تیسری سہ ماہی کے دوران بے روزگاری کی شرح 6.3فیصد رہی

تیسری سہ ماہی کے دوران بے روزگاری کی شرح 6.3فیصد رہی

                                                                        اسلام آباد (این این آئی) رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران ملک میں بے روزگاری کی شرح 6.3فیصد رہی ¾ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران بے روزگاری کی شرح 6.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان( پی بی ایس) کی لیبرفورس سروے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے مقابلہ میں تیسری سہ ماہی کے دوران ملک میں بے روزگاری کی شرح میں 0.2 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق اکتوبر تا دسمبر2012ءکے دوران بے روزگاری کی شرح 6.5 فیصد تھی جبکہ جنوری تا مارچ 2013ءکے دوران مجموعی افرادی قوت کا 6.3 فیصد حصہ بے روزگاری کا شکار تھا۔ ملک میں توانائی مسائل اور سست اقتصادی ترقی کے باوجود بے روزگاری کی شرح میں میں ہونے والی کمی سے لیبر فورس سروے رپورٹ میں مرتب کئے جانے والے اعدادوشمار پر سوالیہ نشان لگ گیا کہ آیا توانائی بحران اور اقتصادی شرح نمو میں سستی کے باوجود ملک میں روزگار کی فراہمی کے مواقع بڑھ گئے ہیں۔ لیبر فورس سروے کے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی مجموعی افرادی قوت کا 25.6 فیصد حصہ خاندانی کاموں میں بطور خاندانی ورکرکے کام کررہے ہیں جن کو کام کا کبھی کوئی بھی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔ رپورٹ کے مطابق جنوری تا مارچ 2011-12ءکے مقابلہ میں جنوری تا مارچ 2013ءکے دوران بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور بے روزگاری کی شرح 6.1فیصد سے بڑھ کر6.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ مالی سال 2011-12ءکے اعدادوشمار کی عدم دستیابی کا سبب دوران سال لیبر فورس کے سروے نہ کیا جانا ہے۔ توانائی بحران اور سست اقتصادی ترقی کے باوجود بے روزگاری کی شرح میں ہونے والی کمی کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار میں کوئی ہیر پھیر نہیں ہوا بلکہ بے روزگاری کی شرح میں کمی کے سلسلے میں موسمیاتی عوامل کا کردار انتہائی اہم ہے جس کے باعث بے روزگاری کی شرح مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے دوران کم ہوئی ہے۔

 پی بی ایس حکام نے اس حوالے سے کہا کہ سوشل سیکیورٹی نیٹ ورک کے مسائل بھی بے روزگاری کی شرح میں کمی کے بنیادی عوامل میں شامل ہیں۔ پی بی ایس کی سروے رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران شہری علاقوں میں بے روزگاری کی شرح 10.1 فیصد تھی جو کم ہوکر8.8 فیصد ہوگئی ہے جبکہ گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران بڑے شہری علاقوں میں شرح 9.1 فیصد سے کم ہوکر8.8 فیصد ہوگئی ہے ، دیہی علاقوں میں بے روزگاری کی شرح میں انتہائی معمولی 0.1فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو5فیصد سے بڑھکر5.1فیصد ہوگئی۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی مسائل کے خاتمہ اور صنعتی شعبہ کی بحالی سے بے روزگاری کی شرح میں مزید کمی کی جاسکتی ہے جس سے غربت کے خاتمہ اورملکی معیشت کے استحکام میں مدد ملے گی

مزید : کھیل اور کھلاڑی