بلوچستان پینسٹھ برس میں قیام امن کی کوششوں کے دوران ساڑھے پندرہ ہزار جانیں ضائع

بلوچستان پینسٹھ برس میں قیام امن کی کوششوں کے دوران ساڑھے پندرہ ہزار جانیں ...

                                  لاہور(نوازسنگرا)قیامِ پاکستان کے65برس گزرنے کے بعد بھی بلوچستان میں امن قائم نہ ہوسکا صوبے میںقیامِ امن کی کوششوں کے دوران اب تک مجموعی طورپر ساڑھے 15ہزار جانیں ضائع ہوچکی ہیں ان میں بلوچ باغیوں کے5ہزار 6سو افراد کے علاوہ6ہزار 7سو عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے3ہزار3سو اہلکار بھی شامل ہیں اس عرصے کے دورا لگ بھگ 5ہزار بلوچوںکو حکومت مخالف کارروائیوں پرگرفتار کیاگیا،5ہزار سے زائد افرادابھی لاپتہ ہیںجبکہ 1لاکھ 40ہزار سے زائد بلوچ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں ،جھڑپوںکے دوران ایران کے بھی54سکیورٹی اہلکار اورعام آدمی مارے جاچکے ہیں بلوچستان میں سید تضاد 1984ءمیں ہوا جب بلوچ راہنما خان آف قلات احمد بار کی سربراہی میں الس بیلہ،فاران اور مکران کے اضلاع نے پاکستان میںشمولیت اختیار کی دوسری کشیدگی 1958-59ءمیںسامنے آئی جب نواب نوروز خان نے ون یونٹ پر اختلاف میںحکومت کے خلاف ہتھیارڈال ئیے ،تیسری بار بھڑپیں بھی ہوئی جب1963-69ءمیںہوئیں جب حکومت نے قبائلی علاقوں میںفوجی چھاﺅنیاں قائم کرنے کی کوشش کی ،جس کی بگٹی اورمری خاندان نے بڑھ چڑھ کر مخالفت کی ،چوتھی باراُس وقت معرکہ آرائی ہوئی جب1973-77ءمیںذوالفقار علی بھٹونے صوبہ بلوچستان اور سرحد میں حکومت کو برطرف کرکے مارشل لاءلگادیاار پانچویں اورآخری بار کشیدگی جب ہوئی تو ختم ہونے کاسوال ہی پیدا نہ ہوئی جس نے پورے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،بلوچ راہنما اکبر بگٹی سمیت سینکڑوں لوگ مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کی کارروائیاںآئے روز بڑھتی جارہی ہے۔

جانیں ضائع

مزید : صفحہ آخر