پنجاب:سندھ اور خیبر پختونخواکے بجٹ آج پیش ہوںگے

پنجاب:سندھ اور خیبر پختونخواکے بجٹ آج پیش ہوںگے

                 اسلام آباد (ثناءنیوز) پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے بجٹ آج (پیر کو ) کو پیش کئے جارہے ہیں بجٹس صوبائی کابینہ کی باضابطہ منظوری کے بعد اسمبلیوں پیش ہونگے۔ سرکاری ملا زمین کی تنخواہوں میں سب سے زیادہ اضافہ سندھ میں متوقع ہے ۔پنجاب میں دس فی صد ، خیبر پختونخوا میں پندرہ فی صد تک سرکاری تنخواہوں میں اضافہ ہوگا ۔پنجاب کا 870 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے۔ لیپ ٹاپ سکیم اور دانش سکول منصوبہ جات جاری رہیں گے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں دس فیصد اضافہ کیے جانے کی توقع ہے ۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج شام چار بجے طلب کیا گیا ہے جس سے پہلے بجٹ صوبائی کابینہ کے سامنے منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ترقیاتی بجٹ کا حجم 275 ارب روپے تک ہو گا جس میں تعلیم اور صحت کے لئے رقوم میں نمایاں اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ امن وامان کے لئے پنجاب پولیس کا بجٹ 77 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔ چار ارب روپے صوبے میں لیپ ٹاپ سکیم کے لئے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ دانش سکول مزید بنائے جائیں گے۔ چھوٹے قرضوں کا اجرا بھی جاری رہے گا لیکن اس کی رقوم کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ توانائی بحران میں کمی لانے کے لئے چھوٹے ہائڈل پاور منصوبوں کے لئے زیادہ رقوم مختص کی جا رہی ہیں جبکہ زرعی ٹیوب ویلوں کے لئے سولر ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی جس کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی نئے مالی سال کا بجٹآج پیش کیا جائے گا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ صحت اور تعلیم کے لیے مختص بجٹ میں آٹھ فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ صحت کے شعبے کے لیے الگ سے بھی آٹھ ارب روپے رکھے جائیں گے۔ پشاور کی خوبصورتی کے لیے دو بڑے منصوبوں کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ شہر کی اصل خوبصورتی بحال کرنے کے لئے میگا پراجیکٹس وقت کی ضرورت ہیں۔ دوسری جانب سندھ حکومت نے بھی 6 کھرب 70 ارب روپے سے زائد کا بجٹ تیار کر لیا ہے جو آج سندھ اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ میں صحت کے لئے 49 ارب 50 کروڑ روپے اور سرکاری ملازمین کے لئے ہیلتھ انشورنس پالیسی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ بجٹ میں امن و امان کے لئے مجموعی طور پر 70 ارب روپے مختص کرنے، ساڑھے سات ہزار پولیس اہلکاروں کو فوری بھرتی کرنے اور 1 ارب روپے کے شہدا فنڈ کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ تعلیم کے لئے 110 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی رکھی گئی ہے۔ کراچی اور حیدر آباد میں بسوں کی خریداری کے لئے 1 ارب روپے اور تھرکول اور سرکلر ریلوے کے منصوبوں کے لئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

بجٹ

مزید : صفحہ اول