بجٹ خسارہ 4.3 فیصد پر لے آئے، سینیٹ کی 86 تجاویز بھی منظور کر لیں، اس سال نان ٹیکس فائلرز کیلئے ٹیکسز مہنگے کر رہے ہیں: وزیر خزانہ

بجٹ خسارہ 4.3 فیصد پر لے آئے، سینیٹ کی 86 تجاویز بھی منظور کر لیں، اس سال نان ...
بجٹ خسارہ 4.3 فیصد پر لے آئے، سینیٹ کی 86 تجاویز بھی منظور کر لیں، اس سال نان ٹیکس فائلرز کیلئے ٹیکسز مہنگے کر رہے ہیں: وزیر خزانہ

  


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ترقی کا سفرجاری رکھیں گے،معیشت مزید تیزرفتاری سے ترقی کرے گی ، اس مرتبہ زیادہ تربجٹ تجاویزبراہ راست ٹیکس سے متعلق ہیں۔ بجٹ خسارہ 8.2 فیصد سے کم کر کے 4.3 فیصد پر لے آئے۔ 3 سال کے دوران افراط زرکی شرح 8.2 سےکم کر کے 4.3 فیصد پر لے آئے ہیں، وزیر اعظم کی وطن واپسی کے بعداراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے معاشی پالیسیوں پروسیع ترمشاورت کی اور بجٹ کے دوران قائمہ کمیٹیوں کا کردار اہم رہا جبکہ دونوں ایوانوں نے مثبت تجاویز دیں۔ اپوزیشن سے استدعا ہے کہ مستقبل کے معاشی روڈ میپ کے لیے تجاویز دے۔ بجٹ میں سینیٹ سے 139 سفارشات موصول ہوئیں جن میں سے 86 منظور ہوئی ہیں جبکہ 63 تجاویز ایسی ہیں جن پر فوری عملدرآمد ممکن نہیںہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ خسارہ 8.2 فیصد سے کم کر کے 4.3 فیصد پر لے آئے ہیں جبکہ فراط زر کی موجودہ شرح تین فیصد سے کم اور قیمتوں میں استحکام ہے ، بجٹ تجاویز میں مزید ترامیم پیش کروں گا۔ پٹرولیم مصنوعات پرٹیکس کی شرح مارچ 2013ءسے بھی کم ہے اور کوشش ہے کہ کہ روز مرہ استعمال کی اشیا ٹیکس سے مستثنیٰ رہیں۔

روزنامہ پاکستان کی خبریں اپنے ای میل آئی ڈی پر حاصل کرنے اور سبسکرپشن کیلئے یہاں کلک کریں

اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے براہ راست ٹیکسوں پرخصوصی توجہ دی ہے اور نان فائلرز کیلئے ٹیکسزکو مہنگابنایا جارہا ہے جبکہ کسانوں کی خوشحالی کیلئے بجٹ میں مزید مراعات کی تجویز بھی دیدی ہے، بجٹ سے متعلق غلط اعداوشمارپیش کرکے شکوک وشبہات پیدا کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پرتنقید کرنیوالے یاد رکھیں ، ماضی میں ایوارڈ16سال لاگورہا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر اعظم کی وطن واپسی کے بعداراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں میں بھی اضافہ کیا جائے گا جس پر اپوزیشن کی جانب سے شور اٹھانا شروع ہوا اور کہا جانے لگا کہ اراکین پارلیمینٹ کی تنخواہیں نہ بڑھائیں اس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کی تنخواہیں اراکین صوبائی اسمبلیوں سے بھی کم ہیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں