حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بیس پرسنڈ اضافہ کرے اپوزیشن ارکان

حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بیس پرسنڈ اضافہ کرے اپوزیشن ارکان

             اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں اتوار کواس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی جب وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے پیپلز پارٹی کے رکن ایاز سومرو کی طرف سے پانی کی تقسیم کے حوالے سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیا پیپلز پارٹی کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور شیم شیم کے نعرے لگانے شروع کر دیئے اس سے ایوان کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا تاہم سپیکر ایاز صادق تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کو مزید آگے بڑھنے سے روک دیا اس سے قبل بجٹ بحث کے دور ان پیپلز پارٹی کے ایاز سومرو نے بتایا کہ سندھ کو پانی نہیں مل رہا ہے وفاقی حکومت کو پانی کی تقسیم کے حوالے سے منصفانہ اور غیر جانبدانہ پالیسی بنانی چاہیے ورنہ صوبوں اور وفاق کے درمیان جنگیں شروع ہو جائیں گی اس پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال کھڑے ہوگئے اور کہاکہ ہم سب کو اظہار خیا ل کر نا چاہیے مگر ملک کے مفادات کے خلاف بات نہیں کر نی چاہیے 1991میں میاں نواز شریف نے پانی کامعاہدہ کروایا اور اسی کے تحت صوبوں کو پانی مل رہا ہے اس پر پیپلز پارٹی کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہوگئے اور بیک وقت بولنا شروع کر دیا اور شیم شیم کے نعرے بھی لگائے جس سے ایوان ہنگامہ آرائی کا شکار ہوگیا اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پیپلز پارٹی کے نواب یوسف تالپور کو بولنے کی اجازت دی تو نواب یوسف تالپور نے کہاکہ ہم 1991کے واٹر ریکارڈ کو تسلیم کرتے ہیں مگر اس پر عمل در آمد نہیں ہورہا ہے اس معاہدے پر کچھ تحفظات تھے مگر پھر بھی اسے تسلیم کیا لیکن اس کے مطابق سندھ کو پانی نہیں مل رہا ہے اس پر پیپلز پارٹی کے ارکان نے ایک مرتبہ پھر شیم شیم کے نعرے لگائے اور کئی ارکان نے سپیکر سے بولنے کی اجازت چاہی مگر سپیکر نے انہیں اجازت نہیں دی اور سردار اویس لغاری کو بجٹ تقریر کی دعوت دےدی۔ قومی اسمبلی اپوزیشن اراکین نے بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں ریلیف کی بجائے ٹیکسوں میں اضافہ کر کے عوام پر بوجھ ڈال دیا گیا ہے جبکہ حکومت اراکین نے کہا ہے کہ حکومت کو تباہ حال معیشت ورثے میں ملی ہے جس کے باعث سخت اور مشکل فیصلے کر نا پڑے حکومتی اخراجات اور وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈ میں کٹوتی کرکے عوام کو مثبت پیغام دیا گیا کہ عوام کے ساتھ حکومت خود بھی قربانی کےلئے تیار ہے ¾ غریب عوام کی زندگی میں بھی بہتری لائی جائے گی ۔قومی اسمبلی میں اتوار کو بھی نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث جاری رہی جس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے حصہ لیا جمعیت علمائے اسلام (ف)کے مولانا محمد خان شیرانی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ بجٹ میں آمدن کم اور اخراجات کا زیادہ ظاہر ہونا افسوسناک ہے سودی قرضوں پر نظام چلانا اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دینا ہے بجٹ سرمایہ دارانہ ہے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آئی ایم ایف کے قرضوںپر چل رہا ہے اتحادی سپورٹ فنڈ اپنے شہریوں کو مارنے کے عوض مل رہا ہے ہمیں دہشتگردی کےخلاف جنگ سے باہر نکل آنا چاہیے ہم ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیںانہوںنے کہاکہ سرمایہ دارانہ بجٹ سے عوام کی بھلائی ممکن نہیں ہے سرمایہ دارانہ نظام میں عوام کی جگہ اہمیت سرمائے کی ہوتی اور منافع سرمایہ دار کا ہوتا ہے انہوںنے کہاکہ بجٹ کو سود سے پاک اور اسلامی اصولوں پر استوار کیا جائے اور اسے عوامی بنایا جائے سرکاری ملازمین اور مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کیا جائے وفاقی وزیر تنویر حسین نے کہاکہ اپوزیشن کی بجٹ پر تنقید بلا جواز ہے تنقید برائے تنقید کی جائے اپوزیشن ارکان کو مثبت تجاویز پیش کر نی چاہئیں ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کو معیشت کی تباہی کی وجہ سے سخت اور مشکل فیصلے کر نا پڑے لیکن ان کا آغاز حکومتی اخراجات اور وزیر اعظم کے فنڈز میں کٹوتی کر کے عوام کو مثبت پیغام دیا گیا ہے کہ عوام کے ساتھ حکومت خود بھی قربانی کےلئے تیار ہے غریب عوام کی زندگی میں بھی بہتری لائی جائے گی انہوںنے کہاکہ غریبوں کو گھر فراہم کر نے کی سکیم متعارف کروائی گئی ہے نو جوانوں کےلئے فنڈز رکھے گئے ہیں جب بھی پیپلز پارٹی برسر اقتدار ائی اداروں میں بگاڑ آیا لیکن ن لیگ نے آکر حالات درست کئے انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ میثاق جمہوریت پر عمل کیا جائے وہ بتائیں کیا پنجاب میں گور نر راج لگانا میثاق جمہوریت کے تحت تھا ۔تحریک انصاف کے راجہ عامرزمان نے کہاکہ پی ٹی آئی سانحہ بلوچستان اور قائد اعظم کی زہائش گاہ پر دہشتگردی کی پروز مذمت کرتی ہے انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے اپنے اخراجات میں کٹوتی اور وزیر اعظم کے صوابدیدی فنڈز ختم کر نے کے اقدامات قابل ستائش ہیں انہوںنے مطالبہ کیا کہ حکومت سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد کی بجائے بیس فیصد اضافہ کرے انہوںنے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کو تاجروں نے ووٹ ڈالے مگر جی ایس ٹی میں اضافہ کاروباری طبقہ پر خود کش حملہ ہے حکومت ٹیکسوں میں اضافے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے انہوںنے کہاکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بے نظیر بھٹو کا نام نہ نکالا جائے کیونکہ ان کی جمہوریت کےلئے بے پناہ قربانیاں ہیں انہوںنے کہاکہ قوم کو بھکاری بنانے کی بجائے ایسے پروگرام شروع کئے جائیں جس سے لوگ اپنے پاﺅں پر کھڑے ہوسکیں ۔جے یو آئی (ف)کے سابق وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی نے کہاکہ اگر نئے ٹیکس ضروری ہیں تو حکومت صوبائی حکومتوں سے مل کر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بلا جواز اضافہ کو کنٹرول کر نے کے ا قدامات کرے ۔ ایاز سومرو نے صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے حوالے سے کہاکہ وفاقی حکومت کو پانی کی تقسیم کےلئے غیر جانبدارانہ اور منصفانہ پالیسی بنانی چاہیے ورنہ صوبوں اور وفاق کے درمیان جنگ شروع ہو جائے گی ۔

قومی اسمبلی

مزید : صفحہ اول