انگلینڈ کا مشکل دورہ ، انضمام الحق اور مصباح الحق کے درمیان اختلافات سامنے آگئے

انگلینڈ کا مشکل دورہ ، انضمام الحق اور مصباح الحق کے درمیان اختلافات سامنے ...

 لاہور ( این این آئی) قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات سامنے آگئے ، چیف سلیکٹر انضمام الحق کی جانب سے انگلینڈ کے دورے میں مستقل اوپنر محمد حفیظ یا شان مسعود کی عدم دستیابی کی صورت میں نوجوان سمیع اسلم کے بجائے اظہرعلی سے اوپن کرانے کی دی گئی تجویز کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے مخالفت کر دی ہے۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق کا نقطہ نظر ہے کہ سمیع اسلم ناتجربہ کاری کے باعث شاید انگلینڈ کی کنڈیشنڈ کا سامنا کرنے کے قابل نہ ہوں اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ اظہر علی کو اوپنر کے طور پر رکھا جائے تاہم مصباح نے انضمام کو واضح طور پر کہا ہے کہ اگر چیف سلیکٹر کو سمیع اسلم کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ نہیں ہے تو انہیں اوپنر کے طور پر شامل نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر وہ منتخب ہو گئے تو نوجوان اوپنر کو انگلینڈ کے خلاف سیریز میں دوہری ذمہ داریاں دی جائیں گی۔محمد حفیظ کا ٹیسٹ ٹیم میں انتخاب بدستور ڈرامائی ہے جیسا کہ انہوں نے نہ تو کاکول بوٹ کیمپ میں شرکت کی اور نہ ہی لاہور میں مختصر تربیتی کیمپ میں حصہ لیا لیکن اس کے باوجود ان کا نام تاحال اسکواڈ میں شامل ہے۔محمد حفیظ اپنے طور پر گھٹنے کی انجری سے بحالی میں مصروف ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ ٹیم کی انگلینڈ روانگی سے قبل وہ مکمل فٹنس حاصل کرلیں گے۔یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مصباح اور انضمام دونوں کرکٹ کے حوالے سے کئی معاملات پر ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔چیف سلیکٹر اور کپتان کے درمیان عدم اتفاق کی بڑی وجہ ماضی میں پیش آنے والے واقعات ہیں جب 2003ء سے 2007ء تک کپتان انضمام، محمد یوسف اور دیگر ٹیم کے انتخاب میں مکمل اثرورسوخ کے حامل اور خود مختار تھے اور اس دور میں مصباح الحق، بازید خان، فیصل اقبال جیسے باصلاحیت چند اور کھلاڑیوں کو ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترین ریکارڈ کے باوجود اس دوڑ سے باہر رکھا۔اس کا نتیجہ ویسٹ انڈیز میں منعقدہ 2007ء کے ورلڈ کپ سے خوفناک انداز میں اخراج کی صورت میں نکلا۔اس تباہ کن دور کے بعد مصباح الحق نے بہترین کارکردگی کے ساتھ ٹیم میں مضبوط واپسی کی اور جلد ہی 2010ء میں ان کی کپتان کے طور پر ترقی ہوئی۔انہوں نے اپنے کپتانی کے پانچ سالوں میں عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور عبدالحفیظ کاردار جیسے بڑے کھلاڑیوں کے ریکارڈ کو پاش پاش کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں کامیاب ترین کپتان کا تاج پہن لیا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی