قومی سلامتی سے متعلق جامع پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے: آفتاب شیرپاﺅ

قومی سلامتی سے متعلق جامع پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے: آفتاب شیرپاﺅ
قومی سلامتی سے متعلق جامع پلان تشکیل دینے کی ضرورت ہے: آفتاب شیرپاﺅ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپائو نے کہا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق جامع پلان تشکیل دیا جائے، زیارت میں قائداعظم کی رہائش گاہ پر حملے کا واقعہ کوئی عام واقعہ نہیں، ہمیں ان وجوہات کو معلوم کرنا ہو گا جن سے ایسے حالات پیدا ہوئے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے آفتاب شیرپاﺅ نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کئے جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں، وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے، دونوں ملکوں کے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی سے منظوری کے بغیر سیلز ٹیکس کا نفاذ درست نہیں ، فاٹا اور دیگر علاقوں میں انڈسٹری کو دی جانے والی مراعات کے خاتمے کے اثرات پورے علاقے پر پڑیں گے۔ آفتاب شیر پاﺅ نے کہا کہ گزشتہ دور حکومت میں امن و امان پر کئی کل جماعتی کانفرنسیں ہوئیں، امن و امان کے حوالے سے ان کیمرہ کوئی بات نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کا نکتہ نظر سامنے آنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسا قومی سلامتی پلان تشکیل دیا جائے جس میں میڈیا، سول سوسائٹی سمیت تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اخراجات میں کمی کا اعلان احسن اور خفیہ فنڈز کا خاتمہ درست اقدام ہے۔ مالیاتی اہداف کا حصول اگر ممکن ہو تو یہ اہم پیش رفت ہو گی۔ حکومت کو تنخواہ دار طبقے کا خیال ضرور رکھنا چاہئے۔ ان کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کی بات ہوئی اگر اس پر عمل ہو جائے تو بہتر ہے۔ سیلز ٹیکس میں ایک فیصد اضافے سے بنیادی اشیاءضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جس کا براہ راست عوام پر اثر ہو گا جبکہ اسمبلی سے منظوری کے بغیر سیلز ٹیکس کا نفاذ درست نہیں اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ شیرپاو¿ نے کہا کہ فاٹا اور دیگر علاقوں میں انڈسٹری کو دی جانے والی مراعات کے خاتمے کے اثرات پورے علاقے پر پڑیں گے۔

مزید : اسلام آباد