جموں وکشمیر میں آج پی ڈی پی کی نہیں بلکہ ناگپور کی حکومت چلتی ہے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ

جموں وکشمیر میں آج پی ڈی پی کی نہیں بلکہ ناگپور کی حکومت چلتی ہے سابق وزیر ...

سری نگر(کے پی آئی)نیشنل کانفرنس کے رہنما اور سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں آج پی ڈی پی کی نہیں بلکہ ناگپور کی حکومت چلتی ہے موجودہ حکومت نہ صرف عوامی امنگوں اور خواہشات پر کھرا اترنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے ریاست میں مذہبی منافرت پھیلانے اور لوگوں میں دوریاں بڑھانے کی مرتکب ہورہی ہے ۔ کے پی آئی کے مطابق سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جموں کے عوام سے آپسی بھائی چارہ اور امن و امان کو بنائے رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے جو کام حکمرانوں کو کرنا تھا وہ اپوزیشن کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخلوط اتحاد میں شامل دونوں جماعتیں الیکشن سے لیکر آج تک ریاستی عوام میں تفرقہ ڈال کر ذاتی مفادات حاصل کرنے میں لگی ہوئیں ہیں۔

ان دونوں جماعتوں نے ریاست میں فرقہ واریت کی ایسی ہوا چلائی ہے کہ اب چھوٹے چھوٹے معاملے پر بھی حالات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی سرپرستی والے مفادِ خصوصی رکھنے والے عناصر ہمیشہ چنگاری کو ہوا دیکر آگ کے شعلے بھڑکانے کی تاک میں ہوتے ہیں۔ قلم دوات جماعتیں کو ریاستی عوام کیلئے آستین کا سانپ قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ وہی جماعت نے جس نے الیکشن کے دوران فرقہ پرست بھاجپا کے قدم روکنے کیلئے ووٹ مانگے اور الیکشن کے بعد عوامی منڈیٹ کے عین برعکس بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے انہیں خود جموں وکشمیر پر حکمرانی کرنے کی دعوت دی۔ یہی وہے جہ ہے کہ جموں وکشمیر میں آج پی ڈی پی کی نہیں بلکہ ناگپور کی حکومت چلتی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ پی ڈی پی نے گذشتہ سال پہلی بار بھاجپا کے ساتھ اتحاد کرنے میں 3ماہ تک ڈھونگ رچایا اور پھر مفتی صاحب کے انتقال کے بعد بھی 3ماہ تک دوسری بار یہی ڈرامہ بازی رچائی گئی۔ آخر میں پہنچی وہیں پے خاک جہاں کا خمیر تھا کے مترادف قلم دوات جماعت زعفرانی رنگ میں رنگ گئی۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے دعوے کئے تھے کہ جب تک افسپا کی منسوخی اور بجلی پروجیکٹوں کی واپسی نہیں ہوتی تب تک وہ بھاجپا کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گی اور جب بھاجپا نے ہر ایک مطالبہ ٹھکرایا تو پی ڈی پی والوں نے عوام کو دکھانے کیلئے اپنے پارٹی صدر کی وزیرا عظم سے ملاقات کیلئے ایڈی چوٹی کا زور لگایا اور پھر اسی ملاقات کو بہانہ بناکر حکومت سازی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی ریاستی عوام کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہوئی ملاقات کی تفاصیل پیش کیوں نہیں کرتی، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ نریندر مودی نے ایسا کون کون سا مطالبہ پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی جس سے آپ مطمئن ہوگئیں، عوام جاننا چاہتے ہیں کہ نریندر مودی نے آپ کو ایسا کون سے آشیرواد دیا کہ آپ وزیر اعلی بننے کیلئے تیار ہوگئیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی نہ تو نئی دلی سے کچھ حاصل کرپائی اور نہ ہی حکومت بنانے کے بعد عوام کی راحت رسانی کیلئے کچھ کرپارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی کی کابینہ کے کچھ وزراجموں وکشمیر کا پرچم نہ تو اپنی گاڑی پر لہراتے ہیں اور نہ ہی اپنے دفاتر میں نہیں رکھتے ہیں، جو یہاں کے آئین کیخلاف ورزی اور عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

مزید : عالمی منظر