کیا انڈیا، پاکستان کو دوسرا بنگلہ دیش بنا رہا ہے؟

کیا انڈیا، پاکستان کو دوسرا بنگلہ دیش بنا رہا ہے؟
کیا انڈیا، پاکستان کو دوسرا بنگلہ دیش بنا رہا ہے؟

  


طورخم بارڈر پر ہفتہ ء جاریہ میں افواج پاکستان و افغانستان کے درمیان جو تین روزہ جھڑپیں ہوئیں، وہ پاکستان کے لئے غیر متوقع نہیں تھیں۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں ’’جنگ بندی‘‘ ہو گئی ہے اور دونوں اطراف سے سفید جھنڈے لہرا دیئے گئے ہیں۔ بعض اذہان میں پاکستان کی طرف سے سفید جھنڈا لہرانا گویا ایک نیم دلانہ اعترافِ شکست سمجھا جا رہاہوگا۔ لیکن احتیاط کا تقاضا یہی تھاجو پاکستان نے اختیار کیا۔ ہوا یہ ہے کہ پاکستان آرمی کے ایک حاضر سروس فیلڈ آفیسر (میجر) کی شہادت پوری پاکستان آرمی کے لئے باعثِ ننگ تھی اس لئے حکم دیا گیا کہ اس کا موثر جواب دیا جائے۔ ازراہِ مصلحت دونوں ممالک کے میڈیا نے وہ خبریں نشر/ شائع نہیں کیں جن میں 16افغان نیشنل آرمی سولجرز کی لاشیں قطار اندر قطار بکھری ہوئی تھیں اور 26ٹروپس شدید زخمی حالت میں پڑے تھے۔ پاکستان آرمی نے افغانستان کی سرحد کے اندر جا کر ایک خاصا بڑا قطعہ ء اراضی زیر تصرف کر لیا تھا۔بعض خبریں یہ بھی ہیں کہ وہ ایریا ابھی تک پاکستان آرمی کے قبضے ہی میں ہے اور ارادہ ہے کہ اس کو افغانستان دشمن طالبان کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ افغانستان کے اندر ہی سے افغانستان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں۔ افغان سولجرز کی لاشوں کی ویڈیو کلپ کسی نے سوشل میڈیا پر مجھے بھیجی اس لئے یہ خبر قارئین کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں۔ (واللہ اعلم)

دراصل انڈیا۔ امریکہ۔ افغانستان کے سہ گانہ اتحاد کا پلان آف ایکشن یہ تھا کہ طورخم بارڈر کو پہلے کی طرح کھلا رکھا جائے۔کسی سے سفری دستاویزات وغیرہ کا تقاضا نہ کیا جائے اور پاکستان کے دشمن عناصر کو بلا روک ٹوک اجازت ہو کہ وہ طورخم کی طرح کے سات دوسرے انٹری پوائنٹس کی راہ جہاں جی چاہے آ جا سکیں اور دہشت گردانہ کارروائیاں کر سکیں۔ اتوار (12جون 2016ء) کو افغانستان کی طرف سے پاکستانی سرحد کے 37میٹر اندر جو گیٹ تعمیر کیا جا رہا تھا اس کو روکنے کے لئے افغان سولجرزکا حملہ اس سہ گانہ اتحاد کے پلان کی ٹیسٹنگ کا گویا ایک لٹمس تھا۔ اس حملے کے اصل منصوبہ ساز انڈیا اور امریکہ تھے۔ جب ہمارے مشیرِ امور خارجہ نے ببانگ دہل کہہ دیا تھا کہ امریکہ ایک ’’خود غرض دوست‘‘ (Selfish Friend) ہے تو اس سے زیادہ سخت اور ترش کوئی اور لسانی تلمیح سفارت کارانہ لغت میں استعمال نہیں کی جا سکتی تھی۔ امریکہ (اور انڈیا) کا خیال تھاکہ افغانستان کی طرف سے کئے جانے والے اس حملے کا کوئی زیادہ سخت ردِعمل پاکستان کی جانب سے نہیں آئے گا۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ پاکستان کا جوابی وار کیاہوگا۔ لیکن جونہی اس حملے کی خبر آئی اور پھر میجر چنگیزی (11کیولری رجمنٹ) کی شہادت برسرعام ہوئی تو عوام کے دل و دماغ پر گویا ایک بجلی سی گر پڑی۔ فاٹا وغیرہ کے علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں اور طالبان کی طرف سے دہشت گردی کی جن سابق کارروائیوں میں پاک آرمی کے سپاہی سے لے کر جنرل آفیسر تک کے رینک کے سینکڑوں افرادِ عسکر شہید ہوئے وہ شہادتیں اور تھیں، ان کی وجوہات اور تھیں اور ان کے منظرنامے اور تھے۔ لیکن گزشتہ اتوار کے اس حملے میں جو کچھ ہوا وہ پوری پاکستانی قوم کی رسوائی کے قریب قریب جا پہنچا جس پر پاکستان آرمی نے بروقت جوابی وار کیا۔ آرٹلری، آرمر ،انفنٹری اوردوسرے آرمز کی یونٹوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس دریدہ دہنی کا منہ توڑ جواب دیں۔ جب یہ ’’کافی و شافی‘‘ جواب دیا جا چکا تو بعدازاں پاکستان نے سفید جھنڈا لہرایا۔ یہ فیصلہ ہماری طرف سے ایک مصلحت کوشانہ فیصلہ تھا۔ انڈیا اور امریکہ کو جواب مل گیا تھا کہ اگر اس قسم کی کارروائی کی دوبارہ کوشش کی گئی تو نیوکلیئر پاکستان کی طرف سے اس کا کیا جواب آئے گا۔

بعض ذرائع کے مطابق جونہی پاکستان آرمی افغانستان کو سزا دینے کے لئے کمربستہ ہوئی، پاک فضائیہ کو بھی الرٹ پر رکھ دیا گیا۔ کون نہیں جانتا کہ افغانستان میں جو 10800 امریکی فوج مقیم ہے اس کی غرض و غایت کیا ہے۔ اس موضوع پر راقم السطور ایک سے زیادہ کالموں میں لکھ چکا ہے کہ یہ ’’دس ہزاری فوج‘‘ افغان آرمی کو ٹریننگ دینے کے لئے نہیں رکھی گئی بلکہ اس کا مقصد ایک ’’عظیم تر گیم‘‘ کی شروعات کرنا ہے جس کے لئے طورخم بارڈر کو استعمال کیا گیا۔ امریکی فضائیہ کے ہمہ اقسام کے طیارے (بمبار، ریکی، فائٹر انٹرسیپٹر اور ٹرانسپورٹ وغیرہ) کابل و قندھار اور ہرات و شیندند میں موجود ہیں۔ امریکی پلان یہ بھی تھا (اور ہے) کہ اپنی اس فضائیہ کو ’’بوقتِ ضرورت‘‘ استعمال کرنے سے دریغ نہ کیا جائے۔ امریکہ اسی تاک میں تو ہمارے ہمسائے میں بیٹھا ہوا ہے۔ وہ اگرچہ عراق و لیبیا اور شام سے رسوا ہو کر نکل چکا ہے لیکن آج بھی وائٹ ہاؤس میں اوباما کے لباس میں ڈونلڈ ٹرمپ جلوہ فرما ہے!۔۔۔ اوپر اوپر سے اوباما، ٹرمپ کو لاکھ طعن و تشنیع کر لے لیکن اندر سے دونوں کا اسلام کے خلاف بالعموم اور پاکستان کے خلاف بالخصوص عسکری ڈاکٹرین ایک ہی ہے۔

ہمارے قارئین کی اکثریت شائد یہ حقیقت نہیں جانتی کہ آج کا افغانستان 2000ء سے پہلے کے افغانستان سے قطعی مختلف ہو چکا ہے۔ پورے 15برس تک ناٹو اور ایساف کی افواج وہاں مقیم رہیں اور بھارتی ’’را‘‘ کا دم چھلا بھی افغان قونصل خانوں میں بغل میں چھری رکھ کر ’’رام رام‘‘ کرتا رہا۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے میں افغانستان کا مغربی نصف حصہ بالکل بدل چکا ہے۔ آج وہاں سے پشتو، دری، فارسی اور انگریزی زبانوں میں 50سے زیادہ روزنامے شائع ہو رہے ہیں۔ درجنوں ٹی وی چینل ہیں جو امریکی اور انڈین اشاراتِ ابرو کے منتظر رہتے ہیں۔ مجھے چونکہ ان تینوں چاروں زبانوں سے کچھ نہ کچھ واقفیت ہے اس لئے ان کا روزانہ مطالعہ و مشاہدہ میرا معمول ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت کا ایک ہندو آئی ٹی انجینئر ’’گوگل‘‘ کا چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بھی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر کے میڈیا پر بھارت کا کیا میڈیائی اثرورسوخ اور کنٹرول ہوگا۔ بھارت کے اس سپوت کا نام سندر پچائی (Sunder Pichai) ہے۔ ڈیڑھ کروڑ ڈالر مشاہرہ پاتا ہے اور گزشتہ برس اس کے اثاثوں کا تخمینہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ تھا۔ وہ مدراس (موجودہ چنائی) میں دو کمروں کے ایک معمولی سے فلیٹ میں پیدا ہوا، وہیں پلا بڑھا اور تعلیم پائی ۔ بعد میں امریکہ چلا گیا ۔۔۔اور آج دیکھیں کیا ہے۔۔۔

سندر پچائی کی اس حیرت انگیز کارکردگی اور ترقی پر ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔

گوگل کے گلوبل تانے بانے اور میڈیائی اثرات کیا ہیں ان پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان میں اسی CEO (گوگل )کے دوستوں نے گزشتہ 15 برسوں میں میڈیا کلچر میں ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہی حال باقی شعبوں کا بھی ہے۔دو برس قبل PMA میں صدر اشرف غنی نے اپنے جو آٹھ کیڈٹ برائے ٹریننگ کاکول بھیجے تھے وہ بھارت کی انڈین ملٹری اکیڈمی (IMA) ڈیرہ دون میں بھیجے گئے، کیڈٹس کی تعداد کا عشر عشیر بھی نہیں تھے۔ علاوہ ازیں بھارت کے مختلف ٹیکنیکل اور پروفیشنل اداروں اور یونیورسٹیوں میں آج بیسیوں افغان طلبا و طالبات مختلف موضوعات و مضامین (Disciplines) مثلاً صنعت و حرفت، زراعت، جنگلات، معدنیات، کان کنی، میٹلرجی (دھات سازی) تعلیم، انفرمیشن ٹیکنالوجی وغیرہ میں زیر تربیت ہیں اور درجنوں فارغ التحصیل ہو کر واپس افغانستان جا چکی ہیں۔ جب صورتِ حال یہ ہو تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ افغانستان کے نصف مشرقی حصے میں جو پشتون آباد ہیں اور اُن میں سے بعض کے دلوں میں پاکستان کے لئے جو نرم گوشہ ہے ہم اس ’’گوشے‘‘ کو ایکسپلائٹ کرنے کے ’’مرض‘‘ میں کیوں مبتلا ہیں!

انڈیا اور امریکہ موجودہ پاکستان کو ایک دوسرا بنگلہ دیش بنانا چاہتے ہیں۔ ذرا 1970-71ء کے مشرقی پاکستان کی طرف لوٹئے اور درج ذیل مماثلات پر غور کیجئے:

1970-71-1 میں مشرقی پاکستان کے تین اطراف دشمن (بھارت) تھا اور چوتھی جانب خلیج بنگال کے پانی تھے۔ آج ہمارے مشرق میں انڈیا ہے اور مغرب میں افغانستان ہے اور دونوں دشمن ہیں۔۔۔ مغرب میں ایران بھی ہے۔جہاں کئی برس تک ایک حاضر سروس بھارتی نیول آفیسر بطور جیولر چاہ بہار میں مقیم رہا اور ایرانی انٹیلی جنس کو خبر تک نہ ہوئی۔ آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ بھارت، افغانستان اور ایران مل کر پچھلے دنوں ایک سہ ملکی معاہدہ کر چکے ہیں جس میں چاہ بہار کو گوادر کے جواب کے طور پر ڈویلپ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف چین سی پیک کے 46 ارب ڈالر سے گوادر۔ خنجراب روٹس کو تعمیر کر رہا ہے تو دوسری طرف انڈیا (نصف ارب ڈالر ہی کی مالی امداد سے سہی!) چاہ بہار۔ قندھار روٹ کو ڈویلپ کر رہا ہے۔۔۔ ایسے میں آپ خود فیصلہ کیجئے کہ ایران ہمارا کتنا دوست اور کتنا دشمن ہے۔ گزشتہ ماہ پاکستان نے ایران کو ایک خط لکھا تھا جس میں کلبھوشن اور اس کے ایک سہولت کار جو ’’را‘‘ کا ایجنٹ تھا، جس کا نام راکیش تھا اور جس نے رضوان کے عرفی نام سے چاہ بہار میں کل بھوشن سے رابطہ کر رکھا تھاکے بارے میں تحقیق کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کل اس خط کا جواب، ایران کے سفیر جناب مہدی ہنر دوست کے توسط سے ملا جو ہمارے وزیر داخلہ کے پاس ’’محفوظ اور مہر بند‘‘ ہے!۔۔۔ ایران کا یہ جواب دیکھ کر ہی اندازہ ہو سکے گا کہ وہ کس کے ساتھ ہے۔۔۔ انتظار کیجئے وزارتِ داخلہ کب اس خط کے مندرجات پبلک کرتی ہے۔

-2 1970-71ء میں بھی چین، مشرقی پاکستان کا شمالی ہمسایہ تھا اور آج موجودہ پاکستان کا بھی شمالی ہمسایہ ہے لیکن 1970-71ء میں چین نے ہماری کیا مدد کی تھی اور اب اس سے کیا توقع ہے ذرا اس پر بھی غیر جذباتی ہو کر غور کیجئے۔

-3 1970-71ء میں امریکہ اور روس بھارت کے ساتھ تھے اور آج بھی یہی حال ہے بلکہ آج تو امریکہ ہمارے سر پر آکر بیٹھا ہوا ہے۔پاکستان کو آج اپنی بقا کا جو دشوار چیلنج درپیش ہے، اس سے صرفِ نظر کرنا ہمارے لئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ آج پاکستان کی اندرونی اور بیرونی زبوں حالی کیا ہے، اقتصادیات کا گراف کہاں تک گرا ہوا ہے اور مستقبل میں ہمارے سنبھلنے کا کوئی امکان ہے بھی یا نہیں اس پر ایک الگ کالم کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضرور پڑھیں: ڈالر مہنگا ہو گیا

’’میڈیکل کور میں ایک نئی ڈویلپ منٹ‘‘ کی اگلی قسط پیر کو ملاحظہ فرمائیں

گزشتہ روز میرا جو کالم ’’میڈیکل کور میں ایک نئی ڈویلپ منٹ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اس کی دوسری قسط انشاء اللہ سوموار (20 جون 2016ء) کو ملاحظہ کیجئے۔۔۔ آج کا موضوع چونکہ زیادہ ضروری تھا اس لئے دوسری قسط روک لی گئی ہے۔

مزید : کالم