت سے خوش نہیں تھے اور اپنی نشستوں میں اس پر تنقید کرتے۔ آج کل وہ برطانیہ میں پناہ لے چکے ہیں اور آزاد بلوچستان کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اس کے بعد 2002ءکے انتخابات میں بالاچ مری منتخب ہوئے۔ بعد میں وہ مسلح جدوجہد میں مصروف ہوگئے اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں  جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

قارئین محترم!بلوچ قوم پرست دو حصوں میں منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بڑا حصہ پارلیمانی سیاست کاقائل ہے اور ایک حصہ مسلح جدوجہد کا حامی ہے ، نواب خیربخش خان مری ان کے زبردست حامی ہیں اور ان کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔ اپنے کئی انٹرویوز میں اپنے اس موقف کا واضح اعلان کرتے رہتے ہیں کہ بلوچ پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ۔ نواب مری 2002ءکے کچھ عرصہ بعد سے آزادبلوچستان کے موقف کو شدت سے بیان کرتے ہیں۔ ہمیں اس پس منظر کو ذہن میں رکھنا چاہیے ،تاکہ حال اور مستقبل میں سیاست کا تجزیہ کرسکیں اور آگاہی حاصل کرسکیں، اس لئے ایک طائرانہ نگاہ اس پس منظر پر ڈال لیتے ہیں۔ آج اگر نواز شریف نے نیشنل پارٹی کے سر پر کانٹوں بھرا تاج رکھا ہے تو اس کا ماضی میں پس منظر ہے۔ آج پنجاب اور اسٹیبلشمنٹ کو احساس ہوگیا ہے کہ کس حد تک بلوچوں کے مسئلہ کو حل کرنا ہے اور مسلم لیگ کی اکثریت اور پشتون خوا کے پارٹی حجم کو نظرانداز کرتے ہوئے چھوٹی پارٹی کو حق حکمرانی سونپ دیا ہے۔ نیشنل پارٹی اور اس کا وزیراعلیٰ بلوچستان کی تاریخ کے اسٹیج پر سب سے بڑی آزمائش اور کشمکش میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ آج نیشنل پارٹی کو جو اقتدار ملا ہے تو اس کی پشت پر مسلح جدوجہد کرنے والوں کا تاریخی عمل اور نواب خیر بخش مری کے خیالات کے اثرات ہیں۔ پہاڑوں پر جدوجہد کرنے والے نوجوانوں کی جدوجہد نے پارٹی سیاست کو تقویت پہنچائی ہے اور ان کی کوششوں کا پھل نیشنل پارٹی کووزارت اعلیٰ کی صورت میں ملاہے۔ اب نیشنل پارٹی کو بہت محتاط طریقے سے سفر شروع کرنا ہوگا۔ پھونک پھونک کر قدم اٹھانا ہوگا ۔نہ جذباتی تقریروں کا مرحلہ ہے، نہ جذباتی انٹرویو زکا،نہ بلند بانگ دعووں کا!   ٭

مزید : کالم