دوستی اپنے مفاد میں ہی کی جاتی ہے

دوستی اپنے مفاد میں ہی کی جاتی ہے
دوستی اپنے مفاد میں ہی کی جاتی ہے

  


پاکستان کو جس قسم کی صورت حال کا سامنا ہے ، بظاہر ایک ہی وقت میں کئی ممالک کی طرف سے ناکامی نظر آتی ہے۔ امریکہ، بھارت، ایران، افغانستان، سعودی عرب کیا سب ہی پاکستان کے خلاف ہو گئے ہیں۔ ایسا کیوں ہوا ہوگا ؟ کیا اس لئے کہ پاکستان کسی ہٹ دھرمی کا شکار ہے ، کسی خوش فہمی نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے؟ کیا کسی غلط فہمی نے جگہ بنالی ہے ؟ کیا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں ناکام رہا ہے ؟ کیا اس لئے کہ بھارت نے تیز رفتاری کے ساتھ پاکستان کے خلاف محاذ کھڑا کر دیا ہے۔ کیا اس لئے کہ پاکستان کو کسی خاص مقصد کے لئے تنہا کیا گیا ہے ؟ کیا اس ساری صورت حال کا فائدہ بھارت اٹھائے گا ؟ وہ کیا حاصل کرے گا ؟ پاکستان کے امریکہ، بھارت، افغانستان کے ساتھ تعلقات کی خصوصی نوعیت اس لئے ہے کہ یہ اکثر بگڑتے رہتے ہیں اور بہت کم مواقع پر پاکستان کے حق میں تبدیل ہوئے ہیں۔ البتہ ایران اور سعودی عرب پاکستان سے کیوں خائف ٖ ہیں؟ کتابوں میں حوالے تلاش کئے جائیں تو بہت کچھ ملتا ہے۔ قدم قدم پر امریکہ کا ایسا رویہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تو پاکستان کی خوش فہمی ہی تھی کہ امریکہ اس کا دوست ہے، وہ امریکہ کاا تحادی ہے۔پاکستان اسی غلط فہمی میں مبتلا رہا ہے امریکہ ثالثی کر کے پاکستان اور بھارت کے درمیان جو تنازعہ ہے اسے حل کرائے گا۔ امریکہ تو پاکستان کو کمیونسٹ ممالک خصوصا روس اور چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا، ہے اور رہے گا۔ اسی نکتہ کی بنیاد پر پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ہیں ۔ جب امریکہ پاکستان کو امداد میں گندم دے تو ہم اونٹوں کی گردنوں میں ’’شکریہ امریکہ‘‘ کے ہینڈ بل لگاتے ہیں۔ جب امریکہ ہمیں روس کے خلاف استعمال کرے تو ہم نتائج کی پرواہ کئے بغیر امریکہ کی لگائی ہوئی آتش نمرود میں کود جاتے ہیں۔ جہاد فی سبیل اللہ کو اپنا ایجنڈہ قرار دیتے ہیں۔ جب امریکہ کا مقصد پورا ہو جائے تو ہم اپنے ہی ہاتھوں سے جہاد فی سبیل اللہ کے نعرے پر قلعی کرتے ہیں۔ اس’’ دوستی‘‘ کے نتیجے میں ہمیں یہ حاصل ہوا کہ بھارت امریکہ کا منظور نظر ہوا۔ ہم یہ بات کئی وجوہ کی بنا پر نہیں سمجھ سکے ہیں کہ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کا خواہ مخواہ دوست نہیں ہوتا ہے۔ ہر ایک کے اپنے مفادات اور مقاصد ہوتے ہیں اور امریکہ تو اس سلسلے میں مشہور ہی نہیں بلکہ اس کے سفارتی اہل کار کھل کر اعتراف کرتے ہیں کہ ہماری دوستی ہمارے ملک کے مفادات کے تابع ہوتی ہے۔

ہمارے ساتھ 1971 میں بھی یہی کچھ ہوا تھا کہ بھارت نے روس کے ساتھ دوستی کی اور ہمارا تختہ کر دیا۔ ہم روس کے مشورے پر عمل در آمد کے لئے تیار ہی نہیں تھے۔ ہم انتظار میں ہی رہے کہ امریکہ ساتواں بحری بیڑا بھیج رہا ہے ، ہم انتظار ہی کرتے رہے اور بھارت نے پاکستان کو دولخت کر دیا۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کئی وجوہات خصوصاًکشمیر کی وجہ سے بہتر نہیں ہیں ۔ ہماری بعض حکومتوں خصوصا نواز شریف نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کی شعوری کوشش کی ۔ اس میں انہیں پہاڑ بھی چڑھنے پڑے لیکن چوں کہ بھارت نے اپنے دل میں جو گرہ باندھی ہوئی ہے وہ ڈھیلی نہیں پڑتی ہے ۔ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ یہ بحث بھی طویل ہی ہوگی کہ یہ تعلقات کیوں بہتر نہیں ہوتے۔ کوئی آپ کا گھر ٹکڑے ٹکڑے کردے، کوئی آپ کا پانی بند کر دے، کوئی آپ کے راستے میں کانٹے ہی بچھاتا رہے تو اس پڑوسی سے دوستی تو نہیں ہو سکتی۔بھارت سمجھتا ہے کہ پاکستان کشمیر کے مسلے پر کشمیریوں کا ساتھ دیتا ہے ۔ دنیا بھر میں تمام مہذب قومیں آزادی کی تحریکوں کی حمایت کرتی ہیں اور بھارت نے تو اقوام متحدہ میں تسلیم کیا ہوا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے ریفرنڈم کرائے گا ۔ لیکن بھارتی رہنماء نہرو ہوں یا نریندر مودی، کوئی بھی اس بات کے لئے تیار نہیں ہے۔ ایک ہی رٹ ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

پاکستان میں اندرونی خلفشار تو موجود ہی ہے جس کی وجہ سے شہری کہیں کا بھی ہو ، سب ہی پریشان ہیں۔ کاروباری طبقہ زیادہ ہی پریشانی میں اس لئے مبتلا ہے کہ ان کے مطابق گاہک ہی نہیں ہے۔ بڑے بڑے تاجر بھی گلہ کرتے ہیں کہ آمدنی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایک ایسی فضاء میں اٖفغانستان کی طرف سے پیدا کردہ صورت حال نے زیادہ ہی تشویش پیدا کردی ہے۔ طور خم پر گیٹ لگانے پر افغانستان کو اعتراض ہے ۔ وہ پاکستان کو یہ حق نہیں دینا چاہتا ہے کہ پاکستان کو یہ حق حاصل ہو کہ اس کی سرزمین پر کس نے قدم رکھے ہیں۔ پاکستان نے مہمان نوازی کر کے دیکھ بھی لیا اور بھگت بھی رہا ہے۔ افغانی ایسے مہمان ہوئے کہ گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ معروف بزرگ عبد الرحیم گڑوڑ شریف والے تو کہہ گئے ہیں کہ سندھڑی تجھے قندہار سے خطرہ رہے گا۔ افغانوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں جائدادیں بنالی ہیں، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بنا لئے ہیں، وہ لوگ پا کستانیوں کی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ایران میں چاہ بہار کے سلسلے میں معاہدہ ابھی زیر بحث ہی تھا کہ بھارتی وزیر اعظم کے دورہ امریکہ نے پاکستانیوں کی تشویش میں اضافہ کردیا۔ پاکستانی یہ بات کیوں نہیں سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے جیسا اب ہورہا ہے۔ ایو ب خان نے اپنی سیاسی سوانح حیات جس کا انگریزی نام Friends not masters ہے اور اس کے اردو زبان کے ترجمہ کا نام ’’ جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ ہے، میں آغاز میں ہی واضح طور پرلکھا ہے کہ ’’ ترقی پزیر ممالک کے باشندے دوستوں کی اعانت کے ضرور متمنی ہیں لیکن ایسی اعانت جو باہمی عز و وقار کی بنیاد پر استوار ہو، وہ دوستی چاہتے ہیں کیس کی بالا دستی تسلیم کرنا نہیں چاہتے‘‘۔ یہاں دوست سے مراد امریکہ ہی ہے۔ کتاب میں پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔ انہوں نے امریکی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔انہوں نے پاکستان کی وزارت خارجہ پر بھی تنقید کی جس نے کئی معاملات پر فو ج کا اعتماد حاصل نہیں کیا۔ سابق صدور جنرل پرویز مشرف اور آ صف علی زرداری امداد نہیں، تجارت (Trade, not aid) کا نعرہ لگاتے ہی رہ گئے۔ نائن الیون جسے امریکی ٹریڈ ٹاور پر حملے کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے، کے بعد پاکستان جس طرح امریکہ کا اتحادی بنا تھا ، صرف ایک ٹیلی فون کال پر پرویز مشرف نیند سے اٹھ کر امریکی وزیر خارجہ کو یقین دلا رہے تھے کہ پاکستان امریکہ کا اتحادی ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ دوستی کا درجہ چاہتا تھا اور امریکہ پاکستان کو ایک طفیلی ریاست کا درجہ دینے پر بھی تیار نہیں تھا۔ امریکہ میں حکمران اور پالیسی ساز یقین رکھتے ہیں کہ پاکستانی حکمران اور پالیسی ساز و ہی کچھ کریں گے جس کی خواہش امریکہ کرے گا۔ یہ ہی وہ یقین ہے جس نے دونوں ممالک کے تعلقات کو پنپنے نہیں دیا ہے۔ پاکستانی اشرافیہ کے اپنے بھی تقاضے ہیں جو پاکستان کے مفادات کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔

پاکستان کا المیہ رہا ہے کہ خارجہ پالیسی پر پارلیمنٹ میں کبھی کھل کر بحث نہیں کی جاتی ہے۔ خارجہ پالیسی کے امور کے خد و خال وزارت خارجہ اور فوج ہی طے کرتے ہیں۔ موجودہ حکومت کو اس لحاظ سے شدید تنقید کا سامنا ہے کہ وہ تین سال بعد بھی وزیر خارجہ مقرر نہیں کر سکی۔ اس سے قبل کی حکومت نے حنا ربانی کھر کو وزیر خارجہ مقرر کر دیا تھا۔ وہ بھی نام نہاد وزیر خارجہ تھیں۔ مشرف کے دور میں خورشید محمود قصوری وزیر خارجہ تھے۔ فیصلے تو سارے ہی پرویز مشرف کیا کرتے تھے ۔ پاکستان کیوں نہیں غور کرتا کہ خارجہ امور اس طرح طے کئے جائیں جو اس کے تقاضے ہیں اور جو پاکستان کے مفاد کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔ایوب خان نے اپنی کتاب میں خارجہ امور کے باب کا آغاز ہی اس جملے سے کیا ہے ’’ آزادی مفت ہاتھ نہیں آتی، اس کے لئے لڑنا پڑتا ہے۔ کوئی کسی کے لئے نہیں لڑتا، ہر ایک کو اپنی لڑائی خود لڑنی ہو تی ہے ‘‘۔ اسی نصیحت کو ذہن میں رکھ کر پاکستانی حکمرانوں کو تنی ہوئی رسی پر چلنا ہوگا۔

مزید : کالم