راضی نامہ کی بنیاد پر رہائی کا فیصلہ کالعدم، قتل کیس میں لیگی ایم این اے عابد رضا کی سزا بحال

راضی نامہ کی بنیاد پر رہائی کا فیصلہ کالعدم، قتل کیس میں لیگی ایم این اے عابد ...
راضی نامہ کی بنیاد پر رہائی کا فیصلہ کالعدم، قتل کیس میں لیگی ایم این اے عابد رضا کی سزا بحال

  


اسلام آباد (اے پی پی) سپریم کورٹ نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ گجرات سے قومی اسمبلی کے رکن عابد رضا کو راضی نامہ کی بنیاد پر رہائی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کی سزا بحال کر دی، عدالت نے مقدمہ لاہور ہائی کورٹ کو واپس بجھواتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ دو ماہ میں ملزم کی جانب سے سزاﺅں کیخلاف دائر اپیلوں پر فیصلہ کیا جائے۔ پانچ رکنی لارجر بنچ نے ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ ملزموں کے وکیل نے موقف اپنایا کہ مقتول کے خاندان سے ہمارا راضی نامہ ہوگیا ہے اور انہوں نے ہمیں معاف کر دیا ہے جس کے بعد ہم 302 کے الزام سے بری ہوچکے ہیں، اسلئے استدعا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے ہمیں بری کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا جائے۔ چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عدالت کی کسی سے ذاتی رنجش یا عناد نہیں لیکن یہ امر واضح ہے کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ میں آنے والے جرائم میں راضی نامہ نہیں ہو سکتا، عدالت نے راضی نامہ کی بنیاد پر رہائی کا فیصلہ کالعدم قرار دیدیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ الیکشن کے دوران ملزموں کی فائرنگ کے نتیجے میں چھ افراد قتل اور گیارہ زخمی ہوئے تھے جس کے نتیجے میں عابد رضا سمیت دیگر ملزموں کو ٹرائل کورٹ نے فوجداری ایکٹ کی دفعہ 302 اور اورانسداد دہشگردی کے ایکٹ کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت پھانسی کی سزائی سنائی تھی۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

بعدازاں ہائی کورٹ نے راضی نامے کی بنیاد پر ملزموں کو بری کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے عابد رضاکی انتخابی عذرداری کیس کی سماعت کے دوران اس وقت ملزموں کی بریت کا نوٹس لیا جب عدالت کے علم میں یہ بات لائی گئی۔ عدالت نے واضح کیاکہ انسداد دہشت گردی کے مقدمے میں کس طرح راضی نامہ نہیں ہو سکتا ہے۔ بعدازاں عدالت نے ازخود نوٹس کی حد تک مقدمہ نمٹاتے ہوئے عابد رضا سمیت چار ملزموں کو پانچ پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا بھی حکم دیدیا۔

مزید : اسلام آباد