نیو ہوسٹل میں مشاعرہ

نیو ہوسٹل میں مشاعرہ

خوبصورت خیالات سے مہکی ایک حَسین شام کی روداد

فوادؔ ارشد : گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور

1922 ء میں قائم ہونے والی عمارت جسے اب بھی نیو ہاسٹل کے نام سے پکارا جاتا ہے ناصرف گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے طلباء کی اقامتی ضروریات کو پورا کر رہی ہے بلکہ طلباء کی غیر معمولی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے میں گورنمنٹ کالج کے شانہ بشانہ ہے ۔ ہوسٹل میں طلباء کو ہر قسم کی بنیادی سہولیات میسر ہیں اور نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کے لیئے نہایت ہی موزوں فضاقائم ہے۔ سپریٹنڈنٹ نیوہاسٹل پروفیسر خادم علی خان ایک ہمی جہت شخصیت ہونے کے ساتھ اپنی ذات میں انجمن ہیں۔ حال ہی میںآپ کی سربراہی میں بزمِ نذیر کے زیرِ اہتمام ایک شاندار بہاریہ مشاعرے کی چالیس سال پرانی روایت کو زندہ کیا گیا۔یہ مشاعرہ عظیم شاعر مصطفی زیدی کے نام کیا گیا جس کی صدارت نامور شاعر اور ادیب پروفیسر ڈاکٹرسعادت سعید نے کی جبکہ وارڈن نیو ہاسٹل پروفیسر اطہر حسین شاہ اور پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی مہمانِ خصوصی تھے۔

مشاعرے کی نظامت کے فرائض فوادؔ ارشد نے انجام دیئے۔ اس شاندار مشاعرے کو جن مایہ ناز شعراء نے اپنی شرکت سے وقار بخشا ان مہمان شعراء کرام میں حسن کاظمی ،بشیر احمد قادری ، احمدعلیم،شجاع الرحمن ڈوگر ، عدنان محسن ، عمران فیروز ،زوہیرؔ لطیف،مدثر سندرانہ، عدنان فاروق، محمد اویس جیسے قابلِ قدر نام شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ طالبعلم شعراء میں اسامہ ضوریز، الطاف طالب ، علی ظاہر ، فہد محمود سوختہ ؔ ، زوہیب عالم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

اسٹیج خوبصوت گاؤتکیوں سے مزّین تھا جہاں تمام شعراء کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے انہیں جلوہ افروز ہونے کی دعوت دی گئی۔بعد ازاں صدرِ مشاعرہ کے بدست تمام مہمانوں اور شعراء کی موجودگی میں شمع روشن کی گئی ۔مشاعرے کا مکمل دورانیہ از ابتداء تا انتہاء بڑے ہی با وقار انداز میں جاری و ساری رہا اس موقع پر مقیمانِ نیو ہاسٹل کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔شعراء کرام نے اپنا کلام اور نہایت ہی عمدہ اشعار سنا کرسامعین کے دل موہ لیے اور باذوق سامعین سے بھرپور داد وصول کی ۔

شعراء کرام کے منتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

سعادت سعید:

صندلیں زمیں اپنی مرمریں مکاں اپنا

کون مرنا چاہے گا چھوڑ کر جہاں اپنا

منحرف زباں سے ہم ہو گئے تو پھر کیا ہے

اس نے بھی تو بدلا ہے بارہا بیاں اپنا

ریزہ ریزہ سامنے ہرشکل کا منظر لگا

آئینے کے رخ پہ جیسے عکس کا پتھر لگا

حسن کاظمی:

ہم بھی موجود آپ بھی موجود

پھر بھی ہے کچھ نہ کچھ کمی موجود

پتھروں میں بھی دل دھڑکتا ہے

خاک میں بھی ہے زندگی موجود

تجربہ تجھ کو کہاں ہجرت کا

تم نے تو نقل مکانی کی ہے

ہم نے ہر بات کہی ہے لکھ کر

تم نے ہر بات زبانی کی ہے

علیم احمد :

کہا تھا اس نے جدائی کا مرحلہ ہوگا

جدا ہوا تو انا سے جدا ہوا میں بھی

کبھی میں اس کی دعاؤں میں بھی مسیحا تھا

پھر اس کے بعد قتیلِ دعا ہوا میں بھی

میں آنکھ بھر کے جسے دیکھ بھی نہیں پاؤں

میں اس کی یاد میں تنہا اداس پھرتا ہوں

عدنان محسن:

جگنو یہ پوچھتے تھے ہوا کو پکار کے

کیسا لگا ہے آ ج چراغوں سے ہار کے

اٹھے تھے ہر نگاہ میں حیرت بھرے سوال

نکلے تھے ہم بھی شہر میں خود کو سنوار کے

عمران فیروز:

جو کچھ ہوا کے ہاتھ میں تھا کر چکی ہوا

رستے نے تیرے پاؤں کو مٹنے نہیں دیا

سب ہاتھ اٹھا کے بول اٹھے کیا کمال ہے

میں چیختا رہا کہ یہ میں نے نہیں کیا

لٹکا رہا پرندہ ہو ا کی صلیب پر

کٹتے ہوئے شجر کی طرف دیکھتا رہا

زوہیر لطیف :

نظریں زمیں پہ گاڑ کے، دامن سنبھال کے

رکھے ہے حسنِ یاربھی ، عشوے کمال کے

اب تک تمہاری زلف پہ ٹھہرا ہوا ہوں میں

اوصاف لکھ رہا تھا، تمہارے جمال کے !!

یعنی بے کار سب حوالے گئے

اور ہم بزم سے نکالے گئے

دل نہ لگتا تھا دوستوں کے بغیر

یعنی دانستہ سانپ پالے گئے

عدنان فاروق:

اے رات ! لا میری آنکھیں میں پھر سے روتا ہوں

دن اختتام نہیں تھا ، فقط توقّف تھا !!

کشکول آنکھ کا ہے تو سکّے ہیں خواب کے

شاعر کے پاس کچھ نہیں جز اضطراب کے

محمد اویس :

مسجد کی دیوار پہ لکھا ہوتا ہے

مسجد کی دیوار پہ لکھنا ٹھیک نہیں

پہلے بڑھتے تھے فقط ہاتھ گریبان تلک

پھر کسی روز کسی جیب سے خنجر نکلا

آگے ڈر تھا کہ عدو میرا نہ جانے کیا ہے

وہ میرے سامنے آیا تو میرا ، ڈر نکلا

سپریٹنڈنٹ نیو ہاسٹل خادم علی خاں نے معزز شعراء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی آمد نے ہاسٹل کے ادبی ماحول کو خیرہ کر دیا ہے جس پر میں آپ سب شعراء اور مہمانانِ گرامی کا تہہ دل سے ممنون ہوں ۔ میں صدرِ بزمِ نذیر محمد عمیر اعوان اور مدیرِ پطرس محمد عمر نظامی کی کاوشوں کو سراہتا ہوں جن کی گراں قدر محنت اور خلوص کے بغیر یہ بزم اس آب و تاب سے نہ چمک پاتی ۔انشاء اللہ آئندہ ہر سال طلباء کی سماعتوں کو آ سودگی بخشنے کیلئے ادبی سرگرمیاں جاری رہیں گی۔

مشاعرے کے اختتام پر تمام شعراء اور مہمانوں کو بزمِ نذیر کی جانب سے یادگاری شیلڈ پیش کی گئی ۔ نیو ہاسٹل میں پھولوں سے مہکی ایک حَسین شام گہری ہو رہی تھی۔

مزید : ایڈیشن 2