آپریشن ضربِ عضب کے دو سال

آپریشن ضربِ عضب کے دو سال

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے دو سال میں فوج نے دہشت گردوں سے4304کلو میٹر کا علاقہ کلیر کرایا، آپریشن میں490 فوجی شہید اور2013 زخمی ہوئے، جبکہ3500 دہشت گرد مارے گئے، 253ٹن دھماکہ خیز مواد پکڑا گیا، کراچی میں1200سے زائد دہشت گرد پکڑے اور مارے جا چکے ہیں۔ افغان چیک پوائنٹ پر سخت نگرانی کی جائے گی، طور خم سے بغیر دستاویزات کے کوئی نہیں آئے گا، بارڈر مینجمنٹ بہتر بنائی جا رہی ہے، طور خم پر گیٹ کی تعمیر کا فیصلہ فوج اور حکومت نے مل کر کیا۔ یہ کوئی نیا گیٹ نہیں ہے، بلکہ 2004ء میں بھی یہاں گیٹ موجود تھا، کوئی نہیں چاہتا کہ طور خم پر کشیدگی کا معاملہ طول پکڑے۔ آپریشن ضربِ عضب سے دہشت گردی کے واقعات، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کے واقعات میں کمی آئی ہے، آپریشن ضربِ عضب سے قبل مُلک میں دہشت گردی پھیلی ہوئی تھی۔ یہ آپریشن محض ایک آپریشن نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے، جس کا مقصد مُلک کو دہشت گردوں سے پاک کرنا ہے۔ طالبان ریاست کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے،لہٰذا دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، آپریشن شروع کرنے سے قبل افغانستان کو اعتماد میں لیا گیا۔ دہشت گردوں کے پاس پندرہ سال کے لئے دھماکہ خیز مواد موجود تھا، جس کو دہشت گردوں کے ساتھ ہی تباہ کر دیا گیا۔ قبائلی علاقوں سے افغان خفیہ ایجنسی اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا نیٹ ورک بھی پکڑا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن ضربِ عضب کے دو سال مکمل ہونے پر میڈیا بریفنگ میں یہ تفصیلات بتائیں۔

آپریشن ضربِ عضب سے پہلے دہشت گردی کا دائرہ مُلک بھر میں پھیل چکا تھا اور ہر دوسرے چوتھے روز کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی واردات ہو جاتی تھی، یہاں تک کہ دفاعی تنصیبات اور ہوائی اڈے بھی محفوظ نہ تھے۔ اِس تشویشناک صورتِ حال سے نکلنے کے لئے کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ اپنی نوعیت کے عجیب و غریب مذاکرات شروع کئے گئے، جلد ہی یہ اندازہ ہو گیا کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں، جوں جوں مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھتا گیا یہ محسوس کیا جانے لگا کہ ایسے بے سروپا مطالبات بھی کئے جا رہے ہیں، جو کوئی کمزور سے کمزور حکومت اور ریاست بھی نہیں مان سکتی، لیکن یہ مذاکرات کار نہ جانے کس دُنیا میں رہتے تھے کہ اُنہیں اپنی قوت پر بے جا اعتماد تھا۔ اب لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے یہ انکشاف کیا ہے کہ شمالی وزیرستان میں15سال کے لئے دھماکہ خیز مواد موجود تھا، غالباً اسے ہی وہ اپنی طاقت سمجھتے تھے، لیکن جب یہ اندازہ ہو گیا کہ مذاکرات بے کار اور وقت کا ضیاع ثابت ہوں گے تو حکومت اور فوج کی قیادت نے آپریشن ضربِ عضب کا فیصلہ کر لیا جو اب بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے۔

اِس آپریشن میں فوج کے افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں، شہادتوں کی یہ داستان ہماری تاریخ میں ہمیشہ جگمگ کرتی رہے گی۔ شروع شروع میں اِس آپریشن کو اگرچہ ڈی ٹریک کرنے کی کوشش کی جاتی رہی اور مذاکرات کی واضح ناکامی کے باوجود بعض سیاسی حلقے مذاکرات کی بے تکی گردان کرنے سے باز نہیں آئے، حالانکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ مذاکرات کے دوران بھی دباؤ ڈالنے کے لئے دہشت گردی کی چند بڑی بڑی وارداتیں کر ڈالی گئیں۔ ان حلقوں کی سوچ سو فیصد غلط ثابت ہوئی، لیکن اب تک انہوں نے اپنے طرزِ عمل اور طرز استدلال کی کمزوریوں کو تسلیم نہیں کیا اور جب اُن سے اس سلسلے میں کبھی سوال ہوتا ہے تو وہ سیدھے سبھاؤ اپنی حکمتِ عملی کی ناکامی کو تسلیم کرنے کی بجائے پھر حیلہ جوئیوں کی راہ پر نکل جاتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل باجوہ نے اپنی بریفنگ میں جو اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں اور اگر آپریشن ضربِ عضب کا بروقت فیصلہ نہ کیا گیا ہوتا تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ مُلک اور معاشرے کو کس اذیت ناک صورتِ حال سے گزرنا پڑتا، دہشت گردوں نے دورانِ آپریشن بھی پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر دیا اور معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا، مسلسل ناکامیوں کے بعد انہوں نے بچوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر لی، چند تعلیمی اداروں میں وارداتیں بھی کر ڈالی گئیں، لیکن اس کے سامنے بھی کامیابی سے بند باندھ لیا گیا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل اور فوج کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ وقت آ گیا ہے کہ قوم سکون کا سانس لے سکی ہے تاہم ہمارے پاس بروقت چوکنا، ہوشیار اور تیار رہنے کے سوا اب کوئی آپشن نہیں، کیونکہ خفتہ فتنے کسی بھی وقت جاگ سکتے ہیں اور اُن سے ہر وقت باخبر رہنے کی ضرورت ہے۔

آپریشن ضربِ عضب سے اس نتیجے پر بھی پہنچا جا سکتا ہے کہ درست اور دور رس فیصلے بروقت کرنے پڑتے ہیں اگر اُن میں تھوڑی سی تاخیر بھی ہو جائے تو اُن سے مطلوبہ نتائج بھی حاصل نہیں ہو پاتے، آپریشن سے پہلے کے چند ماہ کے واقعات کو اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے اور باریک بینی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو یہ احساس ہوتا ہے کہ مذاکرات کے پردے میں وقت حاصل کیا جا رہا تھا جسے بروقت فیصلے اور اقدام سے ناکام بنا دیاگیا، فیصلہ سازوں کی بصیرت کو اس پر داد دینی چاہئے یہی آپریشن تھا، جس کی وجہ سے بعض دہشت گردوں نے بھاگ کر افغانستان میں اپنی محفوظ پناہ گاہیں بنا لیں اور وہیں سے پاکستان کے اندر کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرتے رہے۔

اس صورت حال کی جانب متعدد بار افغان حکومت کی توجہ دلائی گئی۔ مُلّا فضل اللہ کی کارروائیوں سے بھی آگاہ کیا گیا،لیکن افغان حکومت ان کے خلاف کوئی موثر کارروائی نہ کر سکی، حتیٰ کہ امریکی فوج نے بھی کوئی ڈرون حملہ نہ کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے جس ڈرون کے ذریعے نوشکی میں ایک کار کا سو فیصد درست نشانہ لے لیا، اس کے ڈرون مُلّا فضل اللہ کو آج تک تلاش نہیں کر سکے، امریکی فوج اگر افغانستان میں دہشت گردوں کو نشانہ بناتی تو ممکن نہیں تھا کہ پاکستان سے بچ نکلنے والے دہشت گرد وہاں اپنے ٹھکانے بنانے میں کامیاب ہوتے، حالات کی ستم ظریفی ہے کہ جس افغانستان میں امن کے لئے پاکستان مسلسل کوششیں کر رہا ہے، اِسی افغانستان نے طور خم پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاکستانی میجرکو شہید کر دیا اور بیس اہلکاروں کو زخمی کر دیا، جس گیٹ کو متنازعہ بنایا گیا وہ پہلے بھی موجود رہ چکا ہے اور پاکستانی سرزمین کے اندر ہے، سفری دستاویزات کی چیک پوسٹ تو سرحد سے37کلو میٹر اندر ہے ایسے میں افغانستان کی شکایت اور اشتعال انگیزی سمجھ سے بالاتر ہے سوائے اس کے کہ بھارت نے افغانستان کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرنے کے لئے اس سے یہ اقدام کر ایا ہو، توقع کرنی چاہئے کہ افغان حکمران ہوش کے ناخن لیں گے اور پاکستان کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیوں سے باز رہیں گے۔

مزید : اداریہ