’اس پورے شہر کو ہی بلڈوز کردو‘ چین نے خطرناک حکم جاری کردیا، نیا مذہبی تنازعہ پیدا ہوگیا

’اس پورے شہر کو ہی بلڈوز کردو‘ چین نے خطرناک حکم جاری کردیا، نیا مذہبی ...
’اس پورے شہر کو ہی بلڈوز کردو‘ چین نے خطرناک حکم جاری کردیا، نیا مذہبی تنازعہ پیدا ہوگیا

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی حکومت نے صوبہ سیچوان (Sichuan)میں واقع دنیا کا سب سے بڑا مذہبی شہر تباہ کرنے کا حکم دے دیا ہے جس سے ملک میں ایک نیا مذہبی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس شہر کا نام لارنگ گر(Larung Gar) ہے اور یہ چین کے نیم خودمختار علاقے تبت میں واقع ہے۔ بنیادی طور پر یہ بدھ مت کے ماننے والوں کا شہر ہے جہاں ہزاروں کے تعداد میں بدھ راہب اور راہبائیں رہائش پذیر ہیں۔ چینی حکومت کی طرف سے اس شہر کے باسیوں کی تعداد5ہزار تک محدود رکھی گئی تھی تاہم یہاں آبادی اس سے بہت زیادہ بڑھ چکی ہے جس کے پیش نظر اسے مسمار کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔انتظامیہ کی طرف سے 8نکات پر مبنی ایک دستاویز جاری کی گئی ہے جس میں ان ہزاروں راہب اور راہباﺅں کی خانقاہیں مسمار کرکے کے انہیں شہر سے بے دخل کرنے اور شہر کی آبادی 5ہزار تک لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ tchrd.orgکی رپورٹ کے مطابق اس دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس شہر کو مسمار کرنے کا مقصد اس کے سٹرکچر اور انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا ہے۔

امریکہ کی بے بسی، چین پر اپنا غصہ نکالنے کیلئے ایسا کام کردیا کہ آپ کو بھی اس لاچارگی پر ہنسی آجائے گی

رپورٹ کے مطابق 2001ءمیں بھی چینی حکومت کی طرف سے ایسے ہی حکم نامے کے تحت کریک ڈاﺅن کیا گیا تھا اور سینکڑوں عمارتیں مسمار کی گئی تھیں۔اس دوران کئی بد راہب اور راہبائیں کریک ڈاﺅن کے صدمے سے ہی جاں بحق ہو گئے، متعدد نے خودکشی کر لی تھی اور کئی ذہنی خلفشار کا شکار ہو گئے تھے۔ اس شہر کے بڑے بدھ پیشوا خیمپو جگمے فنتسوک(Khenpo Jigme Phuntsok)بھی اس کریک ڈاﺅن کے بعد پراسرار حالات میں چینگ ڈو کے ہسپتال میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ حالیہ حکم نامے میں متعلقہ محکموں کو شہر کی آبادی 30ستمبر 2017ءتک 5ہزار کی سطح تک لانے کو کہا گیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی