کوئٹہ میں انسانیت سوز دہشت گردی

کوئٹہ میں انسانیت سوز دہشت گردی

کوئٹہ کی سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے اور بعد میں بولان میڈیکل کمپلیکس میں لے جائے گئے زخمیوں پر دستی بم پھینکنے، خود کش دھماکے اور فائرنگ سے کوئٹہ کے ڈپٹی کمشنرعبدالمنصور، ڈاکٹرشبیر مگسی، 4 نرسوں، 11 طالبات،سیکیورٹی کے 4 افراد سمیت 32 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں ،جبکہ چار دہشت گرد ہلاک اور ان کا ایک ساتھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یونیورسٹی بس میں ریموٹ کنٹرول سے بم دھماکہ اُس وقت کیا گیا، جب طالبات چھٹی کے وقت اپنے گھروں کو واپسی کے لئے بس میں سوار ہو رہی تھیں۔ان حملوں میں35سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہے۔زخمیوں میں یونیورسٹی کی 22طالبات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں نے زیارت کے مقام پر قائداعظم ریذیڈنسی اور اس میں موجود تاریخی نوادرات کو بھی تباہ کردیا ہے۔ حملوں میں اے سی انور علی بھی شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ یونیورسٹی طالبا ت اور ہسپتال پر حملوں کی ذمہ داری لشکر جھنگوی اور قائداعظم ریذیڈنسی پر حملوں کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی ہے۔ وزیراعظم ، صدر اور تمام اہم سیاسی رہنماﺅں نے بے گناہ شہریوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نہتے عوام پر اِس طرح کے سنگدلانہ حملے ناقابل برداشت ہیں، ملک کو ایسی دہشت گرد ی کی کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ہر ممکن اقداما ت کئے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ نے قائداعظم ریذیڈنسی کو اِس کی اصل حالت میں از سر نو تعمیر کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ(ن) بلوچستان کے صدر ثناءاللہ زہری نے اِن واقعات کو صوبائی اور وفاقی حکومت کو ناکام بنانے کی کوشش قرار دیا اور کہا ہے کہ صوبے میں غیر ملکی ہاتھ سرگرم ہے،جب تک صوبے میں سرگرم غیر ملکی قوتوں سے آہنی ہاتھ سے نہیں نمٹا جاتادہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔

ہسپتال میں زخمیوں کے پہنچنے کے بعد دہشت گردوں نے ہسپتال کی عمارت کو اپنے قبضے میں لے لیا اور کلاشنکوف بردار دہشت گرد ہسپتال کی چھت پر چڑھ گئے، جہاں انہوں نے ہسپتال آنے والے ہر شخص کو گولیوں کی زد پر لینا شروع کردیا۔ دہشت گردوں نے35 افراد کو یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے ایمبولینسوں پر بھی گولیاں برسائیں۔ ہسپتال میں ایک ہینڈ گرنیڈ بھی پھینکا گیا۔ ایک خود کش حملہ آور نے بھی خود کو دھماکے سے اُڑا دیا۔ تاہم ایف سی کمانڈوز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے دہشت گردوں کے قبضے سے یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرالیا گیا۔

نئی حکومتوں کے قیام کے بعد بلوچستان میں پہلی بار ہونے والے دہشت گردی کی یہ بڑی کارروائیاں انتہائی افسوسناک اور ایک بڑا قومی المیہ ہیں ۔ اس سے پوری قوم تشویش میں مبتلا ہوگئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں نے نئی حکومت کے قیام کے بعد سے دہشت گردی کی کارروائیاں بند کررکھی ہیں۔ لیکن کوئٹہ میں ایک معتدل مزاج اور مدبر شخص جناب عبدالمالک بلوچ کے متفقہ طور پر وزیراعلیٰ منتخب ہونے اور ان کی طرف سے دہشت گردوں اور ناراض لوگوں سے مذاکرات شروع کرنے کی دعوت کے بعد بلوچستان میں قیام امن کی اُمید پیدا ہوگئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے کسی رکن یا کسی روایتی سردار اور وڈیرے کو بلوچستان میں اقتدار دینے کے بجائے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک مقبول شخصیت کو وزارت ِ اعلیٰ کا عہدہ دیا تاکہ وہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر لاسکیں اور صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے بعد تعمیر و ترقی کے کاموں کی رفتار تیزکی جا سکے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے چند ہی روز قبل گم شدہ افراد کی بازیابی کے لئے لگائے گئے احتجاجی کیمپ میں جا کر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر علامتی دھرنا بھی دیا تاکہ ایسے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں اپنی سنجیدگی اور اخلاص کا ثبوت دے سکیں۔ انہوں نے اقتدار سنبھالتے وقت صوبے میں امن قائم کرنے کے لئے ناراص لوگوں کو مذاکرات کی دعوت دی اور واشگاف الفاظ میں کہا کہ وہ اپنی بات منوائیں گے اور اگر قیام امن کے لئے کسی طرف سے اُن کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو وہ وزارت اعلیٰ چھوڑ کر گھر چلے جائیں گے۔ نئے وزیراعلیٰ آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ناراض لوگوں کے بہت سے جائز مطالبات ماننے کے حق میںہیں اور اپنے بیانات میں اُن کے مطالبات کی کئی لحاظ سے تائید بھی کرچکے ہیں۔ ایسے حالات میں لشکر جھنگوی یا بی ایل اے کی طرف سے اِن انسانیت دشمن اور بہیمانہ حملوں کا نہ کوئی جواز ہے نہ اُن کی طرف سے ایسی کسی حرکت کو عقل مانتی ہے۔

واضح امکان اِسی بات کا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کی مقبولیت اور ناراض گروہوں میں اُن کی رسائی سے ہمارا دشمن پریشان ہو رہا ہے۔دشمن کی طرف سے مختلف گروہوں کے نام سے ایسی انسانیت دشمن کارروائیوں کے ذریعے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ بلوچستان میں حکومت کے خلاف بندوق اُٹھانے والوں اور حکومت کے درمیان اختلافات ختم کرنے کی موثر کوششوں سے پہلے ہی اُن کی ناکامی کے سامان پیدا کردئیے جائیں۔

بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال خطہ ہے، گوادر کی بندرگار کا انتظام چین کو دینے کے بعد پورے صوبے سے گزرتی اور چینی سرحد تک پہنچتی ہوئی ریلوے لائن اور سٹرکوں کی تعمیر کے منصوبے اِن طاقتوں کو آسانی سے ہضم نہیں ہوسکتے، جو انہیں اپنے مفادات کے منافی سمجھ رہے ہیں۔ اِسی طرح بلوچستان سے گزر کر دوسرے صوبوں تک پہنچنے والی ایرانی گیس پائپ لائن بھی بہت سی طاقتوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔ دشمن پورے کیل کانٹے سے لیس ہو کر بلوچستان میں ہمارے خلاف جنگ کا محاذ کھول چکا ہے۔بلوچستانی عوام پاکستان کے ساتھ دل وجان سے محبت کرتے ہیں اور دوسرے علاقوں کے ہم وطنوں کے لئے خیر سگالی اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں، لیکن ہماری دشمن طاقتیں بھاری سرمایہ کاری کے ذریعے بلوچستان میں شروع کی گئی ایسی کارروائیوں اوراپنے مقاصد کے لئے خود بلوچستان سے خریدے گئے مٹھی بھر لوگوں کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش میں ہیں کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کی صفوں میں ایسی کوئی سوچ ہے نہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی میں کسی کا فائدہ ہے اور نہ ایٹمی پاکستان کے کسی علاقے کو دُنیا کی کوئی طاقت اس سے علیحدہ کرنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتی ہے۔

پاکستان کے دشمنوں پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کی علاقائی سا لمیت کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا ۔ اس زمانے میں پاکستان کی سا لمیت کو نقصان پہنچانے کا واضح مطلب پوری دُنیا کے امن و امان کو تہہ و بالا کرنا ہوگا۔ یہ دُنیا کسی نئی عالمی جنگ کی متحمل ہو سکتی ہے نہ ایٹمی جنگ کے بعد کسی کے ہاتھ میں کچھ باقی رہ جائے گا۔بیرونی طاقتوں کی سپانسرڈ دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کا مقصد پاکستان پر دباﺅ ڈالنے اور اس کے مسائل میں اضافہ کرنے کے سوااور کچھ نہیں ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی معاون ہیں، جنہیں بلوچستان کے عام لوگوں کی فلاح وبہود اور ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ بلوچستان کی حکومت ، وفاقی حکومت اور تمام سیکیورٹی ایجنسیوں کو یکسو ہو کر بلوچستان کے ناراض لوگوں سے معاملات جلد از جلد طے کرکے پاکستان کے دشمن کے مقابلے میں پوری قوت سے نکل آنا چاہئے ، ورنہ دشمن کی طرف سے اِس طرح کی انسانیت سوز کارروائیوں سے پیچھے ہٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔

مزید : اداریہ