پانامالیکس، مذاکرات ختم، اپوزیشن کی راہ ہموار، کیا تحریک چلے گی؟

پانامالیکس، مذاکرات ختم، اپوزیشن کی راہ ہموار، کیا تحریک چلے گی؟

تجزیہ: چودھری خادم حسین

موسم اپنی جگہ تغیر کا تاثر دے رہا ہے اور سیاسی محاذ پر اچانک سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ان میں بعض پراسرار اور اکثر کھلے حالات ہیں، فرزند راولپنڈی کو شاید اسلام آبادی ’’بابوں‘‘ پر اعتماد نہیں، یا ان سے مطمئن نہیں ہوئے تو وہ بدھ کو لاہور کا چکر لگا کر ایک پنتھ دو کاج والا کام کر گئے۔ لال حویلی والے شیخ رشید اچانک لاہور آئے اور یہاں کے ایک فائیو سٹار والے بابے سے مل کر تبادلہ خیال کرتے رہے اور ان سے مستقبل کا زائچہ بنوانے کی کوشش کی یہ تو معلوم نہیں ہوا کہ ’’بابے‘‘ نے کیا پیش گوئی کی اور فرزند راولپنڈی مطمئن بھی ہوئے یا نہیں۔ اگرچہ ایک ذریعے نے تو یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’’بابے‘‘ نے ملاقات ہی سے انکار کر دیا اور محترم کو مایوس ہونا پڑا، کسی نے پوچھا تو جواب تھا، میں لاہور آؤں تو اسی ہوٹل میں ٹھہرتا ہوں، اس لئے کسی ملاقات کے لئے نہیں آیا اس ذریعے کے مطابق اس’’بابے‘‘ کا حساب پہلے ہی شریفوں کے حق میں ہے۔ بہرحال یہ ملاقات ہوئی یا نہیں، فرزند راولپنڈی نے محترم ’’شیخ الاسلام ‘‘ سے ضرور مذاکرات کر لئے ان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا اور بعض خود ساختہ عطائی ’’نسخے‘‘ بھی تجویز کئے۔ حالانکہ حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری بذات خود ڈاکٹر اورشیخ الاسلام ہیں وہ تو خود مستقبل بتانے اور نسخے تجویز کرنے کے اہل ہیں، اسی لئے تو انہوں نے آج والے دھرنے میں اہم ترین اعلان اور لائحہ عمل دینے کا کہا ہے۔ شیخ رشید واپس راولپنڈی چلے گئے اب آج آئیں گے اور غالباً افطار اسی ہوٹل میں کرکے دھرنا میں شریک ہوں گے۔

اب کوئی بات ہو یانہ ہو، جیسا عرض کیا، کچھ سرگرمیاں تو ہو رہی ہیں، حکومتی ٹیم حزب اختلاف کی ٹیم کے ساتھ ٹی او آر کے مسئلہ پر نہ صرف یہ کہ ڈیڈ لاک ختم نہیں کر سکی بلکہ یہ مذاکرات ہی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گئے اور اب بظاہر دوبارہ شروع ہونے کے امکان نہیں۔ حکومتی بازو والے اور حامی کہتے ہیں کہ پاناما لیکس والا قصہ تمام ہوا۔ مخالف حضرات کی رائے مختلف ہے۔ ان کے مطابق حکومتی ٹیم نے انتہا پسندی کا مظاہرہ کرکے تحریک انصاف کو تحریک کا موقع دیا اور پیپلزپارٹی اس کے ساتھ شامل ہو سکتی ہے کہ اب تو خورشید شاہ بھی کہتے ہیں کہ بلاول اور عمران مل سکتے ہیں۔

تھوڑی سی مزیدتبدیلی پر غور کریں تو محسوس ہو گا کہ آئی ایس پی آر کی بریفنگ میں بہت واضح طور پر کہا گیا کہ ضرب عضب کو کامیابی ملی تاہم نیشنل ایکشن پلان کے بعض حصوں پر عمل نہیں کیا گیا اور جن شقوں کا ذکر کیا گیا ان کا تعلق حکومتی اقدامات سے ہے، یوں ایک واضح فرق نظر آ گیا ہے۔

ادھر سید خورشید شاہ سے میڈیا نے پوچھا اور وہ کہتے ہیں، ان ہاؤس تبدیلی سے ہمارا کیا تعلق یہ مسلم لیگ(ن) کا اندرونی مسئلہ ہے، اگر وہ کرنا چاہیں، کوئی بھی وزیراعظم بنیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا مریم نوازشریف کیسے بن سکتی ہیں ان کانام پاناما لیکس میں ہے۔ بات ایک طرف کی ہوتی تو پھر بھی کچھ کہا جاتا، یہاں تو ڈاکٹر عاصم کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ ایان علی دوبئی نہیں جا سکی اور ادھر بھی بات دور تک جاتی ہے کہ نیب کے پاس پیپلزپارٹی کے اہم حضرات کے ریفرنس بھی موجود ہیں۔

انہی حالات و واقعات میں شیخ الاسلام آٹھ ماہ کے بعد آ گئے، آتے ہی دھرنا پروگرام دے دیا اگرچہ طے تو یہی ہوا کہ دھرنا افطار سے سحر تک ہوگا، یہ اور کسی نے نہیں چودھری پرویز الٰہی نے بتایا ہے۔ ویسے توقع کے مطابق مسلم لیگ(ق) اور تحریک انصاف نے عوامی تحریک کے دھرنے کی حمائت کر دی اور پیپلزپارٹی نے شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے کارکن بھی شرکت نہیں کریں گے ، ہوئی علامتی ہوگی۔ دیکھیں آج افطار کے بعدغیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔ دھرنا تو سحری تک ہے، باقی اللہ جانے۔

وزیراعظم محمد نوازشریف کی صحت بہت بہتر ہے انہوں نے لندن میں رہائش پر طویل مشاورتی سیشن بھی کئے ہیں۔ بہتر رفتار اور ڈاکٹروں کا اطمینان ان کو اسلام آباد جلد بھی واپس لا سکتا ہے کہ یہاں بیٹھ کر آرام اور کام دونوں ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے لئے سیر صبح تو بہرحال لازم ہو چکی۔

باتیں شاہ جی کی

مزید : تجزیہ