خیبرایجنسی ،لنڈی کوتل میں کشیدگی سے کاروبار ی حضرات پریشان

خیبرایجنسی ،لنڈی کوتل میں کشیدگی سے کاروبار ی حضرات پریشان

خیبر ایجنسی ( بیورورپورٹ) لنڈی کوتل کے مقامی لوگ طورخم سرحد پر کشیدگی سے پریشان ہیں، ٹرانسپورٹروں اور کاروباری حضرات کا نقصان ہو رہا ہے ، امپورٹ اکسپورٹ کی مد میں قومی خزانے کوکروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے ، لوگ سرحد پر کشیدگی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ طورخم سرحد پر پانچویں روز بھی کرفیو نافذ رہا تاہم جنگ بندی برقرار رہی اور حالات نارمل دکھائی دےئے جبکہ طورخم سرحد بند ہونے سے ٹرانسپورٹ نہ چل سکی جس سے افغانستان کو اشیاء خورد و نوش و دیگر اشیاء کی ترسیل پانچ روز سے روکی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ذائع کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں اشیاء خوردونوش یا تو ناپید ہوچکی ہیں یا ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جس سے افغان شہری مشکل صورتحال سے دوچارہو چکے ہیں اور اسی انتظار میں ہیں کہ کب طورخم سرحد آمدو رفت کے لئے کھول دی جاتی ہے دوسری طرف یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پشاور کے آر ایم آئی اور نارتھ ویسٹ ہسپتال مریضوں سے خالی ہوچکے ہیں اور وہاں بھاری معاوضوں کے عوض کام کرنے والے ڈاکٹرز افغان مریضوں کی راہیں تھکتے ہیں لنڈی کوتل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کچھ دکانداروں نے بتایا کہ طورخم سر د بند ہونے سے ان کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے اور وہ معاشی بد حالی کے شکار ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پہلے ہول سیل کی مد میں وہ لاکھوں روپے کی اشیاء بیچتے تھے جبکہ سرحد بند ہونے سے ان کی سیل ہزاروں تک پہنچ چکی ہیں مقامی دکانداروں نے کہا کہ دو مسلمان پڑوسی ممالک کے مابین طورخم گیٹ جیسے معمولی مسئلے پر کشیدگی پیدا کرنا سمجھ سے بالاتر ہے انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو عوام کے مفاد میں فیصلے کر کے افہام و تفہیم سے کام لینا چاہئے تاکہ بہت بڑے نقصان سے بچا جا سکے ایک ٹیکسی ڈرائیور نے کہا کہ طورخم سرحد بند ہونے سے ہزاروں ٹیکسی گاڑیاں بے کار کھڑی ہیں جس کے نتیجے میں لنڈی کوتل میں ہزاروں خاندان خط افلاس کی طرف بڑھ رہے ہیں اسی طرح خاصہ دار فورس کے اہلکاروں سے معلوم ہوا کہ ان کے سرکاری لنگر خانے اور گھروں کے لنگر اس شاہراہ کی بدولت رواں دواں تھے اور اگر طورخم سرحد مذید بند رہی تو ان کی مشکل میں مذید اضافہ ہوگا اور اسی طورخم کشیدگی کی وجہ سے پشاور طورخم شاہراہ پر قائم چیک پوسٹیں بھی سنسان پڑی ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری اہلکاروں کی افطاریاں متاثر ہوچکی ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر